اسلامی تاریخ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا نام خاص طور پر نمایاں ہے۔ انہیں اسلامی تاریخ کا ایک ایسا خلیفہ مانا جاتا ہے جس نے اپنی زندگی کو سادگی، تقویٰ اور انصاف کا نمونہ بنا دیا تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اکثر لوگ پانچواں خلیفہ راشد بھی کہتے ہیں، کیونکہ ان کی حکومت میں عدل و انصاف کا وہی نظام نظر آتا تھا جو خلفائے راشدین کے دور میں قائم تھا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کون تھے؟
حضرت عمر بن عبدالعزیز اموی خلافت کے ایک عظیم خلیفہ تھے۔ آپ کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا اور آپ کی والدہ کا تعلق حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خاندان سے تھا۔ اسی وجہ سے آپ کے اندر عدل و انصاف اور حق پسندی کی صفات نمایاں تھیں۔ جب آپ خلافت کے منصب پر فائز ہوئے تو آپ نے اپنی زندگی کا انداز یکسر بدل دیا۔ پہلے جو زندگی شاہانہ انداز میں گزرتی تھی، اسے ترک کر کے آپ نے انتہائی سادہ زندگی اختیار کر لی۔
سادگی اور تقویٰ کا نمونہ
خلیفہ بننے کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز نے سب سے پہلے اپنے ذاتی اخراجات کم کر دیے۔ انہوں نے اپنی قیمتی سواری اور قیمتی لباس چھوڑ کر سادہ زندگی اختیار کر لی۔ کہا جاتا ہے کہ جب آپ خلیفہ بنے تو آپ نے فرمایا کہ مجھے دنیا کی حکومت نہیں چاہیے بلکہ میں اللہ کے سامنے جواب دہی سے ڈرتا ہوں۔ آپ کی یہ سوچ ظاہر کرتی ہے کہ وہ اقتدار کو ذمہ داری سمجھتے تھے، نہ کہ فخر کا باعث۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کی سادگی صرف لباس یا کھانے تک محدود نہ تھی بلکہ ان کے فیصلوں اور طرزِ حکومت میں بھی نمایاں تھی۔ وہ سرکاری وسائل کے استعمال میں اس قدر محتاط تھے کہ ذاتی ضرورت کے لیے بیت المال کا ایک پیسہ بھی استعمال کرنا گناہ سمجھتے تھے۔
عدل و انصاف کا مشہور واقعہ
ایک دن آپ سرکاری کام کر رہے تھے اور خزانے کے چراغ کی روشنی میں لکھ رہے تھے۔ اسی دوران آپ کے گھر کا ایک فرد ذاتی بات کرنے کے لیے آیا۔ جیسے ہی اس نے ذاتی گفتگو شروع کی، حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فوراً سرکاری چراغ بجھا دیا اور اپنا ذاتی چراغ جلا لیا۔ اس شخص نے حیران ہو کر پوچھا کہ آپ نے چراغ کیوں بدل دیا؟ آپ نے جواب دیا کہ پہلا چراغ بیت المال کا تھا اور ہم اس کی روشنی میں صرف سرکاری کام کر سکتے ہیں، ذاتی بات کے لیے اسے استعمال کرنا درست نہیں۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ بیت المال کے معاملے میں کتنے محتاط اور دیانت دار تھے۔ آج کے دور میں جہاں سرکاری وسائل کا ذاتی استعمال عام بات سمجھی جاتی ہے، یہ واقعہ ہر حکمران اور افسر کے لیے ایک آئینہ ہے کہ امانت داری کس قدر اہم ہے۔
عوام کے ساتھ ان کا رویہ اور فلاحی نظام
حضرت عمر بن عبدالعزیز عوام کے مسائل کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ وہ اکثر رات کے وقت لوگوں کے حالات جاننے کے لیے نکلتے تھے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کسی کو کوئی مشکل تو نہیں۔ اگر کسی علاقے میں کوئی مظلوم ہوتا تو آپ فوراً اس کی مدد کرتے اور ظالم کو سزا دیتے۔ اسی وجہ سے آپ کی حکومت میں لوگوں کو انصاف ملتا تھا اور معاشرے میں امن قائم تھا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور حکومت میں فلاحی نظام بھی بہت مضبوط تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں زکوٰۃ لینے والا کوئی غریب نہیں ملتا تھا، کیونکہ لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری ہو چکی تھیں۔ انہوں نے بیت المال کو عوام کی خدمت کے لیے استعمال کیا اور غریبوں، یتیموں اور مسافروں کی مدد کے لیے خاص انتظامات کیے۔
اس واقعے سے ملنے والے اہم اسباق
- حکمران کو انصاف پسند ہونا چاہیے۔
- بیت المال کو امانت سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔
- سادگی اور تقویٰ انسان کو اللہ کے قریب کر دیتے ہیں۔
- عوام کی خدمت کرنا ایک عظیم عبادت ہے۔
- اقتدار ذمہ داری ہے، فخر کی چیز نہیں۔
نتیجہ
حضرت عمر بن عبدالعزیز اسلامی تاریخ کے ایک عظیم حکمران تھے جنہوں نے اپنے کردار اور انصاف سے لوگوں کے دل جیت لیے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اقتدار کا اصل مقصد لوگوں کی خدمت اور انصاف قائم کرنا ہے۔ اگر آج کے حکمران بھی ان کے اصولوں کو اپنائیں تو معاشرے میں امن، عدل اور خوشحالی قائم ہو سکتی ہے۔
حوالہ جات (References)
- البدایہ والنہایہ — ابن کثیر
- سیر اعلام النبلاء — امام ذہبی
- تاریخ الطبری — امام طبری
- حلیۃ الاولیاء — ابو نعیم اصفہانی
