مرکزی مواد پر جائیں
☪ بسم اللہ الرحمن الرحیم

سو قتل کرنے والے شخص کی توبہ – اللہ کی رحمت کی سب سے بڑی

دیباچہ: کیا آپ کبھی سوچتے ہیں کہ آپ کے گناہ معافی کے قابل نہیں؟

کیا کبھی آپ کے دل میں یہ خیال آیا ہے کہ “میں نے اتنے گناہ کر لیے ہیں کہ اب اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا”؟ کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ توبہ کا دروازہ آپ کے لیے بند ہو چکا ہے؟ اگر ہاں، تو یہ کہانی خاص طور پر آپ کے لیے ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا سچا واقعہ بیان فرمایا جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے، اور جسے پڑھ کر ہر مایوس دل میں امید کی ایک نئی کرن روشن ہو جاتی ہے۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے شخص کی جس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا، پھر ایک عالم کے غلط مشورے پر سو کا ہندسہ بھی پورا کر دیا، مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر اس قدر جوش میں آئی کہ اسے معاف کر دیا گیا۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی بھی گناہ سے بڑی ہے، اور جب تک انسان کے دل میں سچی توبہ کی تڑپ باقی ہے، اس کے لیے امید کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ آئیے اس ایمان افروز واقعے کو تفصیل سے پڑھتے ہیں۔


واقعہ کا آغاز: ننانوے قتل کرنے والا شخص

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ گزشتہ امتوں میں سے ایک شخص تھا جس نے ننانوے انسانوں کو قتل کر رکھا تھا۔ اس کی زندگی گناہوں، خون ریزی اور ظلم سے بھری ہوئی تھی۔ لیکن ایک دن، نہ جانے کیسے، اس کے دل میں ایک عجیب سی تبدیلی آئی۔ شاید وہ اپنے کیے پر پچھتانے لگا، شاید اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ زندگی یونہی گناہوں میں نہیں گزرنی چاہیے۔ اسے یہ احساس ہونے لگا کہ اسے اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے۔

مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ توبہ کیسے کی جاتی ہے، اور کیا اس جیسے شخص کے لیے، جس نے ننانوے قتل کیے ہوں، توبہ کا کوئی راستہ باقی بھی ہے یا نہیں۔ اس نے لوگوں سے پوچھنا شروع کیا کہ آیا اس علاقے میں کوئی ایسا عالم یا بزرگ موجود ہے جس سے وہ رہنمائی حاصل کر سکے۔ اسے بتایا گیا کہ ایک عابد (بہت زیادہ عبادت کرنے والا شخص) اس علاقے میں رہتا ہے۔


پہلی ملاقات: عابد کی مایوس کن بات اور ایک اور قتل

وہ شخص اس عابد کے پاس گیا اور اپنا سارا احوال بیان کیا کہ اس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا ہے، کیا اس کے لیے توبہ کا کوئی راستہ ہے؟ اس عابد نے، جو عبادت میں تو آگے تھا مگر علم و حکمت میں کم تھا، بغیر سوچے سمجھے جواب دے دیا: “نہیں، تیرے لیے کوئی توبہ نہیں!”

یہ سنتے ہی اس شخص کے دل پر جو تھوڑی بہت امید کی کرن روشن ہوئی تھی، وہ بجھ گئی۔ غصے اور مایوسی کے ملے جلے جذبات میں اس نے اس عابد کو بھی قتل کر ڈالا، اور یوں اس کے قتل کی تعداد ایک سو ہو گئی۔

یہاں ہمیں ایک نہایت اہم سبق ملتا ہے: علم کے بغیر محض عبادت کافی نہیں ہوتی۔ اس عابد نے، بغیر یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی وسیع ہے، ایک تڑپتے ہوئے دل کو مایوس کر دیا، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف وہ خود اپنی جان سے گیا بلکہ اس شخص کا گناہ بھی مزید بڑھ گیا۔ کسی کو اللہ کی رحمت سے مایوس کرنا خود ایک سنگین غلطی ہے۔


