مرکزی مواد پر جائیں
☪ بسم اللہ الرحمن الرحیم

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے: وہ حدیث جو پوری زندگی کا نقشہ بدل دیتی ہے

دیباچہ: وہ حدیث جس سے ہر بڑی حدیث کی کتاب کا آغاز ہوتا ہے

اگر آپ کبھی صحیح بخاری کھولیں، جو تمام حدیث کی کتابوں میں سب سے زیادہ معتبر سمجھی جاتی ہے، تو آپ کو معلوم ہوگا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی اس عظیم کتاب کا آغاز ایک ایسی حدیث سے کیا جو بظاہر نہایت مختصر ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسا سمندر پوشیدہ ہے جس کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے علمائے کرام نے صدیوں تک تحقیق کی ہے۔

یہ حدیث ہے: “اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔”

یہ الفاظ اتنے مختصر ہیں کہ انہیں چند سیکنڈوں میں پڑھا جا سکتا ہے، مگر ان کی اہمیت اتنی عظیم ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ سمیت کئی بڑے علماء نے فرمایا کہ یہ حدیث علمِ دین کا تہائی حصہ ہے۔ کچھ علماء نے تو یہاں تک کہا کہ اسلام کے تمام احکام کا ستر (70) ابواب اسی ایک حدیث کے تحت آتے ہیں۔

آج ہم اسی حدیث کو تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کریں گے: یہ حدیث کس موقع پر ارشاد ہوئی، اس کا کیا مطلب ہے، اور یہ ہماری روزمرہ زندگی کو کیسے مکمل طور پر بدل سکتی ہے۔


حدیث کا متن اور اس کی سند

یہ حدیث حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف شمار ہوگی، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف شمار ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔

یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے، اور محدثین کے نزدیک یہ ان چند احادیث میں شامل ہے جن پر امت کا مکمل اتفاق ہے کہ یہ نہایت بلند درجے کی صحیح اور مستند حدیث ہے۔


حدیث کا پسِ منظر: “مہاجر ام قیس” کا واقعہ

اس حدیث کے بیان ہونے کا ایک نہایت دلچسپ اور سبق آموز پسِ منظر ہے، جسے علمائے کرام نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ روایت کے مطابق، مدینہ منورہ میں ایک صحابی تھے جن کا ایک مقصد ام قیس نامی ایک خاتون سے شادی کرنا تھا۔ اس خاتون نے شرط رکھی کہ وہ اسی شخص سے شادی کرے گی جو مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے گا۔

اس شخص نے، محض اس خاتون سے شادی کی خواہش میں، ظاہری طور پر ہجرت کی، یعنی وہ مکہ سے مدینہ منتقل ہوا، مگر اس کی اصل نیت اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لیے ہجرت کرنا نہ تھی بلکہ اس عورت سے نکاح کرنا تھا۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام نے اس شخص کا لقب “مہاجر ام قیس” رکھ دیا، یعنی “ام قیس کا مہاجر”، نہ کہ اللہ کا مہاجر۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر یہ عظیم حدیث ارشاد فرمائی، تاکہ امت کو یہ سمجھایا جائے کہ ظاہری عمل خواہ کتنا ہی نیک اور بلند نظر آئے، اس کی حقیقی قدر و قیمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس نیت پر منحصر ہے جو اس عمل کے پیچھے کارفرما ہے۔


نیت کیا ہے؟ ایک سادہ سی وضاحت

نیت کا مطلب ہے وہ ارادہ جو دل میں کسی عمل کو کرنے سے پہلے موجود ہوتا ہے۔ یہ زبان سے ادا کرنے کی چیز نہیں بلکہ دل کی ایک کیفیت ہے۔ کوئی بھی عمل، خواہ وہ نماز ہو، روزہ ہو، صدقہ ہو، یا روزمرہ کے دیگر کام، اس کی حقیقی قدر و قیمت اس نیت سے طے ہوتی ہے جو دل میں اس کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دو افراد بظاہر ایک جیسا عمل کر سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا اجر بالکل مختلف ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کی نیتیں مختلف تھیں۔ مثال کے طور پر، دو افراد مسجد میں چندہ دیتے ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، اور دوسرا محض لوگوں میں اپنی نیک نامی کے لیے۔ ظاہری عمل ایک جیسا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا انجام یکسر مختلف ہوگا۔


کیوں یہ حدیث “علمِ دین کا تہائی حصہ” کہلاتی ہے؟

امام شافعی رحمہ اللہ اور دیگر بہت سے بڑے علماء نے یہ فرمایا کہ یہ حدیث دین کے علم کا تہائی حصہ ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ انسان کا ہر عمل تین چیزوں سے مل کر بنتا ہے: دل کی نیت، زبان کا اقرار، اور اعضاء کا عمل۔ یہ حدیث ان تینوں میں سے سب سے اہم اور بنیادی جزو، یعنی دل کی نیت کا احاطہ کرتی ہے، جو باقی دو اجزاء کی قبولیت اور حقیقی معنویت کا تعین کرتی ہے۔

اسی طرح علمائے کرام نے یہ بھی بیان کیا کہ تین احادیث پورے دین کی بنیاد ہیں: یہ حدیث نیت کے بارے میں، ایک حدیث حلال و حرام کے واضح اور مشتبہ ہونے کے بارے میں، اور ایک حدیث دین خیرخواہی کا نام ہے کے بارے میں۔ ان تینوں کو ملا کر پورے دین کا خلاصہ سمجھا جاتا ہے۔


