مرکزی مواد پر جائیں
☪ بسم اللہ الرحمن الرحیم

غیبت کا گناہ اور اس سے بچاؤ – وہ عادت جو ہمیں پتا ہی نہیں چلتی

دیباچہ: کیا آج آپ نے کسی کے بارے میں بات کی؟

ذرا سوچیے، آج صبح سے اب تک آپ نے کتنی گفتگو کی؟ دوستوں کے ساتھ چائے پر، خاندان کے ساتھ کھانے کی میز پر، آفس میں ساتھیوں کے ساتھ، یا موبائل پر کسی سے فون کال کرتے ہوئے؟ اب ذرا دیانتداری سے سوچیے: کیا ان گفتگوؤں میں کسی غیر موجود شخص کا ذکر آیا؟ اس کی کسی کمزوری، غلطی، شکل و صورت، یا رویے پر بات ہوئی؟

اگر جواب “ہاں” میں ہے، تو پریشان نہ ہوں، آپ اکیلے نہیں۔ غیبت وہ گناہ ہے جو ہماری روزمرہ گفتگو میں اس قدر رچ بس چکا ہے کہ ہمیں اکثر یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم گناہ کر رہے ہیں۔ ہم اسے “بس بات چیت”، “ہمدردی کا اظہار”، یا “سچ بتانا” سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیبت کو ایک ایسے خوفناک عمل سے تشبیہ دی ہے کہ اسے پڑھ کر انسان کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ آج ہم اسی موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے: غیبت کیا ہے، یہ کیوں اتنا سنگین گناہ ہے، اور ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اس سے کیسے بچ سکتے ہیں۔


غیبت کیا ہے؟ ایک واضح تعریف

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار پوچھا گیا: “غیبت کیا ہے؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اپنے بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا جو اسے ناپسند ہو۔”

صحابہ کرام نے عرض کیا: “اگر وہ بات میرے بھائی میں واقعی موجود ہو تو؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اگر وہ بات اس میں موجود ہے جو تم کہہ رہے ہو، تو یہی غیبت ہے۔ اور اگر وہ بات اس میں موجود نہیں، تو یہ بہتان ہے۔”

یہ تعریف نہایت اہم ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی بات سچ ہے تو اسے کہنا غیبت نہیں۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے: غیبت کی تعریف ہی یہ ہے کہ آپ کسی کے بارے میں ایسی سچی بات اس کی غیر موجودگی میں کریں جو اسے پسند نہ ہو۔ اگر بات جھوٹ ہو تو وہ غیبت سے بھی بڑا گناہ، یعنی بہتان بن جاتی ہے۔


قرآن کریم میں غیبت کی مذمت: ایک ایسی تشبیہ جو دل دہلا دیتی ہے

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے غیبت کی مذمت کرتے ہوئے ایک ایسی تشبیہ استعمال کی ہے جو انسان کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے ناپسند کرو گے۔

سوچیے اس تشبیہ پر۔ اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے کو، کسی انسان کے مردہ جسم کا گوشت نوچ نوچ کر کھانے سے تشبیہ دی ہے۔ جس طرح ایک مردہ انسان اپنا دفاع نہیں کر سکتا، اسی طرح جس شخص کی غیبت کی جا رہی ہو، وہ بھی اس وقت اپنی صفائی پیش نہیں کر سکتا کیونکہ وہ وہاں موجود ہی نہیں ہوتا۔ اور جس طرح مردہ جسم کا گوشت کھانا فطری طور پر انتہائی گھناؤنا اور قابلِ نفرت عمل ہے، اسی طرح غیبت بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی ہی قابلِ نفرت ہے۔

یہ تشبیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے: اگلی بار جب ہمارے منہ سے کسی غیر موجود شخص کے خلاف کوئی بات نکلنے لگے، تو کیا ہم اس تشبیہ کو یاد رکھ کر اپنی زبان روک سکتے ہیں؟


