
اندھے فقیر کی دعا — ایک ایسا واقعہ جو دل بدل دے
تعارف
اسلامی تاریخ میں ایسے بے شمار ایمان افروز واقعات موجود ہیں جو انسان کے دل کو نرم کر دیتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ اسلامی کہانی بھی ایک ایسے اندھے فقیر کی ہے جس کے پاس دنیا کی کوئی دولت نہیں تھی، مگر اس کا اللہ پر یقین اتنا مضبوط تھا کہ بڑے بڑے مالدار لوگ بھی اس کے سامنے خود کو غریب محسوس کرتے تھے۔
یہ واقعہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ صبر، توکل، شکر اور اللہ پر بھروسے کا سبق ہے۔ اگر آپ کبھی زندگی کے مسائل سے پریشان ہوئے ہوں، رزق کی تنگی محسوس کی ہو، یا دل بے سکون ہو، تو یہ واقعہ آپ کے دل میں امید کی نئی روشنی پیدا کر دے گا۔
اندھا فقیر جو ہمیشہ مسکراتا تھا
بغداد کی ایک پرانی مسجد کے باہر روزانہ ایک بوڑھا اندھا فقیر بیٹھا کرتا تھا۔ اس کے کپڑے سادہ تھے، ہاتھ میں ایک پرانا سا لکڑی کا عصا ہوتا، اور چہرے پر عجیب سا سکون دکھائی دیتا تھا۔
لوگ آتے جاتے اسے دیکھتے، کچھ لوگ چند سکے دے جاتے، کچھ بغیر دیکھے گزر جاتے۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ فقیر ہر وقت مسکراتا رہتا تھا۔
جو شخص بھی اس کے قریب بیٹھتا، وہ یہی کہتا:
“اللہ کافی ہے، بس اسی پر بھروسہ رکھو۔”
بعض لوگ اس کی بات سن کر متاثر ہوتے، اور کچھ دل میں کہتے:
“اس کے پاس ہے ہی کیا؟ شاید اسی لیے دنیا سے بے خبر ہے۔”
مگر حقیقت اس سے کہیں مختلف تھی۔
نوجوان تاجر کی پریشانی
اسی شہر میں حمزہ نام کا ایک نوجوان تاجر رہتا تھا۔ اس کی کپڑوں کی بڑی دکان تھی، کاروبار اچھا چلتا تھا، مگر وہ ہمیشہ پریشان رہتا۔
کبھی بازار کی فکر،
کبھی نقصان کا خوف،
کبھی مستقبل کی بے چینی۔
وہ رات بھر حساب کتاب کرتا مگر سکون پھر بھی نہ ملتا۔
ایک دن اس کا بڑا سودا خراب ہو گیا۔ اسے بہت نقصان ہوا۔ وہ شدید غم میں مسجد کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اسی اندھے فقیر کی آواز اس کے کانوں میں پڑی:
“جس کے پاس اللہ ہو، وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا۔”
حمزہ رک گیا۔
اس نے غصے میں کہا:
“بابا! یہ باتیں کرنا آسان ہیں۔ جب انسان پر مصیبت آتی ہے تو سب صبر بھول جاتا ہے۔”
فقیر مسکرایا اور بولا:
“بیٹا، تمہارا نقصان مال کا ہے یا دل کا؟”
حمزہ خاموش ہوگیا۔
ایک عجیب سوال
فقیر نے پوچھا:
“اگر اللہ تمہیں دو راستے دے —
ایک میں بہت مال ہو مگر سکون نہ ہو،
اور دوسرے میں کم مال ہو مگر دل مطمئن ہو،
تو تم کون سا راستہ چنو گے؟”
حمزہ نے فوراً جواب دیا:
“ظاہر ہے سکون والا۔”
فقیر ہنس پڑا۔
“پھر تم ساری زندگی مال کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہو؟”
یہ جملہ حمزہ کے دل میں اتر گیا۔
فقیر کا راز
اگلے دن حمزہ دوبارہ اس فقیر کے پاس آیا۔ اب اس کے دل میں تجسس تھا۔
اس نے پوچھا:
“بابا، آپ ہمیشہ خوش کیسے رہتے ہیں؟ آپ کے پاس نہ دولت ہے، نہ آنکھوں کی روشنی، پھر بھی آپ شکر کرتے رہتے ہیں۔”
فقیر نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا:
“میں اندھا ضرور ہوں، مگر ناشکرا نہیں ہوں۔”
پھر وہ آہستہ سے بولا:
“بیٹا، ایک وقت تھا جب میرے پاس بھی سب کچھ تھا۔ بڑا گھر، دکانیں، نوکر، عزت… مگر میں اللہ کو بھول گیا تھا۔ نمازیں قضا ہونے لگیں، غرور بڑھنے لگا، اور دل دنیا میں کھو گیا۔”
حمزہ خاموشی سے سنتا رہا۔
فقیر نے کہا:
“پھر ایک دن میری بینائی چلی گئی۔ چند مہینوں میں کاروبار بھی ختم ہو گیا۔ دوست الگ ہو گئے۔ رشتہ داروں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔”
