مرکزی مواد پر جائیں
☪ بسم اللہ الرحمن الرحیم

کتے کو پانی پلانے والے کی معافی کا واقعہ – ایک چھوٹا عمل، بہت بڑا انعام

دیباچہ: کیا ایک چھوٹا سا نیک عمل واقعی زندگی بدل سکتا ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیا کوئی ایک چھوٹا سا عمل، جو چند لمحوں میں مکمل ہو جائے، اتنا وزنی ہو سکتا ہے کہ وہ انسان کی مغفرت کا ذریعہ بن جائے؟ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے بڑی بڑی عبادتیں، طویل نمازیں، یا بھاری صدقات ہی درکار ہوتے ہیں۔ مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسا سچا واقعہ بیان فرمایا جو اس سوچ کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے۔

یہ کہانی ہے ایک ایسے شخص کی جس نے، صحرا کی شدید گرمی میں، ایک پیاسے کتے پر رحم کیا، اور اس ایک عمل کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس کے تمام گناہ معاف فرما دیے۔ یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں محفوظ ہے، اور یہ ہمیں اسلام کے اس پہلو سے روشناس کراتا ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: جانوروں کے ساتھ رحمت اور ہمدردی کی اہمیت۔

آئیے، اس دل کو چھو لینے والی سچی داستان کو تفصیل سے پڑھتے ہیں۔


صحرا کا وہ طویل، تھکا دینے والا سفر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ ایک شخص کسی راستے پر سفر کر رہا تھا۔ یہ کوئی آسان سفر نہ تھا۔ عرب کے صحرا کی گرمی، طویل فاصلے، اور پانی کی کمی، یہ سب اس دور کے مسافروں کے لیے معمول کی بات تھی، مگر پھر بھی یہ سفر جسمانی طور پر انتہائی تھکا دینے والا ہوتا تھا۔

اس شخص کو سخت پیاس لگی۔ ایسی پیاس جو انسان کے پورے وجود پر چھا جاتی ہے، جہاں ذہن میں صرف ایک ہی خیال رہ جاتا ہے: پانی۔ وہ اپنے راستے پر آگے بڑھتا رہا، اپنی پیاس سے نبرد آزما ہوتا رہا، یہاں تک کہ اسے ایک کنواں نظر آیا۔


کنویں میں اترنا اور پیاس بجھانا

جب اس شخص نے کنواں دیکھا، تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اس نے فوراً کنویں میں اترنے کا فیصلہ کیا۔ وہ نیچے اترا، پانی تک پہنچا، اور خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ اپنی شدید پیاس بجھانے کے بعد، جب اس نے کنویں سے باہر نکلنے کے لیے اوپر کی طرف رخ کیا، تو اس کی نظر ایک ایسے منظر پر پڑی جس نے اس کے دل کو موم کر دیا۔


وہ پیاسا کتا جس نے سب کچھ بدل دیا

کنویں سے باہر، اس شخص نے ایک کتا دیکھا جو زبان باہر نکالے، ہانپتے ہوئے، شدید پیاس کی حالت میں کھڑا تھا۔ کتے کی یہ حالت اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ وہ پیاس کی شدت سے مرنے کے قریب ہے، ممکنہ طور پر پیاس ہی کی وجہ سے وہ زمین کو چاٹ رہا تھا، اس امید میں کہ شاید کہیں کچھ نمی مل جائے۔

اس شخص نے یہ منظر دیکھا اور اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ اس نے خود سے کہا: “اس کتے کو بھی وہی پیاس لگی ہے جو مجھے لگی تھی۔” یہ ایک نہایت خوبصورت لمحہ ہے: اس شخص نے اپنی ذاتی تکلیف، یعنی پیاس کی شدت، کو یاد کیا اور اسی احساس کی بنیاد پر ایک جانور کی تکلیف کو بھی سمجھ لیا۔ یہ ہمدردی کی وہ قسم ہے جو حقیقی رحمت کی بنیاد بنتی ہے: اپنی تکلیف کو یاد رکھ کر دوسروں، حتیٰ کہ جانوروں کی تکلیف کو بھی محسوس کرنا۔


وہ عمل جو تاریخ میں امر ہو گیا

اس شخص نے فوراً فیصلہ کیا کہ وہ اس کتے کی مدد کرے گا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس کے پاس پانی نکالنے کے لیے کوئی برتن نہیں تھا۔ اس نے اپنے پاؤں سے اپنا موزہ (خف) اتارا، اسے کنویں کی رسی یا اپنے کپڑے کی مدد سے نیچے کیا، پانی سے بھرا، اور پھر اپنے دانتوں یا منہ کی مدد سے اسے پکڑ کر، انتہائی مشکل اور تکلیف دہ انداز میں، کنویں سے باہر نکالا۔ باہر آ کر اس نے وہ پانی، جو اپنے موزے میں بھر کر لایا تھا، اس پیاسے کتے کو پلا دیا۔

