سلطان محمود غزنوی کا نام آتے ہی ذہن میں سب سے پہلے ہندوستان کی طرف ان کی مہمات آتی ہیں۔ اردو اور فارسی کتابوں میں عام طور پر “سترہ حملوں” کا ذکر ملتا ہے، اور یہ عدد اتنا مشہور ہے کہ بہت سے لوگ اسے کسی دستاویز میں درج حتمی گنتی سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عدد ایک روایتی شمار ہے جو بعد کے مؤرخین نے مختلف مہمات کو جمع کر کے بنایا۔ معاصر مؤرخین نے ہر حملے پر نمبر نہیں لگایا، اور خود جدید محققین کی فہرستیں بھی مختلف ہیں، کیونکہ ایک ہی سفر میں کئی قلعے فتح ہوتے تھے اور بعض مقامات کے نام آج پہچانے ہی نہیں جا سکتے۔
اس قسط میں ہم ان مہمات کو سال بہ سال ترتیب سے دیکھیں گے، اور ہر جگہ یہ بھی بتائیں گے کہ ہمارے پاس کیا معلومات کس ذریعے سے آئی ہیں۔ یہ ایک حساس تاریخی موضوع ہے جس پر آج بھی مختلف رائیں پائی جاتی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم واقعات کو، اور ان کے پس منظر کو، دیانتداری کے ساتھ پیش کریں، بغیر کسی مبالغے کے اور بغیر کسی کو ہیرو یا ولن بنائے۔
ہمارے ماخذ کیا ہیں؟
غزنوی دور کی تاریخ کے بنیادی ماخذ میں سب سے پہلا نام عتبی کا ہے، جو سلطان کے دربار سے وابستہ تھے اور جنہوں نے “تاریخِ یمینی” لکھی۔ ظاہر ہے کہ ایک درباری مؤرخ کی تحریر میں سلطان کی تعریف اور فتوحات کی شان بڑھا چڑھا کر بیان ہو سکتی ہے۔ ان کے ساتھ گردیزی اور بیہقی کا ذکر ہم پچھلی اقساط میں کر چکے ہیں۔ بعد کے ادوار میں فرشتہ جیسے مؤرخین نے ان بیانات کو دہرایا اور اپنی طرف سے تفصیلات بھی شامل کیں۔
اس کے علاوہ ایک نہایت اہم گواہ البیرونی ہیں، جو خود سلطان کے ساتھ رہے اور ہندوستان کے علوم و عقائد پر عربی میں کتاب لکھی۔ ان کا بیان خاص طور پر قیمتی ہے کیونکہ وہ نہ تو سلطان کے خوشامدی تھے اور نہ ہندوستانی تہذیب کے مخالف۔ اس سیریز کی ایک الگ قسط میں ہم ان کے کام کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ فی الحال اتنا جان لیں کہ البیرونی نے بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سلطان کی مہمات سے ہندوستان کے علاقوں کی خوشحالی کو بڑا نقصان پہنچا۔
پس منظر: سبکتگین سے شروع ہونے والا سلسلہ
محمود کی مہمات اچانک شروع نہیں ہوئیں۔ ان کے والد سبکتگین نے غزنی کا حکمران بننے کے بعد ہی ہندو شاہی سلطنت کے ساتھ جھڑپوں کا آغاز کر دیا تھا۔ ہندو شاہی سلطنت اس وقت افغانستان کے مشرقی حصوں اور موجودہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی، اور اس کا حکمران راجا جے پال تھا۔ سبکتگین نے 988ء اور پھر 991ء میں لغمان کے مقام پر جے پال کو شکست دی، اور پشاور کے آس پاس کے علاقے غزنی کی سلطنت میں شامل ہو گئے۔
