☪ بسم اللہ الرحمن الرحیم

درود شریف کی فضیلت: قرآن و حدیث کی روشنی میں محبتِ رسول کا عظیم ذریعہ

درود شریف اسلام کی ان عبادات میں سے ہے جو نہایت آسان ہونے کے باوجود بے پناہ اجر کی حامل ہے۔ یہ دراصل اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں، برکتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔ جب مسلمان درود شریف پڑھتا ہے تو وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرتا ہے، اور یہی محبت ایمان کی بنیادی شرط ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں درود شریف کی فضیلت، اس کے فوائد اور اس سے متعلق ایمان افروز واقعات بیان کریں گے۔

درود شریف کیا ہے؟

درود شریف کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے۔ اسلام میں یہ عمل محض ایک رسمی دعا نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے جس کے ذریعے بندہ ہللا تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے اور اس کے دل میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بڑھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء کرام نے درود شریف کو ایمان کی مٹھاس اور دل کی صفائی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

درود شریف کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سب سے مشہور ‘درود ابراہیمی’ ہے جو نماز کے تشہد میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مختصر درود جیسے ‘اللهم صل على محمد’ بھی نہایت آسانی سے کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ الفاظ سے زیادہ دل کی توجہ اور اخلاص اہمیت رکھتا ہے۔

قرآن مجید میں درود شریف کا حکم

“بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجا کرو۔” (سورۃ الاحزاب، آیت 56)

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ درود شریف پڑھنا ایک نہایت عظیم عمل ہے، کیونکہ خود اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ جب رب العزت خود اپنے محبوب پر درود بھیجتا ہے تو امتیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ بھی اس عمل میں شریک ہوں۔ یہ آیت اس بات کی بھی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس قدر بلند ہے۔

احادیث میں درود شریف کی فضیلت

احادیث مبارکہ میں درود شریف پڑھنے کی بے شمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم) ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتا ہوگا۔ (جامع ترمذی)

یہ احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ درود شریف صرف ایک معمولی عمل نہیں بلکہ اس کا تعلق براہِ راست روزِ قیامت کے قرب اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہے۔ جو شخص دنیا میں زیادہ درود پڑھتا ہے، وہ آخرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب ہوگا، جو کہ ہر مسلمان کی سب سے بڑی آرزو ہونی چاہیے۔

درود شریف پڑھنے کے روحانی اور دنیاوی فوائد

  • اللہ کی رحمت کا حصول: درود شریف پڑھنے والے پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت نازل ہوتی ہے۔
  • گناہوں کی معافی: درود شریف انسان کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے۔
  • دل کا سکون: درود شریف پڑھنے سے انسان کے دل کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
  • مشکلات میں آسانی: علماء کرام فرماتے ہیں کہ درود شریف کی کثرت انسان کی مشکلات کو آسان کر دیتی ہے۔
  • رشتوں میں محبت: جو گھرانہ اجتماعی طور پر درود کا اہتمام کرے، اس میں باہمی محبت اور برکت بڑھتی ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کا درود شریف سے محبت کا واقعہ

امام شافعی رحمہ اللہ کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد محبت رکھتے تھے اور کثرت سے درود شریف پڑھا کرتے تھے۔ روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ فرمایا کہ جب بھی وہ کسی مشکل میں گرفتار ہوتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھتے اور اللہ تعالیٰ ان کی مشکل آسان فرما دیتا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ درود شریف پڑھنا اللہ تعالیٰ کی مدد اور رحمت حاصل کرنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے، خاص طور پر اس وقت جب انسان کسی پریشانی میں مبتلا ہو اور اسے کوئی راہ نظر نہ آ رہی ہو۔

اسی طرح اسلامی تاریخ میں ایک اور مشہور واقعہ ملتا ہے کہ ایک نیک شخص کو زندگی میں بہت زیادہ پریشانیاں لاحق تھیں۔ وہ ہر وقت دعا کرتا تھا مگر اسے فوری سکون حاصل نہیں ہو رہا تھا۔ ایک عالمِ دین نے اسے نصیحت کی کہ وہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرے۔ اس شخص نے روزانہ سینکڑوں مرتبہ درود شریف پڑھنا شروع کر دیا، اور کچھ ہی دنوں میں اس کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی آ گئی، اس کی پریشانیاں کم ہونے لگیں اور معاملات آسان ہونے لگے۔

درود شریف کب پڑھنا چاہیے؟

درود شریف کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے، لیکن بعض اوقات ایسے ہیں جب اس کی خاص فضیلت بیان کی گئی ہے، جیسے نماز کے بعد، دعا کے شروع اور آخر میں، جمعہ کے دن، اور صبح و شام کے وقت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت کرنے کی تاکید فرمائی ہے، کیونکہ اس دن امت کا درود آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک خصوصی طور پر پہنچایا جاتا ہے۔

اسلام میں سب سے مشہور درود، درود ابراہیمی ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ یہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا درود ہے اور اسے روزمرہ زندگی میں بھی پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہیے، چاہے سفر میں ہوں، کام پر ہوں یا فارغ وقت میں بیٹھے ہوں۔ تھوڑی سی توجہ اور مستقل مزاجی سے یہ عمل زندگی کا حصہ بن سکتا ہے۔

نتیجہ

درود شریف ایک نہایت عظیم عبادت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو مضبوط بناتی ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں اس عمل کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ جو مسلمان کثرت سے درود شریف پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے گناہ معاف کرتا ہے اور اس کی مشکلات آسان فرما دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں درود شریف کو معمول بنا لیں اور روزانہ کثرت سے درود شریف پڑھیں تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے مستحق بن سکیں۔

حوالہ جات (References)

  • قرآن مجید — سورۃ الاحزاب، آیت 56
  • صحیح مسلم
  • جامع ترمذی
  • سنن ابی داؤد
  • سیر اعلام النبلاء
Abu Umar
Abu Umar
Islamic Urdu Hub کے مصنف۔ اسلامی علم و تعلیم کو آسان اردو زبان میں پیش کرنا ہمارا مقصد ہے۔