حمزہ نے افسوس سے کہا:
“یہ تو بہت بڑی آزمائش تھی۔”
فقیر مسکرایا:
“نہیں بیٹا، اصل آزمائش تو وہ تھی جب میرے پاس سب کچھ تھا مگر میں اللہ سے دور تھا۔”
مسجد کی رات
ایک رات شدید بارش ہو رہی تھی۔ مسجد تقریباً خالی تھی۔ حمزہ بھی وہیں بیٹھا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اندھا فقیر تہجد میں رو رہا ہے۔
وہ بار بار ایک ہی دعا مانگ رہا تھا:
“یا اللہ! مجھے دنیا نہ دے اگر وہ تجھ سے دور کر دے۔”
حمزہ یہ سن کر حیران رہ گیا۔
وہ سوچنے لگا:
“میں تو ہمیشہ دنیا مانگتا رہا، مگر اللہ کو نہیں مانگا۔”
اسی رات پہلی بار اس نے سچے دل سے دعا کی۔
دل کا سکون
کچھ دنوں بعد حمزہ کی زندگی بدلنے لگی۔ اس نے نماز کی پابندی شروع کی، قرآن کی تلاوت کرنے لگا، اور غریبوں کی مدد بھی کرنے لگا۔
کاروبار اب بھی پہلے جیسا نہیں تھا، مگر دل پہلے سے زیادہ پرسکون تھا۔
ایک دن اس نے فقیر سے کہا:
“بابا، عجیب بات ہے۔ پہلے میرے پاس زیادہ مال تھا مگر سکون نہیں تھا، اب سکون ہے تو دل ہلکا لگتا ہے۔”
فقیر نے کہا:
“کیونکہ سکون مال سے نہیں، اللہ سے ملتا ہے۔”
آخری ملاقات
ایک صبح حمزہ مسجد پہنچا تو فقیر اپنی جگہ موجود نہیں تھا۔
اس نے لوگوں سے پوچھا:
“وہ بابا کہاں ہیں؟”
کسی نے جواب دیا:
“رات ان کا انتقال ہوگیا۔”
حمزہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
مسجد کے امام نے بتایا:
“مرنے سے پہلے وہ یہی کہہ رہے تھے:
‘اے اللہ! میں تجھ سے راضی ہوں، تو بھی مجھ سے راضی ہو جا۔’”
یہ سن کر حمزہ رو پڑا۔
ایک پرانا تھیلا
امام صاحب نے حمزہ کو ایک پرانا تھیلا دیا اور کہا:
“یہ بابا نے تمہارے لیے چھوڑا ہے۔”
حمزہ نے تھیلا کھولا تو اس میں کچھ نہیں تھا، صرف ایک پرچی تھی۔
اس پر لکھا تھا:
“بیٹا، دنیا ہاتھ میں رکھنا، دل میں نہیں۔ کیونکہ جو چیز دل میں آ جائے، وہ انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے۔”
حمزہ دیر تک اس جملے کو دیکھتا رہا۔
اسی دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی اللہ کی رضا کے مطابق گزارے گا۔
اس واقعے سے ملنے والے سبق
یہ اسلامی واقعہ ہمیں بہت سے اہم سبق دیتا ہے:
1۔ اصل سکون اللہ کی یاد میں ہے
دنیا کی دولت وقتی خوشی دے سکتی ہے، مگر دل کا سکون صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے ملتا ہے۔
2۔ آزمائش ہمیشہ نقصان نہیں ہوتی
بعض اوقات اللہ تعالیٰ بندے کو دنیا سے دور کرکے اپنے قریب کرنا چاہتا ہے۔
3۔ شکر انسان کو امیر بنا دیتا ہے
جو شخص ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، وہ حقیقت میں سب سے زیادہ مالدار ہوتا ہے۔
4۔ دنیا عارضی ہے
مال، کاروبار اور شہرت سب ختم ہو سکتے ہیں، مگر نیک اعمال ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔
قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
“بے شک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے۔”
— سورۃ الرعد: 28
یہ آیت اس پوری کہانی کا خلاصہ ہے۔
نتیجہ
اندھے فقیر کی یہ کہانی صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ہر اُس انسان کے لیے پیغام ہے جو دنیا کی دوڑ میں اپنا سکون کھو بیٹھا ہے۔
اگر دل بے چین ہو،
اگر زندگی میں پریشانیاں ہوں،
اگر سب کچھ ہونے کے باوجود سکون نہ مل رہا ہو،
تو اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔
کیونکہ جو شخص اللہ کو پا لیتا ہے، وہ کبھی خالی نہیں رہتا۔
نوٹ:
یہ ایک سبق آموز اسلامی کہانی ہے جو نصیحت اور اصلاح کے مقصد سے لکھی گئی ہے۔ اس کا کسی مستند تاریخی واقعہ یا حدیث سے براہِ راست تعلق نہیں۔
مزید پڑھیں :


