مرکزی مواد پر جائیں
☪ بسم اللہ الرحمن الرحیم

اصحابِ اخدود کی کہانی – وہ بچہ جس نے بادشاہ کو شکست دی

دیباچہ: ایک ایسی کہانی جو آپ کبھی نہیں بھولیں گے

کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو پڑھنے کے بعد بھی دیر تک ذہن کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ یہ ان میں سے ایک ہے۔ یہ کہانی ہے ایک چھوٹے سے بچے کی، جس کی عمر شاید بارہ یا چودہ سال کے قریب تھی، مگر جس نے اپنے ایمان کی طاقت سے ایک پورے بادشاہ اور اس کی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے معجزاتی سفر کی جس میں جادوگری، عبادت، شفا، دھوکہ، سازش، اور آخرکار ایک ایسی قربانی شامل ہے جس نے تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔

یہ محض ایک داستان نہیں، بلکہ یہ قرآن کریم کی سورہ بروج میں بیان کیا گیا ایک حقیقی واقعہ ہے، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تفصیل سے بیان فرمایا، اور یہ روایت صحیح مسلم میں محفوظ ہے۔ یہ کہانی “اصحابِ اخدود” یعنی “خندق والوں” کے نام سے مشہور ہے، اور اسے پڑھ کر انسان کا دل ایمان کی طاقت اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کے سامنے جھک جاتا ہے۔

تیار ہو جائیے، کیونکہ یہ کہانی آپ کو رلائے گی بھی، اور آپ کے ایمان کو مضبوط بھی کر دے گی۔


بادشاہ، جادوگر اور ایک معصوم بچہ

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر ملازم تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ جادوگر بوڑھا ہو گیا، اور اس نے بادشاہ سے عرض کیا: “میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں، میرے پاس اپنا فن اور جادو منتقل کرنے کے لیے کوئی ذہین بچہ بھیج دیجیے، تاکہ میں اسے یہ ہنر سکھا سکوں۔”

بادشاہ نے حکم دیا اور ایک ذہین اور ہونہار بچہ اس جادوگر کے پاس تربیت کے لیے بھیجا گیا۔ روزانہ یہ بچہ اپنے گھر سے جادوگر کے پاس جاتا اور واپس آتا۔ راستے میں ایک راہب کا ٹھکانہ پڑتا تھا۔ ایک دن بچے نے، محض تجسس کے تحت، اس راہب کے پاس رکنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے راہب کی باتیں سنیں، اس کی عبادت اور طرزِ زندگی دیکھی، اور اسے یہ سب کچھ بہت پسند آیا۔

اس دن سے بچے نے ایک نیا معمول بنا لیا: وہ جادوگر کے پاس جاتے ہوئے راستے میں راہب کے پاس رکتا، اس کی باتیں سنتا، اور پھر جادوگر کے پاس جا کر اسے یہ بہانہ بناتا کہ گھر والوں نے روک لیا تھا۔ اسی طرح واپسی پر بھی وہ راہب کے پاس رکتا اور گھر جا کر بتاتا کہ جادوگر نے دیر تک روکے رکھا۔ یہ سلسلہ کافی عرصے تک یونہی چلتا رہا، اور رفتہ رفتہ بچے کے دل میں راہب کی تعلیمات، یعنی توحید اور اللہ کی عبادت کا یقین گہرا ہوتا چلا گیا۔


پہلا معجزہ: ایک خوفناک جانور اور ایک دعا

ایک دن اس بچے کو راستے میں ایک بہت بڑا اور خطرناک جانور نظر آیا جس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا اور کوئی بھی آگے جانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ بچے کے دل میں ایک خیال آیا۔ اس نے سوچا: “آج مجھے پتا چل جائے گا کہ جادوگر کا فن افضل ہے یا راہب کی تعلیم۔”

اس نے ایک پتھر اٹھایا اور دعا کی: “اے اللہ! اگر راہب کا راستہ جادوگر کے راستے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے تو اس جانور کو مار دے تاکہ لوگ گزر سکیں۔” یہ کہہ کر اس نے پتھر اس جانور کی طرف پھینکا، اور اللہ کے حکم سے وہ جانور وہیں ڈھیر ہو کر مر گیا، اور لوگوں کا راستہ کھل گیا۔