سوچیے اس منظر کو: ایک شخص، جو خود صحرا کے سخت سفر سے تھکا ہوا ہے، صرف ایک جانور کی پیاس بجھانے کے لیے دوبارہ کنویں میں اترنے کی زحمت اٹھاتا ہے، اپنا موزہ استعمال کرتا ہے، اور نہایت مشکل انداز میں پانی نکال کر ایک آوارہ کتے کو پلاتا ہے، بغیر کسی توقع کے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے یا اسے اس کا کوئی صلہ ملے گا۔


اللہ تعالیٰ کا انعام: مکمل مغفرت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے اس عمل کی قدر فرمائی اور اس کی وجہ سے اس کے تمام گناہ معاف فرما دیے، اور اسے جنت میں داخل فرما دیا۔

یہ سن کر صحابہ کرام حیرت میں پڑ گئے اور انہوں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! کیا جانوروں کے ساتھ کیے گئے حسنِ سلوک پر بھی ہمیں اجر ملتا ہے؟” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ الفاظ ارشاد فرمائے جو رہتی دنیا تک جانوروں کے ساتھ رحمت کی اہمیت کی سب سے بڑی دلیل بن گئے: “ہر جیتے جاگتے (جگر رکھنے والے) وجود میں [نیکی کرنے پر] اجر ہے۔”

یہ الفاظ اس بات کی زبردست دلیل ہیں کہ اسلام میں رحمت کا دائرہ صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ ہر زندہ مخلوق تک پھیلا ہوا ہے۔ کوئی بھی جاندار، خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا یا حقیر سمجھا جانے والا ہو، اس کے ساتھ رحمت اور ہمدردی کا برتاؤ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بے حد قیمتی ہے۔


ایک اور روایت: گنہگار عورت کا قصہ

اسی موضوع پر ایک اور روایت بھی ملتی ہے، جس میں یہ واقعہ ایک گنہگار عورت کے حوالے سے بیان ہوا ہے۔ روایت میں بیان ہوا کہ ایک بدکار عورت نے، جو اپنے گناہوں میں ملوث تھی، ایک ایسے ہی موقع پر ایک شدید پیاسے کتے کو دیکھا جو کنویں کے قریب پیاس سے مرنے کے قریب تھا۔ اس عورت نے بھی اپنا موزہ اتار کر پانی نکالا اور کتے کو پلایا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی۔

یہ روایت ایک نہایت گہرا اور امید افزا سبق دیتی ہے: اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی کے ماضی یا اس کے گناہوں کی بنیاد پر محدود نہیں ہوتی۔ خواہ کوئی شخص کتنا ہی گناہ گار ہو، ایک خالص اور مخلصانہ نیک عمل بھی اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کے قریب لے جا سکتا ہے۔


دوسری طرف کا سبق: بلی کو بھوکا مارنے والی عورت کا انجام

اسی موضوع کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ایک اور حدیث کا ذکر بھی ضروری ہے، جو اس کے بالکل برعکس پہلو کو ظاہر کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک عورت کو، ایک بلی کی وجہ سے، جہنم میں داخل کیا گیا۔ اس عورت نے ایک بلی کو باندھ رکھا تھا، اسے نہ خود کھانا کھلایا، نہ پانی دیا، اور نہ ہی اسے آزاد چھوڑا کہ وہ خود اپنے لیے کوئی کیڑا مکوڑا ہی کھا کر زندہ رہ سکے، یہاں تک کہ وہ بلی بھوک اور پیاس کی شدت سے مر گئی۔

یہ دو احادیث، جب ایک ساتھ رکھی جائیں، تو ایک زبردست توازن اور سبق فراہم کرتی ہیں: جس طرح جانور کے ساتھ رحمت اور بھلائی مغفرت کا ذریعہ بن سکتی ہے، اسی طرح جانور کے ساتھ ظلم اور بے رحمی، خواہ وہ کتنا ہی “چھوٹا” جانور ہو، جہنم میں جانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔


اس واقعے کی سند اور اہمیت

یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ محفوظ ہے، جو اس کی صداقت اور اعتبار کو ظاہر کرتی ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ ان چند احادیث میں شامل ہے جو جانوروں کے حقوق اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے موضوع پر سب سے زیادہ حوالہ دی جاتی ہیں۔


اس کہانی سے حاصل ہونے والے اسباق

1. رحمت کا دائرہ صرف انسانوں تک محدود نہیں

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام میں رحمت اور ہمدردی کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ جانور، جو اکثر ہماری روزمرہ توجہ سے باہر رہتے ہیں، ان کے ساتھ بھی حسنِ سلوک اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت قیمتی عمل ہے۔