معراج کی رات کا ایک ہولناک منظر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات ایک نہایت ہولناک منظر دیکھا جو خاص طور پر غیبت کرنے والوں کے لیے تھا۔ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے تانبے کے ناخن ہیں، اور وہ ان ناخنوں سے اپنے ہی چہروں اور سینوں کو نوچ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: “جبرائیل، یہ کون لوگ ہیں؟” جواب ملا: “یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے اور ان کی عزتوں پر حملہ کرتے تھے۔”

یہ منظر اس قدر سنگین ہے کہ اسے پڑھ کر ہر حساس دل لرز اٹھتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غیبت کوئی معمولی یا نظر انداز کرنے والا گناہ نہیں، بلکہ یہ ایسا گناہ ہے جس کی سزا آخرت میں انتہائی سخت ہے۔


غیبت اتنا “معمولی” کیوں محسوس ہوتی ہے؟

یہ ایک اہم سوال ہے: اگر غیبت اتنا بڑا گناہ ہے تو یہ ہمیں معمولی کیوں لگتی ہے؟ اس کی چند وجوہات ہیں:

پہلی وجہ: ہم اسے مختلف ناموں سے چھپا لیتے ہیں۔ “میں تو بس فکرمند ہو کر بتا رہا ہوں”، “یہ تو سب کو معلوم ہے”، “میں تو حقیقت بیان کر رہا ہوں”، یہ سب وہ الفاظ ہیں جن کے پیچھے ہم اپنی غیبت کو چھپا لیتے ہیں۔

دوسری وجہ: یہ ایک اجتماعی عادت بن چکی ہے۔ جب کسی محفل میں سب لوگ کسی کے بارے میں بات کر رہے ہوں، تو اکیلے شخص کے لیے وہاں سے اٹھ جانا یا بات کو روکنا مشکل محسوس ہوتا ہے، اور یوں انسان بھی خاموشی سے اس گناہ میں شریک ہو جاتا ہے۔

تیسری وجہ: غیبت میں ایک عجیب سی نفسیاتی کشش ہوتی ہے۔ دوسروں کی خامیوں پر بات کرنا، کہیں نہ کہیں، ہمیں وقتی طور پر اپنے آپ کو بہتر محسوس کرانے کا ذریعہ بن جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک خطرناک اور کھوکھلا احساس ہے۔


غیبت اور خاموش شرکت: کیا سننا بھی گناہ ہے؟

ایک اہم سوال یہ ہے: اگر کوئی شخص غیبت کر رہا ہو اور ہم صرف خاموشی سے سن رہے ہوں، کچھ نہ کہیں، تو کیا ہم بھی گنہگار ہوں گے؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے بچا لیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو شخص غیبت سنتا رہے اور روکنے کی کوشش نہ کرے، وہ بھی اس گناہ میں کسی حد تک شریک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ خاموش رہنا بھی ایک طرح کی رضامندی ہے۔

اس لیے یہ ضروری ہے کہ جب بھی کسی محفل میں غیبت کی جا رہی ہو، تو ہمیں کم از کم اتنا ضرور کرنا چاہیے: بات کا رخ بدل دیں، غیبت کرنے والے کو نرمی سے ٹوک دیں، یا اگر ممکن نہ ہو تو خود اس محفل سے اٹھ جائیں۔


کیا ہر تنقید غیبت ہے؟ چند استثنائی صورتیں

یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، کچھ ایسی صورتیں ہیں جن میں کسی کی غیر موجودگی میں اس کا ذکر کرنا غیبت شمار نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات ضروری بھی ہو سکتا ہے:

مظلوم کا اپنے ظالم کے خلاف شکایت کرنا: اگر کسی پر ظلم ہوا ہو اور وہ انصاف کے لیے کسی سے مدد طلب کرے تو یہ غیبت نہیں۔

فتویٰ طلب کرنا: اگر کوئی شخص کسی عالم سے یہ پوچھے کہ “فلاں شخص نے میرے ساتھ یہ زیادتی کی، اس کا کیا حل ہے؟” تو یہ بھی غیبت میں شامل نہیں۔

لوگوں کو کسی فتنے یا نقصان سے خبردار کرنا: اگر کوئی شخص دھوکہ باز ہو، اور اس سے دوسروں کو خبردار کرنا مقصود ہو تاکہ وہ نقصان سے بچ سکیں، تو یہ بھی جائز ہے، بشرطیکہ نیت خیرخواہی کی ہو، نہ کہ دل کی بھڑاس نکالنا۔

