- دیباچہ: وہ گھر جسے تاریخ کبھی نہیں بھلا سکتی
- ہجرت کا پس منظر: مکہ سے مدینہ تک کا سفر
- اونٹنی کا فیصلہ: جہاں قسمت نے راستہ چنا
- گھر میں محبت اور ادب کا امتحان: نچلی منزل یا اوپری منزل؟
- پانی کے مٹکے کا واقعہ: ایک اور دل چھو لینے والا منظر
- کھانے کا واقعہ: پیاز، لہسن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نزاکت
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت اور ابو ایوب انصاری کی بے قراری
- قیام کا اختتام: مسجدِ نبوی کی تعمیر
- زندگی بھر کی وابستگی: ہر جنگ میں ساتھ
- آخری سفر: قسطنطنیہ کی دیوار کے سائے میں
- اس کہانی سے حاصل ہونے والے اسباق
- 1. مہمان نوازی محبت کا اظہار ہے
- 2. چھوٹے اعمال میں بھی بڑی برکت ہو سکتی ہے
- 3. ادب و احترام ایمان کا لازمی حصہ ہے
- 4. جذبۂ جہاد اور وفاداری عمر کی محتاج نہیں
- 5. اللہ کے راستے میں دی گئی محبت کبھی رائیگاں نہیں جاتی
- آج کے دور میں یہ کہانی کیوں اہم ہے؟
- عام سوالات (FAQs)
- خلاصہ کلام
دیباچہ: وہ گھر جسے تاریخ کبھی نہیں بھلا سکتی
ذرا تصور کیجیے اس منظر کا۔ ایک تھکا ہارا مسافر، جس نے اپنا وطن، اپنا گھر، اپنے پیارے، سب کچھ صرف اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیا ہو، ایک نئے شہر میں داخل ہو رہا ہے۔ گلیوں میں لوگ جوق در جوق نکل آئے ہیں، ہر کوئی چاہتا ہے کہ یہ مہمان اس کے گھر ٹھہرے۔ ہر گھر کا دروازہ کھلا ہے، ہر دل بے قرار ہے۔ اور پھر ایک اونٹنی، اپنی مرضی سے، ایک خاص گھر کے سامنے جا کر بیٹھ جاتی ہے۔ اس گھر کا مالک، خوشی سے نہال، دوڑ کر باہر آتا ہے اور کہتا ہے: “یا رسول اللہ! میرے گھر میں تشریف لائیے، یہ میری سب سے بڑی سعادت ہو گی۔”
یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ ایک سچا واقعہ ہے، اور یہ گھر تھا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر۔ یہ وہی مقدس گھر ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد اپنے قیام کا آغاز کیا۔ یہ کہانی محبت، مہمان نوازی، ادب و احترام اور قربانی کی ایک ایسی مثال ہے جسے پڑھ کر انسان کا دل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مزید گداز ہو جاتا ہے۔
آئیے، اس ایمان افروز داستان کو تفصیل سے پڑھتے ہیں۔
ہجرت کا پس منظر: مکہ سے مدینہ تک کا سفر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں تیرہ برس تک دعوتِ دین دی، مگر کفارِ مکہ کی مخالفت اور ظلم و ستم روز بروز بڑھتا گیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی، جسے پہلے یثرب کہا جاتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے ہمراہ تھے، اور یہ سفر خود ایک طویل داستان ہے جس میں غارِ ثور کا واقعہ اور راستے کی مشکلات شامل ہیں۔
مدینہ کے مسلمان، جنہیں انصار کہا جاتا ہے، کئی دنوں سے بے چینی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ روزانہ صبح سویرے وہ مدینہ سے باہر نکل کر اس راستے پر جا کھڑے ہوتے جہاں سے آپ کی آمد متوقع تھی، اور دوپہر کی گرمی بڑھنے تک انتظار کرتے، پھر مایوس ہو کر واپس لوٹ جاتے۔
بالآخر وہ دن آ گیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قباء کے مقام پر پہنچے۔ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے مدینہ میں پھیل گئی: “رسول اللہ آ گئے! رسول اللہ آ گئے!” لوگ اپنے گھروں سے نکل پڑے، بچے، بوڑھے، جوان، سب سڑکوں پر جمع ہو گئے تاکہ اپنی آنکھوں سے اس مبارک چہرے کا دیدار کر سکیں جس کا انہیں برسوں سے انتظار تھا۔
چند دن قباء میں قیام کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا مدینہ کا ہر گھرانہ منتظر تھا، کیونکہ ہر کوئی چاہتا تھا کہ یہ عظیم مہمان اسی کے گھر ٹھہرے۔
اونٹنی کا فیصلہ: جہاں قسمت نے راستہ چنا