یعنی جب 997ء میں محمود تخت پر بیٹھے تو ان کے پاس ایک ایسی سرحد پہلے سے موجود تھی جو دو بڑی طاقتوں، غزنی اور ہندو شاہی ریاست، کے درمیان مسلسل کشیدگی کا باعث تھی۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی مہمات کا ایک سیاسی اور سرحدی پہلو بھی تھا، اور یہ صرف دور دراز ملک پر اچانک چڑھائی کا معاملہ نہیں تھا۔
مہمات کے مقاصد: مؤرخین کیا کہتے ہیں؟
ان مہمات کی وجوہات کے بارے میں مؤرخین کی رائے ایک جیسی نہیں۔ عام طور پر تین عوامل کا ذکر ہوتا ہے:
- سیاسی اور سرحدی: غزنی کی مشرقی سرحد کو محفوظ کرنا، ہندو شاہی سلطنت کو کمزور کرنا، اور پنجاب میں غزنوی حکومت قائم کرنا۔
- مالی: ہندوستان کے امیر شہروں اور مندروں میں جمع دولت، جو غزنی کی فوج، دربار اور عمارتوں کے اخراجات کے لیے بہت اہم تھی۔
- مذہبی: درباری مؤرخین نے ان مہمات کو جہاد اور بت شکنی کے طور پر بیان کیا، اور سلطان کے لیے “بت شکن” کا لقب بھی استعمال ہوا۔
بعض جدید مؤرخین کا کہنا ہے کہ مذہبی بیان ایک سیاسی جواز کا کام دیتا تھا، جبکہ اصل محرک سلطنت کی مالی ضرورتیں اور اقتدار کی توسیع تھی۔ دوسرے محققین ان عوامل کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا دیکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود سلطان کے مخالفین میں ہندو راجاؤں کے علاوہ ملتان کے اسماعیلی مسلمان حکمران بھی تھے، اور سلطان کی فوج میں ہندو سپہ سالار بھی شامل تھے (جیسا کہ ہم پہلی قسط میں تلک اور بناہ کے ذکر میں دیکھ چکے ہیں)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تصویر سیدھی سادی “مسلمان بمقابلہ ہندو” کی نہیں تھی۔
مہم بہ مہم: ایک تاریخی ترتیب
1001ء: پشاور کا معرکہ
سلطان کی پہلی بڑی فیصلہ کن لڑائی 1001ء میں پشاور کے قریب راجا جے پال کے خلاف ہوئی۔ غزنوی فوج کو فتح ہوئی، جے پال قید ہوا، اور گندھارا کا بڑا علاقہ غزنی کی سلطنت میں شامل ہو گیا۔ ماخذ بتاتے ہیں کہ جے پال نے قید کے بعد اپنی ذلت پر خود کو آگ میں جلا کر زندگی ختم کر لی، جو ہندو شاہی حکمرانوں میں شکست کے بعد ایک روایتی عمل سمجھا جاتا تھا۔ اگلے برس 1002ء میں ہندو شاہیوں کا دارالحکومت ہُند بھی غزنی کے قبضے میں چلا گیا۔
1004ء: بھاٹیہ کا محاصرہ
اس کے بعد سلطان نے بھاٹیہ کی ریاست (جس کا درست مقام آج متعین نہیں ہو سکتا) پر چڑھائی کی اور اس کے حکمران بجی رائے کو شکست دی۔ تین دن کی شدید لڑائی کے بعد شہر فتح ہوا، اور بجی رائے نے قید ہونے کے بجائے اپنی جان لے لی۔ سلطان کو اس مہم سے بہت سا مال اور ایک سو بیس کے قریب ہاتھی ملے۔
1006ء سے 1010ء: ملتان کی مہمات
ملتان اس وقت ایک اسماعیلی مسلمان حکمران فتح داؤد کے زیرِ اقتدار تھا۔ 1006ء میں سلطان ملتان کی طرف بڑھے تو راستے میں ہندو شاہی حکمران آنندپال نے، جو فتح داؤد کا اتحادی تھا، انہیں گزرنے کی اجازت نہ دی۔ سلطان نے دریائے سندھ کے قریب اسے شکست دی اور پھر ملتان پہنچ کر فتح داؤد کو سالانہ خراج پر مطیع کیا۔ واپسی پر سلطان نے ایک نو مسلم نواسہ شاہ (سُکھ پال) کو ہندوستانی علاقوں کا نگران مقرر کیا، مگر وہ سلطان کی غیرموجودگی میں دوبارہ ہندو ہو گیا اور بغاوت کر دی۔ سلطان واپس آئے، بغاوت کچلی گئی، اور سُکھ پال کو قید کر کے اس سے چار لاکھ درہم جرمانہ لیا گیا۔ 1010ء میں فتح داؤد نے دوبارہ سرکشی کی اور اس مرتبہ اسے قید کر لیا گیا۔