یہ بچے کی زندگی کا پہلا معجزہ تھا۔ وہ سیدھا راہب کے پاس گیا اور اسے یہ واقعہ سنایا۔ راہب نے یہ سن کر فرمایا: “بیٹا، آج تم مجھ سے افضل ہو گئے ہو۔ تمہارا مقام اب مجھ سے بلند ہے۔ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جلد ایک ایسے امتحان سے گزرنے والے ہو جس میں تمہیں پوری ہمت اور صبر سے کام لینا ہوگا۔ اگر ایسا وقت آئے تو میرا نام ہرگز ظاہر نہ کرنا۔”

یہ الفاظ اس وقت شاید بچے کو مکمل طور پر سمجھ نہ آئے ہوں، مگر آنے والے دنوں میں یہی الفاظ اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہونے والے تھے۔


شفا کا معجزہ: وہ بچہ جو اندھوں کو بینائی دیتا تھا

اس دن کے بعد سے اس بچے میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک عجیب صلاحیت پیدا ہو گئی: وہ پیدائشی اندھوں اور کوڑھ (جذام) کے مریضوں کو دعا کے ذریعے شفا دینے لگا، اور نہ صرف انسانوں بلکہ دیگر امراض میں مبتلا لوگوں کا بھی علاج کرنے لگا۔ یہ خبر آہستہ آہستہ پورے علاقے میں پھیل گئی۔

بادشاہ کا ایک قریبی درباری، جو کسی بیماری کے باعث بینائی سے محروم ہو چکا تھا، جب اس نے یہ خبر سنی تو وہ بہت سے تحائف لے کر اس بچے کے پاس پہنچا اور کہا: “اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ تمام تحائف تمہارے ہیں۔”

بچے نے نہایت عاجزی سے جواب دیا: “میں کسی کو شفا نہیں دیتا، شفا دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ، تو میں اس سے دعا کروں گا اور وہ تمہیں شفا عطا فرمائے گا۔”

اس درباری نے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اعلان کیا، اور بچے کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی، اور اس کی بینائی واپس آ گئی۔


راز کھلتا ہے: بادشاہ کا غصہ اور پہلی سازش

یہ درباری، جو اب مکمل صحت مند اور بینا ہو چکا تھا، حسبِ معمول بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا۔ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا: “تمہاری بینائی کس نے واپس لوٹائی؟” درباری نے بلا جھجک جواب دیا: “میرے رب نے۔”

بادشاہ نے غصے سے پوچھا: “کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی رب ہے؟” درباری نے جواب دیا: “میرا اور تمہارا رب، دونوں کا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔”

یہ سنتے ہی بادشاہ آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے درباری کو گرفتار کروا لیا اور سخت اذیتیں دے کر اس سے اس راز کو اگلوانے کی کوشش کی کہ اسے یہ ایمان کس نے دیا۔ آخرکار اذیت کی شدت سے مجبور ہو کر درباری نے اس بچے کا نام لے دیا۔


بچے کی آزمائش: موت کا سامنا

بادشاہ نے فوراً اس بچے کو بھی گرفتار کروا لیا اور اس سے پوچھا: “کیا تمہارا جادو اتنا بڑھ گیا ہے کہ تم اندھوں کو بینا کر دیتے ہو اور کوڑھیوں کو شفا دیتے ہو؟”

بچے نے وہی جواب دیا جو اس نے درباری کو دیا تھا: “میں شفا نہیں دیتا، شفا دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔” یہ سن کر بادشاہ کا غصہ اور بڑھ گیا۔ اس نے بچے کو بھی اذیتیں دینا شروع کر دیں، یہاں تک کہ بچے نے مجبور ہو کر راہب کا نام بتا دیا۔

راہب کو بھی گرفتار کر لیا گیا اور اس سے کہا گیا کہ وہ اپنے دین سے پھر جائے۔ راہب نے انکار کر دیا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ راہب کے سر پر آرا رکھ کر اسے دو ٹکڑوں میں چیر دیا جائے۔ اسی بے رحم انداز میں راہب کو شہید کر دیا گیا۔

اس کے بعد اسی درباری کو بھی حاضر کیا گیا اور اس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ایمان سے پھر جائے۔ اس نے بھی انکار کر دیا اور اسے بھی اسی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔

اب باری اس معصوم بچے کی تھی۔


بچے کو قتل کرنے کی ناکام کوششیں

بادشاہ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو حکم دیا کہ اس بچے کو ایک اونچے پہاڑ کی چوٹی پر لے جائیں اور کہیں: “اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو ٹھیک، ورنہ اسے پہاڑ سے نیچے دھکیل دو۔”