دوسری ملاقات: عالم کی حکمت بھری رہنمائی

اپنے سو قتل کے بعد بھی اس شخص کے دل میں توبہ کی وہ چنگاری بجھی نہیں تھی۔ اس نے دوبارہ لوگوں سے پوچھا کہ کیا کوئی اور عالم یا بزرگ اس علاقے میں موجود ہے۔ اس بار اسے ایک حقیقی عالم کا پتہ بتایا گیا، جو علم اور حکمت میں پختہ تھا۔

اس شخص نے اس عالم کے پاس جا کر اپنا سارا احوال بیان کیا: “میں نے سو انسانوں کو قتل کیا ہے، کیا میرے لیے توبہ کا کوئی راستہ باقی ہے؟”

اس عالم نے، جو حقیقی علم اور اللہ کی معرفت رکھتا تھا، فوراً جواب دیا: “ہاں، بالکل! تیری توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے درمیان کون سی چیز حائل ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ تیرے جیسے گناہ گار کی توبہ بھی قبول ہو سکتی ہے۔”

یہ الفاظ سن کر اس شخص کے دل میں امید کی ایک زبردست لہر دوڑ گئی۔ مگر اس عالم نے اسے مزید ایک قیمتی مشورہ دیا: “لیکن ایک بات یاد رکھو۔ تم جس سرزمین میں رہتے ہو، وہاں کے حالات اور ماحول تمہارے لیے اچھے نہیں، یہاں کے لوگ برے ہیں اور یہ جگہ گناہوں کا مرکز ہے۔ تم یہاں سے فلاں سرزمین کی طرف چلے جاؤ، وہاں کچھ نیک لوگ رہتے ہیں، ان کے ساتھ رہو اور اللہ کی عبادت کرو، اور اپنی پرانی سرزمین کی طرف کبھی واپس مت آنا، کیونکہ یہ تمہارے لیے بری جگہ ہے۔”

یہ نصیحت اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ ماحول اور صحبت کا انسان کی زندگی پر کتنا گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس عالم نے صرف زبانی توبہ پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس شخص کو عملی رہنمائی بھی دی کہ وہ اپنے گناہوں کے ماحول سے مکمل طور پر کنارہ کش ہو جائے۔


توبہ کا سفر: راستے میں موت کا آ جانا

وہ شخص اس عالم کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اس نیک سرزمین کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کا دل اب سچی توبہ اور اللہ کی طرف رجوع کے جذبے سے بھرا ہوا تھا۔ وہ اپنی پرانی زندگی، اپنے گناہوں اور اپنے ماضی کو پیچھے چھوڑ کر ایک نئی، پاکیزہ زندگی کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔

مگر ابھی وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچا تھا کہ راستے ہی میں اسے موت نے آ لیا۔ روایت میں بیان ہوا ہے کہ وہ نیک سرزمین اور اپنی پرانی سرزمین کے درمیان، تقریباً آدھے راستے میں تھا جب اس کی موت واقع ہو گئی۔

یہ وہ لمحہ ہے جہاں اس کہانی کا سب سے دلچسپ اور ایمان افروز حصہ شروع ہوتا ہے: اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا انصاف اس شخص کے معاملے میں کس طرح ظاہر ہوا۔


رحمت اور عذاب کے فرشتوں کا اختلاف

جب اس شخص کی روح قبض ہوئی تو رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے، دونوں اس کی روح کے بارے میں آپس میں جھگڑنے لگے۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا: “یہ شخص توبہ کی نیت سے، دل و جان سے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے نکلا تھا، لہذا یہ ہماری ذمہ داری ہے۔” جبکہ عذاب کے فرشتوں نے کہا: “اس شخص نے زندگی بھر کبھی کوئی نیکی نہیں کی، اس نے سو انسانوں کو قتل کیا ہے، لہذا یہ ہمارے حوالے کیا جانا چاہیے۔”

یہ کتنا عجیب اور دلچسپ منظر ہے۔ فرشتے، جو اللہ کے حکم کے مکمل طور پر پابند ہیں، اس شخص کی نیت اور اس کے اعمال کی بنیاد پر اختلاف کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی نیت اور اس کی آخری کوشش کتنی اہمیت رکھتی ہے۔

اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ انسانی شکل میں بھیجا گیا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ اس ثالث فرشتے نے دونوں گروہوں سے کہا: “تم دونوں سرزمینوں کے درمیان کا فاصلہ ناپو۔ وہ جس سرزمین کے زیادہ قریب ہوگا، اسے اسی سرزمین والا شمار کیا جائے گا۔”

فرشتوں نے فاصلہ ناپا اور معلوم ہوا کہ وہ شخص اس نیک سرزمین کے کچھ زیادہ قریب تھا، بمقابلہ اس کی پرانی سرزمین کے۔ چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

بعض روایات میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیک سرزمین کو حکم دیا کہ وہ اس شخص کے قریب آ جائے، اور بری سرزمین کو حکم دیا کہ وہ دور ہٹ جائے، اور اس طرح فاصلہ ناپنے پر وہ نیک سرزمین کے زیادہ قریب پایا گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد کے لیے کائنات کے ہر ذرے کو حرکت میں لا سکتے ہیں۔


اللہ تعالیٰ کی رحمت کی جیت

اس واقعے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس شخص کو، جس نے سو انسانوں کو قتل کیا تھا، محض اس کی سچی توبہ کی نیت اور اپنے گناہوں کے ماحول کو چھوڑ کر نیکی کی طرف سفر کرنے کی وجہ سے، اللہ تعالیٰ کی رحمت نے ڈھانپ لیا۔ اسے عذاب کے فرشتوں کے حوالے نہیں کیا گیا بلکہ رحمت کے فرشتوں نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔

سوچیے، ایک شخص جس کے کھاتے میں سو قتل درج تھے، جس کی زندگی کا کوئی ایک لمحہ بھی، بظاہر، نیکی سے خالی نہ تھا، صرف اپنی سچی نیت اور اللہ کی طرف رجوع کی کوشش کی بنا پر معاف کر دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اس رحمت کی سب سے بڑی مثال ہے جس کے بارے میں قرآن کریم میں بار بار یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ اللہ تمام گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔


اس کہانی کی سند اور اہمیت

یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مختلف الفاظ کے ساتھ روایت ہوا ہے، جو اس کی صداقت اور اعتبار کو ظاہر کرتا ہے۔ علمائے کرام نے اس حدیث کو توبہ کے موضوع پر سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی روایات میں شمار کیا ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور توبہ کی قبولیت کی سب سے واضح دلیل ہے۔


اس کہانی سے حاصل ہونے والے اسباق

1. اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں

یہ سب سے بڑا سبق ہے جو اس کہانی سے ملتا ہے۔ خواہ انسان نے کتنے ہی بڑے گناہ کیوں نہ کیے ہوں، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، بشرطیکہ دل میں سچی توبہ کی تڑپ موجود ہو۔

2. کسی کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کریں

اس عابد کی غلطی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کبھی کسی گناہ گار کو یہ کہہ کر مایوس نہ کریں کہ “تمہارے لیے کوئی توبہ نہیں۔” یہ رویہ نہ صرف غلط بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ کسی کو مزید گناہ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

3. علم کے بغیر عبادت ادھوری ہے

اس عابد کے پاس عبادت تو تھی مگر علم اور حکمت نہ تھی، جبکہ اس عالم کے پاس دونوں چیزیں موجود تھیں۔ یہ سبق دیتا ہے کہ دین میں علم حاصل کرنا اور صحیح فہم پیدا کرنا کتنا ضروری ہے۔

4. برے ماحول اور صحبت سے دوری ضروری ہے

اس عالم نے اس شخص کو صرف زبانی توبہ کی تلقین نہیں کی بلکہ اسے عملی طور پر برے ماحول سے دور ہونے کا مشورہ دیا۔ یہ سبق دیتا ہے کہ توبہ کی کامیابی کے لیے گناہوں کے ماحول اور بری صحبت سے دور ہونا نہایت ضروری ہے۔