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی “قصواء” پر سوار مدینہ کی گلیوں سے گزر رہے تھے تو ہر گھرانے کے سردار آگے بڑھ کر اونٹنی کی نکیل تھامنے کی کوشش کرتے اور عرض کرتے: “یا رسول اللہ! ہمارے پاس تعداد بھی زیادہ ہے، وسائل بھی، ہمارے ہاں تشریف لائیے۔” ہر کوئی یہ اعزاز اپنے نام کرنا چاہتا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار نہایت نرمی اور محبت سے یہی فرمایا: “اسے چھوڑ دو، یہ حکمِ الٰہی کی پابند ہے۔” آپ نے اونٹنی کی نکیل کسی کے ہاتھ میں دینے کے بجائے اسے آزاد چھوڑ دیا، یہ فیصلہ کرتے ہوئے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوگی، وہیں یہ خود بخود رک جائے گی، اور یوں کسی کی دل آزاری بھی نہ ہوگی۔
اونٹنی چلتی رہی، گلیوں سے گزرتی رہی، یہاں تک کہ وہ ایک خالی جگہ پر پہنچ کر خود بخود بیٹھ گئی۔ یہ جگہ دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی جو کھجوریں خشک کرنے کے کام آتی تھی، اور یہ عین اس جگہ کے قریب تھی جہاں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر تھا۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے جیسے ہی یہ دیکھا کہ اونٹنی ان کے گھر کے قریب بیٹھ گئی ہے، ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے بغیر کسی تاخیر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سامان اپنے گھر منتقل کر لیا، حالانکہ ابھی باقاعدہ دعوت یا اجازت بھی نہ لی تھی۔ ایسی محبت اور بے قراری تھی کہ انہیں انتظار کرنا گوارا نہ ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سامان کہاں رکھا جائے تو آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: “آدمی اپنے سامان کے ساتھ ہوتا ہے”، یعنی جہاں سامان چلا گیا، وہیں مہمان بھی ٹھہرے گا۔ یوں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو یہ عظیم اعزاز نصیب ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف فرما ہوئے۔
گھر میں محبت اور ادب کا امتحان: نچلی منزل یا اوپری منزل؟
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر دو منزلہ تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فوراً عرض کیا: “یا رسول اللہ! آپ اوپر کی منزل میں تشریف رکھیں، اور ہم نیچے رہیں گے، کیونکہ نیچے کی منزل مہمانوں کی آمدورفت کے لیے زیادہ آسان ہے۔”
مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نچلی منزل ہی زیادہ مناسب رہے گی، کیونکہ اس طرح لوگوں کا آنا جانا آسان ہوگا اور صحابہ کرام اور دیگر آنے والوں کو اوپر چڑھنے کی زحمت نہ ہوگی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نچلی منزل میں اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اوپر کی منزل میں رہنے لگے۔
یہاں سے وہ باب شروع ہوتا ہے جو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بے مثال محبت اور ادب کی گواہی دیتا ہے۔ پہلی ہی رات جب سب لوگ سو گئے تو ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو نیند نہ آئی۔ انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا: “سوچو تو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نیچے آرام فرما رہے ہیں، اور ہم ان کے سر کے اوپر چل رہے ہیں! یہ تو سراسر بے ادبی ہے۔ اگر ہم ذرا سا بھی حرکت کریں اور مٹی یا گرد نیچے آپ پر گر جائے تو یہ کتنی بڑی بے ادبی ہوگی۔”
یہ خیال آتے ہی ان کے دل کو چین نہ آیا۔ ساری رات وہ اور ان کی اہلیہ دیوار کے ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھے رہے، اس ڈر سے کہ کہیں ان کے چلنے پھرنے سے کوئی آواز یا گرد نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچ جائے۔ صبح ہوتے ہی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: “یا رسول اللہ! رات بھر ہمیں چین نہ آیا۔ ہم آپ کے اوپر چلنے کو مناسب نہیں سمجھتے، براہِ کرم آپ اوپر تشریف لے جائیں اور ہمیں نیچے رہنے دیں۔”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی محبت اور خلوص کو دیکھتے ہوئے، اور ان کی تسلی کی خاطر، ان کی یہ درخواست قبول فرما لی اور اوپر کی منزل میں منتقل ہو گئے۔