1008ء اور 1009ء: آنندپال اور ناراین
1008ء میں سلطان نے آنندپال کو چھچھ کے مقام پر شکست دی، کیونکہ اس نے ملتان کی مہم میں فتح داؤد کا ساتھ دیا تھا۔ ایک بیان کے مطابق شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں نے اس موقع پر آنندپال کے ساتھ اتحاد کیا، مگر نتیجہ سلطان کے حق میں رہا۔ اگلے سال 1009ء میں سلطان نے ناراین کی راجپوت ریاست پر حملہ کیا، جو آنندپال کے ماتحت تھی، اور اس مہم سے غزنی کی رسائی ہندوستان کے اندرونی علاقوں تک ہو گئی۔ آنندپال کے بعد ہونے والے امن معاہدے میں سالانہ خراج، پچاس ہاتھی اور دو ہزار مسلح سپاہی دینے کی شرطیں شامل تھیں۔
1012ء سے 1014ء: تھانیسر اور نندنہ
1012ء میں سلطان تھانیسر کی طرف روانہ ہوئے، جو ہندوؤں کے نزدیک ایک مقدس شہر تھا۔ آنندپال سے طے شدہ معاہدے کے مطابق سلطان کو اس کے علاقے سے گزرنے دیا گیا، مگر اس نے درخواست کی تھی کہ مقدس شہر کو تباہ نہ کیا جائے۔ سلطان نے راستے میں دیرہ کے سردار راما کو شکست دی اور تھانیسر کو لوٹ لیا۔ 1014ء میں سلطان نے آنندپال کے بیٹے اور جانشین ترلوچن پال کے خلاف نندنہ کے قلعے پر حملہ کیا، جو سالٹ رینج میں واقع تھا۔ قلعہ فتح ہوا اور ترلوچن پال کشمیر کی طرف بھاگ گیا۔
1015ء: کشمیر میں ناکامی
ترلوچن پال کا تعاقب کرتے ہوئے سلطان نے کشمیر کا رخ کیا۔ لوہکوٹ کے قلعے کے محاصرے کے دوران شدید سردی اور برفباری کا موسم آگیا، اور بھاری جانی نقصان کے بعد سلطان کو واپس لوٹنا پڑا۔ یہ سلطان کی نایاب ناکامیوں میں سے ایک تھی، اور کشمیر غزنوی سلطنت میں کبھی شامل نہ ہو سکا۔ کچھ بیانات کے مطابق 1021ء کے قریب سلطان نے دوبارہ لوہکوٹ کا محاصرہ کیا اور دوبارہ سردی نے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کیا۔
1018ء: متھرا، قنوج اور گنگا کا میدان
سلطان کی سب سے دور رس مہم 1018ء میں ہوئی، جب وہ بلندشہر، مہاون، متھرا اور قنوج کی طرف بڑھے۔ بلندشہر کا راجا ہردت قلعہ چھوڑ کر بھاگ گیا اور شہر والوں نے بھاری رقم اور ہاتھیوں کے بدلے صلح کی۔ مہاون کے راجا کلچند نے مقابلہ کیا مگر شکست کے بعد اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی جان لے لی۔ متھرا نے کوئی خاص مزاحمت نہیں کی اور اسے لوٹ لیا گیا، جہاں بہت سے مندر ملیامیٹ ہوئے۔ قنوج کا گرجر پرتیہار راجا راجیہ پال بھی بغیر لڑے پیچھے ہٹ گیا اور بعد میں اطاعت قبول کر لی۔ اسی مہم میں برہمنوں کے مضبوط گڑھ مُنجھاون اور آسی کے قلعے بھی فتح ہوئے، جن میں ماخذ کے مطابق انتہائی خونریز لڑائی ہوئی۔ ان مہمات سے سلطان کو غیرمعمولی دولت اور بہت سے ہاتھی ملے۔
