اسلامی تاریخ میں ایسی بے شمار ہستیاں گزری ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کو زہد اور تقویٰ کی مثال بنایا۔ ان عظیم ہستیوں میں حضرت ابراہیم بن ادھم رحمہ اللہ کا نام نہایت عزت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو اللہ تعالیٰ کی محبت، تقویٰ، صبر، قناعت اور روحانی بلندیوں کا آئینہ دار ہے۔ آپ کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی خوشی اور سکون دولت، اقتدار اور دنیاوی آسائشوں میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قربت میں پوشیدہ ہے۔
حضرت ابراہیم بن ادھم کون تھے؟
حضرت ابراہیم بن ادھم آٹھویں صدی کے مشہور بزرگ، صوفی اور ولی اللہ تھے۔ آپ بلخ کے حکمران خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ بلخ اس زمانے میں علم، تجارت اور خوشحالی کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ آپ کے پاس وسیع سلطنت، بے شمار خادم، لشکر، خزانے اور ہر قسم کی دنیاوی نعمتیں موجود تھیں۔ ظاہری طور پر دیکھا جائے تو آپ کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کی آرزو لوگ زندگی بھر کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود آپ کے دل میں ایک عجیب بے چینی موجود تھی۔
محل کی چھت پر عجیب آواز
ایک رات حضرت ابراہیم بن ادھم اپنے شاہی محل کی چھت پر آرام فرما رہے تھے۔ اچانک انہیں چھت پر کسی کے چلنے کی آواز سنائی دی۔ آپ نے بلند آواز میں پوچھا کہ کون ہے؟ جواب آیا کہ میں اپنا اونٹ تلاش کر رہا ہوں۔ آپ حیران ہوئے اور فرمایا کہ بھلا کوئی شخص محل کی چھت پر اونٹ کیسے تلاش کر سکتا ہے؟ اس شخص نے فوراً جواب دیا کہ اور تم دنیا کے اس محل میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کو کیسے تلاش کر سکتے ہو؟
یہ الفاظ بجلی بن کر آپ کے دل پر گرے۔ وہ ساری رات اسی سوچ میں گم رہے۔ پہلی مرتبہ انہیں اپنی زندگی کی حقیقت کا احساس ہوا۔
بیداری کا لمحہ اور بادشاہت کا ترک
اگلے دن جب وہ دربار میں پہنچے تو شاہانہ رونقیں پہلے کی طرح موجود تھیں، مگر اب ابراہیم بن ادھم کی نظر بدل چکی تھی۔ انہیں محسوس ہوا کہ یہ سب چیزیں عارضی ہیں۔ دولت ختم ہو سکتی ہے، سلطنت چھن سکتی ہے، اور ایک دن موت ہر انسان کو اپنے ساتھ لے جائے گی۔ اسی احساس نے ان کے دل میں دنیا سے بے رغبتی پیدا کر دی۔ چند ہی دنوں بعد آپ نے اپنی سلطنت، خزانے، شاہی لباس اور تمام دنیاوی آسائشیں چھوڑ دیں اور سادہ لباس پہن کر اللہ تعالیٰ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔
راہِ حق کا مسافر
بادشاہت چھوڑنے کے بعد حضرت ابراہیم بن ادھم نے مختلف علاقوں کا سفر کیا۔ کبھی بیابانوں میں قیام کرتے، کبھی پہاڑوں میں عبادت کرتے اور کبھی اللہ کے نیک بندوں کی صحبت اختیار کرتے۔ آپ اکثر مزدوری کر کے اپنی روزی کماتے تھے۔ اگرچہ وہ پہلے ایک بادشاہ تھے لیکن اب اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا باعثِ عزت سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو ایسا سکون عطا فرمایا جو انہیں شاہی محلوں میں بھی حاصل نہ ہو سکا تھا۔
حقیقی بادشاہی کیا ہے؟
ایک مرتبہ کسی شخص نے حضرت ابراہیم بن ادھم سے پوچھا کہ آپ نے اتنی بڑی سلطنت چھوڑ کر کیا حاصل کیا؟ آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ میں نے دل کی بادشاہی حاصل کر لی۔ یہ مختصر سا جواب بہت بڑی حقیقت بیان کرتا ہے۔ دنیاوی بادشاہی انسان کو دوسروں پر حکمرانی دیتی ہے، لیکن روحانی بادشاہی انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے کی طاقت عطا کرتی ہے۔
حضرت ابراہیم بن ادھم کی شخصیت کے نمایاں اوصاف
- قناعت: آپ تھوڑے پر خوش رہتے تھے اور کبھی دنیاوی مال و دولت کی خواہش نہیں کرتے تھے۔
- توکل: آپ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے تھے۔
- عاجزی: بادشاہ ہونے کے باوجود آپ نے عاجزی اور انکساری کو اپنایا۔
- صبر: مشکلات اور آزمائشوں میں ہمیشہ صبر کا مظاہرہ کرتے تھے۔
- عبادت: آپ کا زیادہ وقت ذکر، دعا اور عبادت میں گزرتا تھا۔
نتیجہ
حضرت ابراہیم بن ادھم کی زندگی اسلام کی ان عظیم مثالوں میں سے ہے جو ہمیں دنیا کی حقیقت اور آخرت کی اہمیت یاد دلاتی ہیں۔ انہوں نے تخت و تاج، دولت اور اقتدار کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی محبت اور قرب کو اختیار کیا۔ آج کے دور میں جب انسان دولت، شہرت اور دنیاوی کامیابیوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے، حضرت ابراہیم بن ادھم کا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دل کے سکون، اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی تیاری میں ہے۔
حوالہ جات (References)
- حلیۃ الاولیاء — امام ابو نعیم اصفہانی
- تذکرۃ الاولیاء — امام فرید الدین عطار
- سیر اعلام النبلاء — امام ذہبی