بچے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے جایا گیا۔ اس نازک اور خوفناک لمحے میں بچے نے، بجائے خوفزدہ ہونے کے، دعا کی: “اے اللہ! تُو خود ہی مجھے ان کے شر سے بچا، جس طرح تُو چاہے۔” اسی وقت پہاڑ زور سے لرزنے لگا، اور وہ تمام لوگ جو بچے کو دھکیلنے آئے تھے، خود پہاڑ سے نیچے گر کر ہلاک ہو گئے، جبکہ بچہ صحیح سلامت واپس بادشاہ کے پاس آ گیا۔

بادشاہ نے حیرت اور غصے سے پوچھا: “تمہارے ساتھی کہاں گئے؟” بچے نے جواب دیا: “اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے شر سے بچا لیا۔”

بادشاہ نے ایک اور کوشش کی۔ اس نے کچھ اور آدمیوں کو حکم دیا کہ بچے کو ایک کشتی میں سمندر کے بیچوں بیچ لے جائیں اور کہیں کہ اپنے دین سے پھر جائے، ورنہ اسے سمندر میں پھینک دیں۔ بچے کو سمندر کے وسط میں لے جایا گیا، اور اس نے پھر دعا کی: “اے اللہ! تُو خود ہی مجھے ان کے شر سے بچا۔” اسی وقت کشتی الٹ گئی اور وہ تمام آدمی ڈوب کر ہلاک ہو گئے، جبکہ بچہ ایک بار پھر صحیح سلامت واپس آ گیا۔

بادشاہ اپنی ہر کوشش میں ناکام ہو رہا تھا۔ ہر بار موت اس بچے کے قریب آتی، اور ہر بار اللہ تعالیٰ اپنے اس ننھے بندے کو بچا لیتے۔


بچے کی حیران کن پیشکش

اب اس بچے نے بادشاہ سے ایک ایسی بات کہی جو بظاہر بہت عجیب لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے ایک گہری حکمت پوشیدہ تھی۔ بچے نے بادشاہ سے کہا: “تم مجھے ہرگز قتل نہیں کر سکتے، جب تک تم وہ نہ کرو جو میں تمہیں بتاتا ہوں۔”

بادشاہ نے پوچھا: “وہ کیا ہے؟” بچے نے جواب دیا: “تم تمام لوگوں کو ایک کھلے میدان میں جمع کرو، مجھے ایک لکڑی کے ساتھ باندھ دو، پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکالو، اسے کمان میں رکھو، اور یہ کہتے ہوئے مجھے مارو: ‘بسم اللہ رب الغلام’ یعنی ‘اس اللہ کے نام سے جو اس بچے کا رب ہے’۔ اگر تم یہ کرو گے تو تم مجھے قتل کر سکو گے۔”

بادشاہ کو یہ بات کچھ عجیب مگر پرکشش لگی، کیونکہ وہ اس بچے کو کسی بھی طرح ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے فوراً یہی طریقہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے حکم دیا کہ تمام شہر کے لوگ ایک کھلے میدان میں جمع ہوں تاکہ سب اس واقعے کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔


وہ لمحہ جس نے تاریخ بدل دی

میدان میں ہزاروں لوگ جمع ہو چکے تھے۔ بچے کو لکڑی کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ بادشاہ نے خود بچے کے ترکش سے ایک تیر نکالا، اسے کمان میں رکھا، اور بچے کی بتائی ہوئی بات کہتے ہوئے، یعنی “بسم اللہ رب الغلام”، تیر چلا دیا۔ تیر سیدھا بچے کی کنپٹی پر لگا، اور بچہ وہیں شہید ہو گیا۔

مگر جو کچھ اس کے بعد ہوا، اس نے پوری سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا۔ جیسے ہی بادشاہ نے یہ الفاظ “بسم اللہ رب الغلام” کہے اور بچہ شہید ہوا، وہاں موجود تمام ہزاروں لوگوں نے بیک وقت پکار اٹھ کر کہا: “ہم اس بچے کے رب پر ایمان لے آئے! ہم اس بچے کے رب پر ایمان لے آئے!”