1019ء سے 1022ء: کالنجر، گوالیار اور لاہور
1019ء میں سرسوا کے سردار چاند رائے کو شکست دی گئی۔ 1021ء میں سلطان نے چندیلا راجا ودیادھر کو سزا دینے کے ارادے سے مہم شروع کی کیونکہ اس نے قنوج کے راجا راجیہ پال کو، جو سلطان کے سامنے سر جھکا چکا تھا، قتل کر دیا تھا۔ راستے میں دریائے راہب کے کنارے ترلوچن پال سے لڑائی ہوئی، جس میں اس کی فوج ہار گئی اور وہ بعد میں مارا گیا۔ پھر سلطان نے گوالیار کے قلعے کا محاصرہ کیا، جہاں کے راجا نے ہاتھی دے کر اطاعت قبول کی۔ کالنجر کے طویل محاصرے کے بعد فریقین میں صلح ہو گئی۔ ماخذ کے مطابق ودیادھر نے سلطان کی تعریف میں ایک نظم لکھی اور سلطان نے خوش ہو کر پندرہ قلعے اسے لوٹا دیے۔ اسی دور میں، تقریباً 1021ء-1022ء میں، لاہور پر قبضہ ہوا اور دریائے ستلج تک پنجاب کا پورا علاقہ غزنوی سلطنت میں شامل ہو گیا۔ لاہور کی یہ فتح اس لیے بھی اہم ہے کہ یہی شہر آگے چل کر غزنویوں کی ہندوستانی سلطنت کا مرکز بنا، جیسا کہ ہم پہلی قسط میں ایاز کے ذکر میں دیکھ چکے ہیں۔
1025ء-1026ء: سومنات کی مہم
سلطان کی سب سے مشہور اور سب سے مشکل مہم سومنات کی تھی۔ سومنات گجرات کے ساحلی علاقے میں، آج کے پربھاس پٹن کے مقام پر، ایک عظیم الشان شیو مندر تھا جو اپنی دولت اور عقیدت مندوں کی کثرت کے لیے مشہور تھا۔ سلطان 1025ء کے آخر میں غزنی سے روانہ ہوئے۔ ماخذ کے مطابق ان کی فوج میں تقریباً اسّی ہزار آدمی تھے۔ راستہ ملتان سے ہوتا ہوا تھر کے صحرا سے گزرتا تھا، جہاں پانی اور رسد کا انتظام سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ راستے میں لودھروا، سانبھر اور دیلواڑہ جیسے مقامات پر لڑائیاں ہوئیں۔ جنوری 1026ء کے ابتدائی دنوں میں سلطان سومنات کے قلعے تک پہنچے، اور شدید لڑائی کے بعد مندر پر قبضہ کر لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مندر لوٹ لیا گیا اور اس کے بت توڑ دیے گئے، اور اسی واقعے نے سلطان کو “بت شکن” کے لقب کے ساتھ تاریخ میں زیادہ شہرت دی۔ دفاع کرنے والوں کی ہلاکتوں کی جو تعداد بعض بیانات میں درج ہے، وہ ہزاروں میں ہے، مگر قرونِ وسطیٰ کے تاریخی اعداد و شمار میں مبالغے کا امکان ہمیشہ رہتا ہے، اس لیے ہم ان کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ واپسی میں سندھ کے علاقے منصورہ میں بھی کارروائی ہوئی۔
1027ء: جاٹوں کے ساتھ آخری معرکہ
سومنات سے واپسی کے بعد سلطان نے 1027ء میں دریائے سندھ کے قریب جاٹوں کے خلاف کارروائی کی، جو اس راستے پر فوج کو ستاتے رہے تھے۔ یہ سلطان کی آخری بڑی مہم مانی جاتی ہے۔ روایتی شمار میں سومنات کو سولہویں اور جاٹوں کی مہم کو سترہویں شمار کیا جاتا ہے۔
ایک نظر میں: اہم مہمات
| سال | مقام / مخالف | نتیجہ |
|---|---|---|
| 1001ء | پشاور، راجا جے پال | غزنی کی فتح، گندھارا شامل |