یہ کتنا خوبصورت منظر ہے۔ ایک میزبان اپنی راتوں کی نیند قربان کر رہا ہے، صرف اس فکر میں کہ کہیں اس کے مہمان کو، جو دراصل رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ یہ محبت کی وہ گہرائی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
پانی کے مٹکے کا واقعہ: ایک اور دل چھو لینے والا منظر
اسی قیام کے دوران ایک اور واقعہ پیش آیا جو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ کی حساسیت اور ادب کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک رات ان کے گھر کا پانی کا مٹکا، جو اوپر کی منزل میں رکھا تھا، اچانک ٹوٹ گیا یا اس میں سے پانی رسنے لگا۔
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ کو فکر لاحق ہوئی کہ کہیں یہ پانی رِس کر نیچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمرے میں نہ ٹپکنے لگے۔ اس فکر میں انہوں نے اپنا واحد کمبل یا چادر، جو ان کے پاس موجود تھی، اس پانی کو جذب کرنے کے لیے استعمال کر لی، تاکہ ایک قطرہ بھی نیچے نہ گرے۔ وہ خود بغیر کمبل کے سردی میں رات گزارتے رہے، مگر انہیں یہ گوارا نہ تھا کہ ان کے پیارے مہمان کو ذرا سی بھی تکلیف پہنچے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی محبت اور مہمان نوازی کیا ہوتی ہے۔ یہ صرف کھانا کھلا دینا یا رہائش فراہم کر دینا نہیں، بلکہ اپنے آرام اور سکون کو قربان کر کے مہمان کی ہر چھوٹی بڑی تکلیف کا خیال رکھنا ہے۔
کھانے کا واقعہ: پیاز، لہسن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نزاکت
ایک اور دلچسپ واقعہ اس دوران پیش آیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفاست اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی محبت دونوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک دن حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں کھانا تیار ہوا جس میں پیاز یا لہسن جیسی تیز مہک والی سبزی شامل تھی۔ کھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کھانے میں سے یہ خاص مہک آ رہی ہے۔ آپ نے دریافت کیا کہ کیا اس میں یہ سبزی شامل ہے۔ جب اثبات میں جواب ملا تو آپ نے وہ کھانا اپنے کسی صحابی کی طرف بڑھا دیا اور خود تناول نہ فرمایا۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے پریشان ہو کر عرض کیا: “یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟” آپ نے فرمایا: “نہیں، یہ حرام نہیں، لیکن مجھے اس کی بو ناپسند ہے کیونکہ میں فرشتے سے ہمکلام ہوتا ہوں (وحی کا نزول ہوتا ہے)۔”
یہ سن کر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ سے عہد کر لیا کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف فرما ہیں، وہ خود بھی کبھی ایسی چیز نہیں کھائیں گے جس کی بو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرے، تاکہ اگر کبھی قریب جانا پڑے تو کوئی بو نہ آئے۔ یہ چھوٹی سی بات، مگر اس میں محبت اور ادب کی کتنی گہرائی پنہاں ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت اور ابو ایوب انصاری کی بے قراری
مدینہ پہنچنے کے بعد، جیسا کہ اکثر نئے شہر کی آب و ہوا کے ساتھ ہوتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور کئی مہاجرین کو بخار اور بیماری نے آ لیا۔ ایسے میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بے چینی اور خدمت گزاری اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔
وہ ہر وقت اس فکر میں رہتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف تو نہیں، کھانے پینے کا معقول انتظام ہے یا نہیں، آرام میسر ہے یا نہیں۔ ان کی اہلیہ بھی اسی جذبے سے خدمت میں مصروف رہتیں۔ یہ وہ دور تھا جب انصار مدینہ نے اپنے مہاجر بھائیوں کے ساتھ ایسی محبت اور ایثار کا مظاہرہ کیا جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں کم ہی ملتی ہے، اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اس محبت کی سب سے نمایاں علامت تھے۔