علانیہ گناہ کرنے والے کا ذکر: جو شخص کھلم کھلا گناہ کرتا ہے اور اس پر کوئی شرم محسوس نہیں کرتا، اس کے اس مخصوص عمل کا ذکر، تنبیہ کی نیت سے، غیبت میں شامل نہیں۔

مگر یاد رہے، یہ تمام استثنائی صورتیں نہایت احتیاط اور خیرخواہی کی نیت سے مشروط ہیں، نہ کہ بہانہ بنا کر اپنی غیبت کو جائز قرار دینے کے لیے۔


غیبت کے سماجی اور نفسیاتی نقصانات

غیبت صرف ایک مذہبی گناہ نہیں بلکہ اس کے سماجی اور نفسیاتی نقصانات بھی نہایت گہرے ہیں۔

تعلقات کی تباہی: غیبت رشتوں میں دراڑیں ڈالتی ہے۔ جب کسی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیٹھ پیچھے اس کے بارے میں باتیں ہوئی ہیں، تو اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، اور یہ ٹوٹا ہوا اعتماد دوبارہ جوڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔

منفی سوچ کا فروغ: جو انسان زیادہ غیبت کرتا ہے، اس کی سوچ رفتہ رفتہ منفی ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ ہر شخص میں خامیاں تلاش کرنے کا عادی ہو جاتا ہے، اور یہ عادت اس کی اپنی ذہنی صحت پر بھی برا اثر ڈالتی ہے۔

اعتماد کا فقدان: جو شخص دوسروں کے سامنے کسی تیسرے کی غیبت کرتا ہے، وہی شخص بعد میں یہ بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے: “کیا یہ شخص میری غیر موجودگی میں میری بھی غیبت کرتا ہوگا؟” اس طرح غیبت خود اعتماد کو ختم کر دیتی ہے۔

وقت اور توانائی کا ضیاع: جو وقت ہم دوسروں کی خامیوں پر بات کرنے میں صرف کرتے ہیں، اگر وہی وقت اپنی اصلاح یا کسی مفید کام میں لگایا جائے، تو زندگی میں کہیں زیادہ بہتری آ سکتی ہے۔


غیبت سے بچنے کے عملی طریقے

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس گہری جڑ پکڑ چکی عادت سے کیسے چھٹکارا پائیں؟ ذیل میں کچھ عملی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں:

1. زبان کھولنے سے پہلے سوچیں: جب بھی کسی کے بارے میں بات کرنے کا موقع آئے، ایک لمحے کے لیے رکیں اور خود سے پوچھیں: “کیا یہ بات کہنا ضروری ہے؟ کیا یہ سچ ہے؟ کیا یہ اس شخص کے حق میں بہتر ہے؟”

2. موضوع بدل دیں: اگر کوئی محفل غیبت کی طرف مڑ رہی ہو، تو نرمی سے بات کا رخ کسی اور مثبت موضوع کی طرف موڑ دیں۔

3. اپنی خامیوں پر توجہ دیں: جب دل میں دوسروں پر تنقید کرنے کا خیال آئے، تو یاد رکھیں کہ ہماری اپنی بھی بہت سی کمزوریاں ہیں جن پر ہم خود کبھی غور نہیں کرتے۔

4. جسے آپ نے غیبت کی، اس سے معافی مانگیں: اگر آپ سے کسی کی غیبت ہو گئی ہو، تو کوشش کریں کہ اس سے معافی مانگیں، یا کم از کم اس کے حق میں دعا اور استغفار کریں۔

5. اچھی صحبت اختیار کریں: ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کریں جو بامقصد اور مثبت گفتگو کرتے ہوں، کیونکہ صحبت انسان کی گفتگو کے انداز پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔


اگر غیبت ہو جائے تو توبہ کا طریقہ کیا ہے؟

انسان خطا کا پتلا ہے، اور ممکن ہے کبھی نادانستہ یا دانستہ طور پر غیبت ہو جائے۔ ایسی صورت میں علمائے کرام نے دو باتیں بیان کی ہیں:

