مرکزی مواد پر جائیں
☪ بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت اویس قرنی: وہ عظیم ولی جسے زمین نے نہ پہچانا مگر آسمان نے سلام بھیجا

اسلامی تاریخ کے صفحات میں ایسے لوگوں کے ذکر ملتے ہیں جو دنیا کی نظر میں گمنام رہے مگر اللہ کے ہاں ان کا مقام بہت بلند تھا۔ ان میں سب سے منفرد شخصیت حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کی ہے۔ وہ ایک ایسے ولی ہیں جن سے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کو دعا کروانے کی سفارش فرمائی، حالانکہ انہوں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کی تھی۔

اویس قرنی کون تھے؟

حضرت اویس قرنی کا تعلق یمن کے علاقے ‘قرن’ سے تھا، اسی نسبت سے وہ قرنی کہلاتے ہیں۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زندہ تھے، ایمان لا چکے تھے، مگر والدہ کی خدمت کی وجہ سے مدینہ نہ آ سکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے محروم رہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کا مقام اس قدر بلند کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیرالتابعین اویس القرنی ہیں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ و حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جب ان سے ملو تو ان سے دعا کراؤ۔

والدہ کی خدمت میں محبتِ رسول کا ثبوت

ایک روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت اویس قرنی کو خبر ملی کہ احد کی جنگ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت شہید ہوا، تو انہوں نے اپنے تمام دانت توڑ ڈالے۔ پہلے ایک توڑا اور سوچا کہ شاید یہی دانت ہو۔ پھر سب توڑ دیے کہ کہیں میں غلط دانت توڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف میں شریک نہ ہو پاؤں۔ یہ محبت کا وہ انداز ہے جس کی کوئی عقلی توجیہ نہیں ہوتی، یہ صرف دل سے نکلتی ہے۔

دنیا میں گمنامی مگر آخرت میں عظمت

حضرت اویس قرنی نے پوری زندگی گمنامی میں گزاری۔ وہ شہرت سے بھاگتے تھے، لوگوں کے درمیان آنے سے گریز کرتے تھے۔ یہی ان کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن گئے اور لوگوں سے اویس قرنی کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا کہ وہ تو مجنون ہیں، اونٹ چراتے پھرتے ہیں۔ مگر جب وہ ملے تو ان کی روحانی عظمت اور نورانیت دیکھ کر حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے ان سے دعا کروائی۔

ان کی زندگی سے ملنے والے اسباق

  • اللہ کے ہاں مقام کا تعلق شہرت سے نہیں، اخلاص سے ہے۔
  • والدین کی خدمت اللہ کی محبت سے جدا نہیں۔
  • گمنامی میں عبادت کرنا اعلیٰ درجے کی نیکی ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت محض جذبہ نہیں بلکہ عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔

جنگ صفین اور شہادت

حضرت اویس قرنی نے جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرکت کی اور اسی جنگ میں شہادت پائی۔ ان کی شہادت کی خبر سن کر جب لوگوں نے ان کا جسم تلاش کیا تو اردگرد کا ماحول ایک عجیب نور سے بھرا ہوا تھا۔ ان کا جسم اس طرح محفوظ تھا جیسے ابھی ابھی شہید ہوئے ہوں، اور ان کے چہرے پر سکون اور اطمینان تھا۔

آج کے دور میں یہ واقعہ کیا سکھاتا ہے؟

آج کے دور میں جب ہر شخص سوشل میڈیا پر خود کو نمایاں کرنے کی کوشش میں لگا ہے، حضرت اویس قرنی کی زندگی ایک انوکھا پیغام دیتی ہے۔ اللہ کے ہاں مقام اس بات سے نہیں ملتا کہ آپ کو کتنے لوگ جانتے ہیں، بلکہ اس بات سے ملتا ہے کہ آپ کتنے اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور کتنی محبت کے ساتھ والدین کی خدمت کرتے ہیں۔

نتیجہ

حضرت اویس قرنی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی عظمت دنیا کی نظروں میں نہیں، اللہ کی نظر میں ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نیکیوں کو چھپائیں، والدین کی خدمت کو عبادت سمجھیں، اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ رہیں تاکہ ہم بھی اللہ کے ہاں بلند مقام حاصل کر سکیں۔

حوالہ جات (References)

  • صحیح مسلم — اویس قرنی کا ذکر
  • سیر اعلام النبلاء — امام ذہبی
  • حلیۃ الاولیاء — امام ابو نعیم اصفہانی

اسلامی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کا مقام الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا، کیونکہ ان کی

Abu Umar
Abu Umar
Islamic Urdu Hub کے مصنف۔ اسلامی علم و تعلیم کو آسان اردو زبان میں پیش کرنا ہمارا مقصد ہے۔
تمام مضامین 53 مضامین