قیام کا اختتام: مسجدِ نبوی کی تعمیر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً سات ماہ تک حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں مقیم رہے۔ اس دوران مسجدِ نبوی کی تعمیر کا کام جاری رہا، جو اسی جگہ تعمیر کی گئی جہاں اونٹنی بیٹھی تھی۔ ساتھ ہی ازواجِ مطہرات کے حجرے بھی تعمیر کیے گئے۔
جب یہ تعمیرات مکمل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ نبوی سے متصل اپنے حجروں میں منتقل ہو گئے۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے لیے یہ ایک طرح سے جدائی کا لمحہ تھا، مگر ساتھ ہی وہ اس بات پر بھی مطمئن تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اب ایک مستقل اور باقاعدہ رہائش میسر آ گئی ہے۔
مگر یہ رشتہ، جو ان چند مہینوں میں پروان چڑھا، کبھی ختم نہ ہوا۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ باقی زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب رہے، اور آپ کے ساتھ ہر چھوٹے بڑے غزوے میں شریک ہوتے رہے۔
زندگی بھر کی وابستگی: ہر جنگ میں ساتھ
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق محض میزبانی تک محدود نہ رہا۔ وہ ایک بہادر اور مخلص مجاہد بھی تھے۔ روایات کے مطابق انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں ہونے والے تقریباً ہر غزوے میں شرکت کی، غزوہ بدر سے لے کر بعد کی تمام لڑائیوں تک۔ ان کا جذبہ ایسا تھا کہ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود بھی وہ جہاد سے پیچھے نہ ہٹتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی ان کا یہی جذبہ برقرار رہا، اور انہوں نے خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی مختلف مہمات میں حصہ لیا۔
آخری سفر: قسطنطنیہ کی دیوار کے سائے میں
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی زندگی کا آخری باب بھی اسی جذبۂ جہاد کی گواہی دیتا ہے۔ نہایت عمر رسیدہ ہونے کے باوجود، جب مسلمانوں کی ایک فوج روم کے دارالحکومت قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی طرف روانہ ہوئی، تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی اس مہم میں شریک ہوئے۔
اس سفر کے دوران وہ سخت بیمار پڑ گئے۔ ان کے ساتھی امیر لشکر نے ان سے پوچھا کہ ان کی کیا خواہش ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وہ الفاظ کہے جو ان کے ایمان اور جذبۂ جہاد کی بلندی کو ظاہر کرتے ہیں: “جتنا ممکن ہو سکے، دشمن کی سرزمین میں آگے بڑھو، اور مجھے وہیں دفن کر دینا۔”
انہوں نے وصیت کی کہ ان کی قبر دشمن کے قلعے کی دیواروں کے قریب ترین مقام پر بنائی جائے۔ ان کی وفات ہو گئی اور مسلمان فوج نے، دشمن کی سرزمین کے قریب ترین مقام پر، احتراماً ان کی وصیت کے مطابق انہیں دفن کیا۔
یہ کتنی عظیم بات ہے کہ جس شخص نے اپنی جوانی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کی سعادت پائی، اسی شخص نے اپنی بڑھاپے کی آخری سانسیں بھی اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے قربان کر دیں۔ ان کی قبر آج بھی استنبول میں موجود ہے اور “ایوب سلطان” کے نام سے معروف ہے، جو صدیوں سے مسلمانوں کے لیے زیارت اور عقیدت کا مرکز ہے۔
اس کہانی سے حاصل ہونے والے اسباق
1. مہمان نوازی محبت کا اظہار ہے
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی مہمان نوازی محض رسمی خدمت نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے کی جانے والی محبت اور احترام کا اظہار ہے۔
2. چھوٹے اعمال میں بھی بڑی برکت ہو سکتی ہے
پانی کے مٹکے کا واقعہ، رات بھر دیوار سے لگ کر بیٹھے رہنا، یہ سب چھوٹے چھوٹے اعمال تھے، مگر ان میں محبت اور اخلاص کی ایسی گہرائی تھی جس نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