اگر جس شخص کی غیبت کی گئی ہو، اسے اس بات کا علم نہ ہوا ہو، تو بہتر یہ ہے کہ اس سے معافی نہ مانگی جائے (تاکہ اسے تکلیف نہ ہو)، بلکہ اس کے حق میں کثرت سے دعائے مغفرت کی جائے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کی جائے۔

اگر اس شخص کو علم ہو چکا ہو کہ اس کی غیبت کی گئی ہے، تو بہتر یہ ہے کہ اس سے معافی مانگ لی جائے تاکہ اس کا دل صاف ہو جائے، اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے بھی توبہ کی جائے۔


آج کے دور میں غیبت کی نئی شکلیں

جدید دور میں غیبت نے کچھ نئی شکلیں بھی اختیار کر لی ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی کی تصویر یا پوسٹ پر طنزیہ تبصرہ کرنا، واٹس ایپ گروپس میں کسی کا مذاق اڑانا، یا کسی کی ذاتی زندگی کے بارے میں آن لائن بحث کرنا، یہ سب جدید دور کی غیبت کی مثالیں ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا ذریعہ بدل جانے سے گناہ کی نوعیت نہیں بدلتی، بلکہ بعض اوقات یہ اور بھی زیادہ نقصان دہ ہو جاتی ہے کیونکہ تحریری شکل میں یہ باتیں مستقل طور پر محفوظ رہ جاتی ہیں اور زیادہ لوگوں تک پھیل جاتی ہیں۔


📤 اس تحریر کو آگے پھیلائیے

اگر یہ مضمون آپ کو اپنی گفتگو پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر گیا ہو، تو اسے اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ ضرور شیئر کریں — یہ ایک ایسی یاد دہانی ہے جس کی ہم سب کو کبھی نہ کبھی ضرورت پڑتی ہے۔

🔗 یہ بھی پڑھیں


عام سوالات (FAQs)

سوال: غیبت کی تعریف کیا ہے؟ جواب: کسی شخص کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی سچی بات کرنا جو اسے ناپسند ہو، غیبت کہلاتی ہے۔ اگر بات جھوٹی ہو تو وہ بہتان بن جاتی ہے۔

سوال: قرآن میں غیبت کو کس چیز سے تشبیہ دی گئی ہے؟ جواب: قرآن میں غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔

سوال: کیا غیبت سننا بھی گناہ ہے؟ جواب: اگر کوئی شخص غیبت سنے اور اسے روکنے کی کوشش نہ کرے تو وہ بھی اس گناہ میں کسی حد تک شریک سمجھا جاتا ہے۔

سوال: کیا ہر برائی بیان کرنا غیبت شمار ہوتا ہے؟ جواب: نہیں، مظلوم کا شکایت کرنا، فتویٰ طلب کرنا، یا لوگوں کو کسی نقصان سے خبردار کرنا، بعض شرائط کے ساتھ غیبت میں شامل نہیں۔


خلاصہ کلام

غیبت ایک ایسا گناہ ہے جو ہماری روزمرہ گفتگو میں اس قدر رچ بس چکا ہے کہ ہمیں اکثر اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ مگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک نہایت سنگین گناہ قرار دیا ہے۔ آئیے آج ہی سے یہ عزم کریں کہ ہم اپنی زبان کی حفاظت کریں گے، دوسروں کی عزتوں کا احترام کریں گے، اور جب بھی کسی محفل میں غیبت کا سلسلہ شروع ہو، اسے روکنے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی زبان کی حفاظت اور اس گناہ سے کنارہ کشی کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


یہ مضمون قرآن و حدیث کی معروف تعلیمات پر مبنی ہے۔ مزید تفصیلی مطالعے کے لیے معتبر کتب سے رجوع کریں۔

Abu Umar
Abu Umar
Islamic Urdu Hub کے مصنف۔ اسلامی علم و تعلیم کو آسان اردو زبان میں پیش کرنا ہمارا مقصد ہے۔
تمام مضامین 58 مضامین