ایک مسلمان رات کے وقت تہجد کی نماز ادا کر رہا ہے، کھڑکی کے ذریعے مسجد اور چاند نظر آ رہا ہے۔

نمازِ تہجد کی فضیلت، اہمیت اور فوائد | قرآن و حدیث کی روشنی میں

نمازِ تہجد کی فضیلت، اہمیت اور بے شمار برکتیں

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین۔

نمازِ تہجد اسلام کی عظیم ترین نفلی عبادات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جو بندے کو اپنے رب کے قریب کرتی ہے، دل کو سکون بخشتی ہے، گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتی ہے اور دعا کی قبولیت کے بہترین اوقات میں ادا کی جاتی ہے۔ رات کی تنہائی میں جب دنیا سو رہی ہوتی ہے اور ہر طرف خاموشی چھائی ہوتی ہے، تب اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اپنے رب کے حضور کھڑے ہو کر اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعائیں کرتے ہیں۔

قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں نمازِ تہجد کی بے شمار فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اس نماز کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس مبارک عبادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھتے تھے۔

تہجد کیا ہے؟

تہجد عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے نیند سے بیدار ہو کر عبادت کرنا۔ اصطلاح میں رات کے آخری حصے میں بیدار ہو کر جو نماز ادا کی جاتی ہے اسے نمازِ تہجد کہا جاتا ہے۔

اگرچہ رات میں عشاء کے بعد پڑھی جانے والی نفلی نماز بھی باعثِ ثواب ہے، لیکن علماء کے نزدیک نیند کے بعد اٹھ کر پڑھی جانے والی نماز کو تہجد کہنا زیادہ مناسب ہے۔

قرآنِ مجید میں نمازِ تہجد کا ذکر

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

“اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کرو، یہ آپ کے لیے اضافی عبادت ہے۔ امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا۔”

(سورۃ الاسراء: 79)

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو تہجد کی نماز کا حکم فرمایا اور اس کے بدلے مقامِ محمود جیسی عظیم بشارت عطا فرمائی۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

“ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں۔”

(سورۃ السجدہ: 16)

یہ آیت ان خوش نصیب بندوں کی تعریف بیان کرتی ہے جو رات کے وقت آرام و آسائش کو چھوڑ کر اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

احادیثِ مبارکہ میں نمازِ تہجد کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز (تہجد) ہے۔”

(صحیح مسلم)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام نفلی عبادات میں نمازِ تہجد کا مقام سب سے بلند ہے۔

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات کے وقت جب لوگ سو رہے ہوں نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔”

(جامع ترمذی)

یہ حدیث تہجد کی نماز کی عظیم فضیلت اور جنت کے حصول میں اس کے کردار کو واضح کرتی ہے۔

رات کے آخری پہر کی عظمت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“ہمارا رب ہر رات آخری تہائی حصے میں آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تاکہ میں اسے بخش دوں؟”

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

یہ وقت اللہ تعالیٰ کی رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کے نزول کا وقت ہے۔ اسی لیے اہلِ ایمان اس مبارک وقت میں بیدار ہو کر نماز، دعا اور استغفار میں مشغول رہتے ہیں۔

نمازِ تہجد کے روحانی فوائد

1. اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے

نمازِ تہجد بندے کو اپنے رب کے قریب لے جاتی ہے۔ جب ایک مسلمان رات کی تنہائی میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کا دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے بھر جاتا ہے۔

2. گناہوں کی معافی کا ذریعہ

تہجد کی نماز گناہوں کے کفارے کا سبب بنتی ہے۔ اس نماز کے ذریعے بندہ اپنے رب سے توبہ کرتا ہے اور مغفرت طلب کرتا ہے۔

3. دعا کی قبولیت

رات کا آخری حصہ دعا کی قبولیت کا بہترین وقت ہے۔ جو شخص اس وقت اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے یا اس کے لیے بہتر فیصلہ فرماتا ہے۔