3. ادب و احترام ایمان کا لازمی حصہ ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اوپر چلنے کو معیوب سمجھنا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ادب و احترام محض ظاہری رسم نہیں بلکہ دل کی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔
4. جذبۂ جہاد اور وفاداری عمر کی محتاج نہیں
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا بڑھاپے میں بھی جہاد کے لیے روانہ ہونا اور دشمن کی سرزمین میں دفن ہونے کی خواہش، یہ سبق دیتا ہے کہ ایمان اور وابستگی کبھی عمر کے ساتھ کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے۔
5. اللہ کے راستے میں دی گئی محبت کبھی رائیگاں نہیں جاتی
ایک عام سے انصاری صحابی کا گھر، جو کبھی صرف ایک عام رہائش گاہ تھا، آج تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب ہے، صرف اس لیے کہ اس گھر کے مکین نے اللہ کے رسول سے بے پناہ محبت کی۔
آج کے دور میں یہ کہانی کیوں اہم ہے؟
آج کے تیز رفتار اور خودغرضی کے دور میں، جہاں مہمان نوازی کا تصور اکثر رسمی اور دکھاوے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی کہانی ہمیں حقیقی معنوں میں مہمان نوازی اور محبت کا سبق دیتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اپنے مہمانوں، اپنے والدین، اپنے بزرگوں اور اپنے پیاروں کی خدمت میں دل و جان لگا دینا ہی حقیقی محبت کی نشانی ہے۔
اسی طرح یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کے کسی بھی مرحلے میں، چاہے وہ جوانی ہو یا بڑھاپا، اللہ کے دین کی خدمت اور اس سے محبت کبھی ختم نہیں ہونی چاہیے۔
عام سوالات (FAQs)
سوال: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کون تھے؟ جواب: وہ مدینہ منورہ کے ایک انصاری صحابی تھے جن کے گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد تقریباً سات ماہ تک قیام فرمایا۔
سوال: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر کیوں ٹھہرے؟ جواب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی، اللہ کے حکم کے مطابق، خود بخود ان کے گھر کے قریب بیٹھ گئی تھی، اور آپ نے اسی جگہ کو اپنے قیام کے لیے منتخب فرمایا۔
سوال: پانی کے مٹکے والا واقعہ کیا ہے؟ جواب: ایک رات پانی کا مٹکا خراب ہو گیا تو ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ نے اپنا کمبل استعمال کر کے پانی کو نیچے ٹپکنے سے روکا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
سوال: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا انتقال کہاں ہوا؟ جواب: ان کا انتقال قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی مہم کے دوران ہوا، اور ان کی خواہش پر انہیں دشمن کے قلعے کی دیوار کے قریب ترین مقام پر دفن کیا گیا۔
سوال: اس کہانی سے کیا سبق ملتا ہے؟ جواب: یہ کہانی مہمان نوازی، ادب و احترام، اور اللہ کے دین سے تاحیات وابستگی کا زبردست سبق دیتی ہے۔
خلاصہ کلام
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی کہانی محبت، ایثار اور مہمان نوازی کی ایک ایسی مثال ہے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ ایک عام سے گھر کے مالک نے اپنی محبت اور خدمت سے وہ مقام پایا کہ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان ان کے نام اور ان کی قبر کو عزت و احترام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے دین اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت انسان کو کس بلند مقام تک پہنچا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی محبت، ایسا اخلاص اور ایسی وفاداری عطا فرمائے، آمین۔
یہ مضمون سیرت النبی کی معروف اور معتبر روایات پر مبنی ہے۔ مزید تفصیلی مطالعے کے لیے سیرت کی مستند کتابوں سے رجوع کریں