یہ وہ لمحہ تھا جس کا بچہ منتظر تھا۔ اس نے اپنی جان اس لیے قربان کی تھی تاکہ لوگ یہ سمجھ جائیں کہ اس کے پاس جو طاقت ہے، وہ اس کا اپنا کمال نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، اور یہی حقیقت اس کی موت کے وقت ثابت ہو گئی۔ ہزاروں لوگوں نے ایک ساتھ اسلام قبول کر لیا۔


بادشاہ کا انتقام: خندقوں میں آگ

بادشاہ کے لیے یہ صورتحال ناقابلِ برداشت تھی۔ جس بچے کو وہ ختم کرنا چاہتا تھا، اس کی موت نے الٹا اس کی پوری رعایا کو اس کے خلاف کر دیا تھا۔ بادشاہ کا غصہ اور خوف اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔

اس نے حکم دیا کہ راستوں کے کناروں پر گہری خندقیں کھودی جائیں، ان میں آگ جلائی جائے، اور جو کوئی بھی اپنے نئے ایمان سے پھرنے پر راضی نہ ہو، اسے اس آگ میں پھینک دیا جائے۔ اس ہولناک حکم پر عمل شروع ہو گیا۔ لوگوں کو ایک ایک کر کے لایا جاتا، ان سے کہا جاتا کہ اپنے ایمان سے پھر جاؤ، ورنہ آگ میں جھونک دیے جاؤ گے، اور جو انکار کرتا، اسے آگ میں دھکیل دیا جاتا۔

یہ منظر انتہائی الم ناک تھا: مرد، عورتیں، بوڑھے، سب اپنے ایمان پر ڈٹے رہے اور آگ میں کود پڑے، مگر دین چھوڑنے پر راضی نہ ہوئے۔


وہ ماں اور بولتا ہوا بچہ: کہانی کا سب سے دل دہلا دینے والا لمحہ

اسی دوران ایک عورت اپنے چھوٹے سے شیرخوار بچے کے ساتھ لائی گئی۔ آگ کی لپٹیں دیکھ کر ماں کا دل لرز گیا۔ اس کے قدم رک گئے، اس نے آگ میں کودنے میں ہچکچاہٹ محسوس کی، اس خوف سے نہیں کہ خود اسے تکلیف ہوگی، بلکہ اپنے ننھے بچے کی خاطر۔

اسی لمحے، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے، اس شیرخوار بچے نے، جو ابھی بول بھی نہیں سکتا تھا، زبان کھولی اور اپنی ماں سے کہا: “اے میری ماں! صبر کرو، بیشک تم حق پر ہو۔”

یہ سن کر اس ماں کے دل سے تمام خوف اور تردد نکل گیا۔ اس نے پورے یقین اور اطمینان کے ساتھ اپنے بچے کو سینے سے لگایا اور آگ میں چھلانگ لگا دی۔

سوچیے، ایک شیرخوار بچہ، جو بولنا بھی نہیں جانتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے اس لمحے زبان عطا کر دی تاکہ وہ اپنی ماں کے ایمان کو مضبوط کر سکے۔ یہ منظر ایمان کی اس طاقت کی گواہی ہے جو موت کے خوف کو بھی شکست دے دیتی ہے۔


قرآن کریم میں اس واقعے کا ذکر

یہ واقعہ قرآن کریم کی سورہ بروج میں بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں پر لعنت بھیجی جنہوں نے خندقیں کھود کر ایمان والوں کو آگ میں جھونکا، اور ان مومنوں کی تعریف کی جو اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے، محض اس وجہ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ ایسے ظالموں کے لیے جہنم کا دردناک عذاب ہے، اور جو مومن اس آزمائش میں ثابت قدم رہے، ان کے لیے جنت کی نعمتیں ہیں۔

یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل سے صحابہ کرام کو بیان فرمایا، اور یہ روایت صحیح مسلم میں محفوظ ہے، جو اس کی صداقت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔


اس کہانی سے حاصل ہونے والے اسباق

1. ایمان کی طاقت موت کے خوف سے بڑی ہے

اس واقعے میں شامل تمام کردار، بچہ، راہب، درباری، اور وہ ماں جس نے اپنے شیرخوار بچے کے ساتھ آگ میں چھلانگ لگائی، سب نے یہ ثابت کیا کہ حقیقی ایمان انسان کو موت کے خوف سے بلند کر دیتا ہے۔

2. اللہ تعالیٰ کمزوروں کو طاقتور کر دیتے ہیں

ایک چھوٹا سا بچہ، جسے دنیاوی اعتبار سے کوئی طاقت حاصل نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی قوت عطا فرمائی کہ اس نے ایک پورے بادشاہ اور اس کی سلطنت کو چیلنج کر دیا۔

3. قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی

بچے نے اپنی جان اس لیے قربان کی تاکہ سچائی سامنے آ سکے۔ اس کی موت کے نتیجے میں ہزاروں لوگ ایمان لے آئے، اور یہ ثابت ہوا کہ اللہ کے راستے میں دی گئی قربانی کبھی ضائع نہیں جاتی، چاہے بظاہر وہ شکست نظر آئے۔

4. ظلم عارضی ہے، سچائی ہمیشہ باقی رہتی ہے

بادشاہ نے اپنی پوری طاقت استعمال کی، مگر وہ سچائی کو نہیں دبا سکا۔ آج صدیوں بعد بھی یہ کہانی زندہ ہے، جبکہ اس ظالم بادشاہ کا نام تک تاریخ میں محفوظ نہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ عارضی ہے، جبکہ حق ہمیشہ باقی رہتا ہے۔

5. کمزور ترین لمحے میں بھی صبر کا دامن نہ چھوڑیں

اس ماں کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سب سے مشکل ترین آزمائش کے وقت میں بھی، جب دل خوف اور تردد سے بھرا ہو، اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد فرماتے ہیں اور انہیں صبر کی توفیق عطا کرتے ہیں۔


آج کے دور میں یہ کہانی کیوں اہم ہے؟

آج کے دور میں جہاں مسلمانوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے دین پر عمل کرنے کی وجہ سے مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا ہے، یہ کہانی ہمیں زبردست حوصلہ اور تسلی فراہم کرتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے مخلص بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتے، اور دنیاوی مشکلات، خواہ کتنی ہی سخت کیوں نہ ہوں، ایمان کی حقیقی قدر و قیمت کو کم نہیں کر سکتیں۔

یہ کہانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی آزمائشوں میں صبر اور استقامت کا دامن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ قریب ہوتی ہے، خواہ حالات کتنے ہی مایوس کن کیوں نہ نظر آئیں۔


📤 اس کہانی کو آگے پھیلائیے

یہ کہانی ہر اس دل تک پہنچنی چاہیے جسے ایمان کی طاقت پر یقین دلانے کی ضرورت ہو۔ اسے اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

🔗 یہ بھی پڑھیں


عام سوالات (FAQs)

سوال: اصحابِ اخدود کا واقعہ کہاں بیان ہوا ہے؟ جواب: یہ واقعہ قرآن کریم کی سورہ بروج میں بیان ہوا ہے، اور اس کی تفصیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت سے صحیح مسلم میں محفوظ ہے۔

سوال: بچے نے بادشاہ کو خود کو مارنے کا طریقہ کیوں بتایا؟ جواب: تاکہ لوگوں پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ یہ معجزات بچے کی اپنی طاقت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ظاہر ہو رہے تھے۔

سوال: خندق میں آگ جلانے کا حکم کیوں دیا گیا؟ جواب: بادشاہ نے یہ حکم اس لیے دیا تاکہ جو لوگ بچے کی شہادت کے بعد ایمان لائے تھے، انہیں دوبارہ کفر کی طرف موڑا جا سکے۔

سوال: اس کہانی سے سب سے بڑا سبق کیا ملتا ہے؟ جواب: سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ایمان کی طاقت موت کے خوف سے کہیں زیادہ ہے، اور اللہ کے راستے میں دی گئی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔


خلاصہ کلام

اصحابِ اخدود کی یہ کہانی ایمان، قربانی اور استقامت کی ایک ایسی مثال ہے جو صدیوں بعد بھی دلوں کو گرما دیتی ہے۔ ایک معصوم بچے نے اپنی جان کی قربانی سے ہزاروں لوگوں کے دلوں میں ایمان کی روشنی جگا دی، اور ایک ننھے شیرخوار نے اپنی ماں کو ایسا حوصلہ دیا کہ وہ بغیر کسی خوف کے آگ میں کود گئی۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی اور ایمان کبھی شکست نہیں کھاتے، چاہے راستہ کتنا ہی مشکل اور تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسا ہی مضبوط اور ثابت قدم ایمان عطا فرمائے، آمین۔


یہ مضمون قرآن کریم کی سورہ بروج اور صحیح مسلم کی معروف روایات پر مبنی ہے۔ مزید تفصیلی مطالعے کے لیے تفاسیر اور کتبِ حدیث سے رجوع کریں۔

Abu Umar
Abu Umar
Islamic Urdu Hub کے مصنف۔ اسلامی علم و تعلیم کو آسان اردو زبان میں پیش کرنا ہمارا مقصد ہے۔
تمام مضامین 56 مضامین