5. نیت اور کوشش کی اللہ کے ہاں بہت قدر ہے

اس شخص نے اپنی منزل تک پہنچے بغیر ہی وفات پائی، مگر اس کی نیت اور اس کی کوشش نے اسے اللہ کی رحمت کا مستحق بنا دیا۔ یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی نیت اور کوشش کو دیکھتے ہیں، نہ کہ صرف نتیجے کو۔

6. توبہ میں تاخیر مت کریں

یہ کہانی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ موت کسی وقت بھی آ سکتی ہے۔ اس شخص کی موت راستے میں ہی واقع ہو گئی۔ اگر وہ توبہ کرنے میں مزید تاخیر کرتا تو شاید یہ موقع بھی اس کے ہاتھ سے نکل جاتا۔ اس لیے توبہ میں تاخیر ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔


آج کے دور میں یہ کہانی ہمارے لیے کیا پیغام رکھتی ہے؟

آج کے دور میں بہت سے لوگ اپنے ماضی کے گناہوں کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے گناہ اس قدر زیادہ ہیں کہ اب اللہ تعالیٰ انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے، اور یہی مایوسی انہیں مزید گناہوں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔

یہ کہانی ایسے تمام لوگوں کے لیے ایک زبردست پیغام رکھتی ہے: چاہے آپ کا ماضی کیسا بھی رہا ہو، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ سچے دل سے توبہ کریں، اپنے برے ماحول اور بری صحبت سے دور ہو جائیں، اور نیکی کی طرف اپنا سفر شروع کر دیں۔ یہ سفر خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول فرمائیں گے۔

اسی طرح یہ کہانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ نرمی اور امید کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص اپنی غلطیوں پر پچھتا رہا ہو اور بہتری کی طرف آنا چاہتا ہو، تو ہمیں اسے مایوس کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔


عام سوالات (FAQs)

سوال: یہ واقعہ کس حدیث کی کتاب میں موجود ہے؟ جواب: یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مختلف الفاظ کے ساتھ روایت ہوا ہے۔

سوال: اس شخص نے کل کتنے لوگوں کو قتل کیا تھا؟ جواب: پہلے اس نے ننانوے انسانوں کو قتل کیا، پھر عابد کی مایوس کن بات پر غصے میں آ کر اسے بھی قتل کر دیا، جس سے تعداد سو ہو گئی۔

سوال: عالم نے اسے کیا مشورہ دیا؟ جواب: عالم نے اسے بتایا کہ اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے، اور اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنی گناہوں والی سرزمین چھوڑ کر ایک نیک سرزمین کی طرف چلا جائے۔

سوال: کیا اس شخص کی توبہ قبول ہوئی؟ جواب: جی ہاں، فرشتوں کے فیصلے کے مطابق وہ نیک سرزمین کے زیادہ قریب پایا گیا، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اسے معاف کر دیا گیا۔

سوال: اس کہانی سے سب سے بڑا سبق کیا ملتا ہے؟ جواب: سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، خواہ گناہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔


خلاصہ کلام

سو قتل کرنے والے شخص کی یہ کہانی ہمیں اللہ تعالیٰ کی لامحدود رحمت کی سب سے بڑی مثال فراہم کرتی ہے۔ یہ کہانی ہر اس انسان کے لیے امید کا پیغام ہے جو اپنے ماضی کے گناہوں کے بوجھ تلے دبا ہوا محسوس کرتا ہے۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ کے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ضرورت صرف ایک مخلص قدم اٹھانے کی ہے، باقی راستہ اللہ تعالیٰ خود آسان فرما دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سچی توبہ کی توفیق اور اپنی رحمت سے نوازے، آمین۔


یہ مضمون صحیح بخاری و صحیح مسلم کی معروف روایات پر مبنی ہے۔ مزید تفصیلی مطالعے کے لیے معتبر کتب حدیث اور شروحات سے رجوع کریں۔

Abu Umar
Abu Umar
Islamic Urdu Hub کے مصنف۔ اسلامی علم و تعلیم کو آسان اردو زبان میں پیش کرنا ہمارا مقصد ہے۔
تمام مضامین 53 مضامین