4. دل کا سکون

آج کے دور میں بے چینی، پریشانی اور ذہنی دباؤ عام ہو چکا ہے۔ نمازِ تہجد انسان کے دل کو سکون، اطمینان اور روحانی طاقت عطا کرتی ہے۔

5. رزق میں برکت

بزرگانِ دین اور علماء نے لکھا ہے کہ تہجد گزار لوگوں کے رزق میں اللہ تعالیٰ خاص برکت عطا فرماتا ہے اور ان کے معاملات آسان فرما دیتا ہے۔

نمازِ تہجد کا طریقہ

نمازِ تہجد کا طریقہ عام نفلی نمازوں کی طرح ہی ہے۔

  • عشاء کی نماز ادا کریں۔
  • کچھ دیر آرام یا نیند کر لیں۔
  • رات کے آخری حصے میں بیدار ہوں۔
  • وضو کریں۔
  • دو، چار، چھ، آٹھ یا اس سے زیادہ رکعات نفل ادا کریں۔
  • خشوع و خضوع کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت کریں۔
  • نماز کے بعد دعا اور استغفار کریں۔
  • وتر کی نماز بھی ادا کریں اگر پہلے ادا نہ کی ہو۔

تہجد کتنی رکعات پڑھنی چاہیے؟

نمازِ تہجد کی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں۔ کم از کم دو رکعات پڑھی جا سکتی ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر رات میں گیارہ رکعات ادا فرمایا کرتے تھے جن میں وتر بھی شامل ہوتے تھے۔

(صحیح بخاری)

اس لیے دو رکعات سے آغاز کرنا بھی بہت بڑی سعادت ہے۔

تہجد پڑھنے والوں کے اوصاف

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے تہجد گزار بندوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ:

  • راتوں کو عبادت کرتے ہیں۔
  • اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔
  • آخرت کی کامیابی کے طلبگار ہوتے ہیں۔
  • صبر اور شکر کی زندگی گزارتے ہیں۔
  • لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں۔

ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شمار ہوتے ہیں۔

تہجد کی عادت کیسے بنائیں؟

بہت سے لوگ تہجد پڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن مستقل مزاجی پیدا نہیں ہو پاتی۔ اس کے لیے چند آسان تدابیر درج ذیل ہیں:

جلدی سونے کی کوشش کریں

رات دیر تک جاگنے سے تہجد کے لیے اٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

نیت مضبوط کریں

سونے سے پہلے تہجد کی نیت کریں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔

الارم لگائیں

موبائل یا گھڑی میں الارم مقرر کریں۔

کم از کم دو رکعات سے آغاز کریں

شروع میں زیادہ رکعات کا بوجھ نہ ڈالیں۔ مستقل مزاجی زیادہ اہم ہے۔

دعا کریں

اللہ تعالیٰ سے تہجد کی توفیق مانگتے رہیں کیونکہ عبادت کی توفیق بھی اللہ کی نعمت ہے۔

نمازِ تہجد اور کامیاب زندگی

تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، اولیاء اور علماء نے تہجد کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنایا۔ ان کی روحانی قوت، علم، حکمت اور کامیابیوں کے پیچھے تہجد کا بھی اہم کردار تھا۔

جو شخص اپنے دن کا آغاز اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے کاموں میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے اور اس کے دل میں اطمینان عطا کرتا ہے۔

نتیجہ

نمازِ تہجد ایک عظیم نعمت اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ دعا کی قبولیت، گناہوں کی مغفرت، دل کے سکون اور روحانی ترقی کا راستہ ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں صرف دو رکعات تہجد کو بھی مستقل بنیادوں پر شامل کر لیں تو ہمارے دل، اعمال اور زندگی میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ نمازِ تہجد ادا کرنے، اس پر استقامت اختیار کرنے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید پڑھیں :

مشکل وقت کی بہترین دعا — قرآن و حدیث سے ثابت دعائیں اور پڑھنے کا طریقہ

سونے سے پہلے کی مسنون دعائیں اور ان کے حیرت انگیز فوائد

ختمِ نبوت ﷺ کیا ہے؟ عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل بیان