2. چھوٹا عمل، بڑا اجر

اس شخص نے کوئی بہت بڑی عبادت نہیں کی، نہ کوئی طویل نماز پڑھی، نہ کوئی بھاری صدقہ دیا۔ اس نے صرف چند لمحوں میں ایک پیاسے جانور کو پانی پلایا، مگر اس چھوٹے سے عمل نے اس کی مغفرت کا ذریعہ بنا دیا۔

3. اللہ کی رحمت کسی کے ماضی سے محدود نہیں

گنہگار عورت کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خواہ ماضی کیسا بھی ہو، ایک خالص نیک عمل بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

4. جانوروں کے ساتھ ظلم کا انجام بھی سنگین ہے

بلی کو بھوکا مارنے والی عورت کا واقعہ ہمیں یہ خبردار کرتا ہے کہ جانوروں کے ساتھ بے رحمی اور ظلم بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک سنگین گناہ ہے جس کا انجام نہایت خوفناک ہو سکتا ہے۔

5. ہمدردی کی جڑ اپنی تکلیف کو یاد رکھنا ہے

اس شخص نے اپنی پیاس کی تکلیف کو یاد کر کے کتے کی تکلیف کو سمجھا۔ یہ سبق ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنی مشکلات کو یاد رکھنا، دوسروں (اور جانوروں) کے دکھ کو سمجھنے اور ان کی مدد کرنے کی سب سے مضبوط بنیاد بن سکتا ہے۔


آج کے دور میں یہ کہانی کیوں اہم ہے؟

آج کے دور میں، جہاں جانوروں کے ساتھ بدسلوکی، آوارہ جانوروں کو نظر انداز کرنا، یا انہیں تکلیف پہنچانا ایک عام سی بات بن چکی ہے، یہ کہانی ہمیں ایک زبردست یاد دہانی فراہم کرتی ہے۔ کسی آوارہ کتے یا بلی کو تھوڑا سا کھانا یا پانی دینا، کسی زخمی پرندے کی مدد کرنا، یا کسی جانور کو غیر ضروری تکلیف سے بچانا، یہ سب وہ اعمال ہیں جو بظاہر معمولی نظر آتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی قدر و قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

یہ کہانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ نیکی کے مواقع ہماری زندگی میں ہر جگہ موجود ہیں، صرف ہمیں اپنی نظر اور اپنے دل کو حساس بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہم انہیں پہچان سکیں۔


📤 اس کہانی کو آگے پھیلائیے

یہ کہانی ہر اس دل تک پہنچنی چاہیے جو یہ سمجھتا ہو کہ نیکی کے لیے صرف بڑے اعمال ہی ضروری ہیں۔ اسے اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

🔗 یہ بھی پڑھیں


عام سوالات (FAQs)

سوال: یہ واقعہ کس حدیث کی کتاب میں موجود ہے؟ جواب: یہ واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں مختلف الفاظ کے ساتھ روایت ہوا ہے۔

سوال: اس شخص نے کتے کو پانی کیسے پلایا؟ جواب: اس نے اپنا موزہ اتار کر اس میں کنویں سے پانی بھرا اور اپنے منہ کی مدد سے اسے باہر نکال کر کتے کو پلایا۔

سوال: کیا جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک پر واقعی اجر ملتا ہے؟ جواب: جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کہ ہر جیتے جاگتے وجود کے ساتھ نیکی کرنے پر اجر ملتا ہے۔

سوال: کیا جانوروں کے ساتھ بدسلوکی پر بھی گناہ ہوتا ہے؟ جواب: جی ہاں، ایک اور حدیث میں بیان ہوا کہ ایک عورت کو ایک بلی کو بھوکا مار دینے کی وجہ سے جہنم میں داخل کیا گیا۔


خلاصہ کلام

کتے کو پانی پلانے والے شخص کی یہ کہانی ہمیں ایک نہایت گہرا اور امید افزا سبق دیتی ہے: نیکی کے لیے کوئی عمل چھوٹا نہیں ہوتا، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کسی کے ماضی یا کسی جاندار کی حیثیت سے محدود نہیں ہوتی۔ ایک پیاسے جانور پر کیا گیا رحم، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنا وزنی ثابت ہوا کہ اس نے ایک انسان کی مغفرت کا ذریعہ بنا دیا۔ آئیے آج ہی سے اپنے اردگرد موجود جانداروں کے ساتھ رحمت اور ہمدردی کا برتاؤ اپنانے کی کوشش کریں، کیونکہ ہو سکتا ہے یہی چھوٹا سا عمل ہمارے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کا ذریعہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رحم دل اور ہمدرد بننے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


یہ مضمون صحیح بخاری و صحیح مسلم کی معروف روایات پر مبنی ہے۔ مزید تفصیلی مطالعے کے لیے کتبِ حدیث سے رجوع کریں۔

Abu Umar
Abu Umar
Islamic Urdu Hub کے مصنف۔ اسلامی علم و تعلیم کو آسان اردو زبان میں پیش کرنا ہمارا مقصد ہے۔
تمام مضامین 63 مضامین