| 1004ء | بھاٹیہ، بجی رائے | غزنی کی فتح |
| 1006ء | ملتان، فتح داؤد اور آنندپال | غزنی کی فتح، خراج |
| 1008ء | چھچھ، آنندپال | غزنی کی فتح |
| 1010ء | ملتان کی دوسری بغاوت | بغاوت کچلی گئی |
| 1012ء-1014ء | تھانیسر، نندنہ | غزنی کی فتح |
| 1015ء | لوہکوٹ، کشمیر | سلطان کی ناکامی، سردی کے باعث واپسی |
| 1018ء | مہاون، متھرا، قنوج | غزنی کی فتح، بڑی دولت |
| 1021ء | گوالیار، کالنجر | اطاعت اور صلح |
| 1021ء-1022ء | لاہور | پنجاب غزنی میں شامل |
| 1025ء-1026ء | سومنات | غزنی کی فتح، سب سے طویل مہم |
| 1027ء | جاٹ، دریائے سندھ | غزنی کی کارروائی |
سلطان کی کامیابی کے اسباب
اتنے بڑے علاقے پر ایک چھوٹی سی ریاست کے سلطان کی لگاتار کامیابی کے پیچھے چند ٹھوس عوامل نظر آتے ہیں۔ غزنوی فوج تیز رفتار سواروں پر مشتمل تھی، جس میں ترک گھڑ سوار، ہاتھی اور مختلف علاقوں کے سپاہی شامل تھے۔ سلطان کی فوج باقاعدہ تنخواہ پر تھی، اور مہمات سے حاصل ہونے والی دولت سپاہیوں کی وفاداری بڑھاتی تھی۔ دوسری طرف ہندوستانی ریاستیں آپس میں بٹی ہوئی تھیں۔ جب کبھی اتحاد بنے بھی تو ان میں ہم آہنگی کی کمی رہی۔ مگر جہاں موسم یا جغرافیہ نے ساتھ نہ دیا، جیسے کشمیر کی برفباری، وہاں سلطان کی فوج بھی بے بس ہوئی۔
سلطان کے بعد کیا ہوا؟
یہاں ہم ایک عام غلط فہمی کی وضاحت کرتے ہیں۔ کئی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے کہ سلطان کے بعد تقریباً ڈیڑھ سو سال تک مسلمانوں کی طرف سے ہندوستان کی طرف کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی، یہاں تک کہ محمد غوری آئے۔ یہ بات درست نہیں۔ سلطان محمود 1030ء میں فوت ہوئے، مگر غزنوی سلطنت اور اس کی مہمات ختم نہیں ہوئیں۔
سلطان کے بیٹے مسعود کے دور میں 1033ء میں سرسوا کا قلعہ فتح ہوا، 1034ء میں غزنوی سالار احمد ینالتگین نے بنارس تک پہنچ کر شہر کے بازار لوٹے، اور 1037ء میں ہانسی اور سونی پت کے قلعے فتح ہوئے۔ سلطان مودود کے دور میں 1043ء میں ہندوستانی راجاؤں کے ایک بڑے اتحاد نے لاہور کا سات ماہ محاصرہ کیا، مگر غزنوی فوج نے محاصرہ توڑ دیا اور حملہ آوروں کو پسپا کیا، اور اس دوران ہانسی اور تھانیسر ہاتھ سے نکل گئے۔ ابراہیم غزنوی کے دور میں 1079ء کے قریب سرہند، جالندھر اور اجودھن (پاکپتن) جیسے علاقے فتح ہوئے، اور بعد میں اس کے بیٹے محمود کی قیادت میں آگرہ اور قنوج تک مہمات ہوئیں۔ البتہ غزنوی طاقت آہستہ آہستہ کمزور ہوتی گئی، اور آخرکار آخری غزنوی سلطان خسرو ملک کے زمانے میں، بارہویں صدی میں، پنجاب تک محدود یہ سلطنت غوریوں کے ہاتھ آئی۔
تاریخ کو دیانتداری سے کیسے پڑھیں؟
ایسے موضوعات پر لکھتے ہوئے ہمیں ایک اصول یاد رکھنا چاہیے: تاریخ کی کتابیں فاتح بھی لکھتا ہے اور مفتوح بھی، اور دونوں اپنے اپنے زاویے سے واقعات بیان کرتے ہیں۔
- درباری مؤرخین فتح کی شان بڑھاتے ہیں: عتبی جیسے مؤرخ سلطان کے دربار سے وابستہ تھے، اس لیے ان کے اعداد و شمار، جیسے مقتولین یا لوٹ کی مقدار، اکثر مبالغہ آمیز ہو سکتے ہیں۔
- بعد کے بیانات میں رنگ آمیزی: صدیوں بعد لکھنے والے مؤرخین اور مذہبی یا قومی بیانیے بنانے والے لوگ واقعات میں اپنی ترجیحات کے مطابق اضافہ کر دیتے ہیں۔
- اثرات کی اصل حقیقت: البیرونی جیسے منصف گواہوں نے لکھا کہ ان مہمات کے بعد ہندوستان کے علاقوں کی خوشحالی کو شدید نقصان پہنچا۔ ہمیں سلطان کی عسکری مہارت اور سیاسی بصیرت کے ساتھ ساتھ اس انسانی قیمت کو بھی ماننا چاہیے جو ان جنگوں میں عام لوگوں نے ادا کی۔
اور ایک دیانتدارانہ خلاصہ یہی ہے: محمود غزنوی ایک غیرمعمولی سپہ سالار اور سلطنت ساز تھے، جنہوں نے غزنی کو اپنے زمانے کے بڑے مراکز میں سے ایک بنایا۔ مگر ان کی ہندوستانی مہمات کے اثرات پیچیدہ ہیں، اور ان کے بارے میں آج بھی مختلف قومیں اور مؤرخین مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ایک سنجیدہ قاری کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ نہ کسی بیانیے کے سامنے آنکھیں بند کرے اور نہ ہی شواہد سے بڑھ کر کوئی بات مانے۔
اگلی قسط میں ہم ان مہمات میں سب سے مشہور مہم، سومنات، کو ایک الگ اور زیادہ تفصیلی نظر سے دیکھیں گے، اور جاننے کی کوشش کریں گے کہ اس رات کے سفر میں اصل میں کیا ہوا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
کیا سلطان محمود نے واقعی سترہ حملے کیے؟ سترہ کا عدد بعد کے مؤرخین کی روایتی گنتی ہے۔ معاصر ماخذ میں ہر مہم پر نمبر نہیں لگا، اس لیے محققین کی فہرستوں میں فرق ملتا ہے۔ البتہ ہندوستان کی طرف سلطان کی درجنوں چھوٹی بڑی کارروائیاں تاریخی طور پر ثابت ہیں۔
سلطان کی پہلی بڑی مہم کون سی تھی؟ 1001ء میں پشاور کے قریب راجا جے پال کے خلاف لڑائی، جس میں گندھارا کا علاقہ غزنی کی سلطنت میں شامل ہوا۔
کیا سلطان کو کبھی شکست ہوئی؟ جی ہاں۔ کشمیر کے قلعہ لوہکوٹ کے محاصرے میں سردی اور برفباری کے باعث سلطان کو پسپا ہونا پڑا۔
کیا یہ سب مہمات مذہبی بنیاد پر تھیں؟ درباری مؤرخین نے انہیں مذہبی رنگ میں بیان کیا، مگر مؤرخین سیاسی، مالی اور مذہبی تینوں پہلوؤں کا ذکر کرتے ہیں، اور سلطان کی فوج میں ہندو سپہ سالار اور مخالفین میں مسلمان حکمران بھی شامل تھے۔
سلطان کی موت کے بعد کیا ہندوستان میں غزنوی مہمات رک گئیں؟ نہیں۔ ان کے جانشینوں کے دور میں بھی پنجاب اور اس سے آگے کارروائیاں جاری رہیں، اور غزنوی حکومت لاہور اور پنجاب پر بارہویں صدی تک قائم رہی۔
مزید مطالعہ
- محمد ناظم، The Life and Times of Sultan Mahmud of Ghazna
- سی ای بوسورتھ، The Ghaznavids: Their Empire in Afghanistan and Eastern Iran
- البیرونی، کتاب الہند (تحقیق ما للہند)
- وکیپیڈیا، Ghaznavid campaigns in India (جدول اور حوالہ جات کے لیے)