یہ حدیث ہماری روزمرہ زندگی کو کیسے بدل سکتی ہے؟

اس حدیث کی سب سے زبردست بات یہ ہے کہ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی عام سا کام، اگر نیک نیت کے ساتھ کیا جائے، تو وہ عبادت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

کھانا کھانا: اگر ہم اپنے جسم کو طاقتور رکھنے کی نیت سے کھانا کھائیں تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نیک کام بہتر طریقے سے کر سکیں، تو یہ عمل عبادت بن جاتا ہے۔

کام پر جانا: اگر ہم اپنے خاندان کی کفالت کی نیت سے، اور حلال روزی کمانے کی نیت سے کام پر جائیں، تو یہ عمل بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اجر کا باعث بن سکتا ہے۔

نیند: اگر ہم رات کو اس نیت سے سوئیں کہ صبح تازہ دم ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نیک کام بہتر طور پر کر سکیں، تو یہ نیند بھی عبادت میں شمار ہو سکتی ہے۔

تعلیم حاصل کرنا: اگر طالب علم علم اس نیت سے حاصل کرے کہ اس سے دین اور انسانیت کی خدمت کرے گا، نہ کہ صرف دنیاوی نمود و نمائش کے لیے، تو یہ تعلیم بھی عبادت بن جاتی ہے۔

یہ تصور ہمیں یہ زبردست خوشخبری دیتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ہر لمحہ عبادت میں تبدیل کرنے کا موقع حاصل ہے، بشرطیکہ ہم اپنی نیت کو درست رکھیں۔


نیت اور اخلاص کا گہرا تعلق

اس حدیث کا ایک اور اہم پہلو “اخلاص” سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے کسی عمل کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا، بغیر کسی دکھاوے، شہرت یا دنیاوی فائدے کی خواہش کے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر خبردار فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے تین قسم کے لوگوں کا حساب لیا جائے گا جنہوں نے بظاہر بڑے نیک کام کیے ہوں گے، جیسے شہادت، علم کی تعلیم، اور صدقہ، مگر ان کی نیت میں اخلاص کے بجائے لوگوں سے داد و تحسین حاصل کرنا شامل تھا۔ ایسے لوگوں کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، باوجود اس کے کہ ان کے اعمال بظاہر نہایت عظیم تھے۔

یہ ایک نہایت خوفناک یاد دہانی ہے کہ محض عمل کا بڑا یا چھوٹا ہونا معیار نہیں، بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ وہ عمل کس نیت سے کیا گیا۔


کیا نیت بدلنے سے عمل کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے؟

جی ہاں، یہی اس حدیث کا سب سے گہرا سبق ہے۔ ایک ہی عمل، مختلف نیتوں کے ساتھ، بالکل مختلف انجام کا حامل ہو سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص مسجد تعمیر کرواتا ہے، ایک اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے، اور دوسرا اپنے نام کی شہرت اور عزت کے لیے، تو دونوں کی ظاہری عمارت ایک جیسی ہوگی، مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں دونوں کا اجر بالکل مختلف ہوگا۔ پہلے شخص کو زبردست اجر ملے گا، جبکہ دوسرا شخص، باوجود اتنی بڑی نیکی کے، اس کے ثواب سے محروم رہ سکتا ہے۔

اسی طرح ہجرت کا وہی واقعہ جو اس حدیث کے پسِ منظر میں بیان ہوا: ایک ہی سفر، ایک ہی راستہ، ایک ہی منزل، مگر نیت میں فرق کی وجہ سے ایک شخص کی ہجرت اللہ اور رسول کی طرف شمار ہوئی، اور دوسرے شخص کی ہجرت محض دنیاوی مقصد کی طرف شمار ہوئی۔


عملی زندگی میں اس حدیث کو کیسے اپنائیں؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس حدیث کی روشنی میں اپنی روزمرہ زندگی کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟ ذیل میں چند عملی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں:

1. ہر عمل سے پہلے ایک لمحہ رک کر نیت کا جائزہ لیں: کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے، خواہ وہ عبادت ہو یا دنیاوی کام، ایک لمحے کے لیے رکیں اور خود سے پوچھیں: “میں یہ کام کیوں کر رہا ہوں؟”

2. عام کاموں کو اللہ کی رضا سے جوڑیں: اپنے روزمرہ معمولات، جیسے کام پر جانا، گھر کے کام کرنا، یا کھانا کھانا، ان سب میں یہ نیت شامل کریں کہ یہ عمل بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن جائے۔

3. دکھاوے سے بچیں: جب بھی کوئی نیک کام کریں، خاص طور پر دوسروں کے سامنے، تو اپنے دل کا جائزہ لیں کہ کہیں اس میں لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش تو شامل نہیں۔

4. نیت کی تجدید کرتے رہیں: بعض اوقات ایک اچھا کام شروع کرتے وقت نیت خالص ہوتی ہے، مگر دورانِ عمل کچھ اور جذبات شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے وقتاً فوقتاً اپنی نیت کا جائزہ لیتے رہنا ضروری ہے۔

5. اللہ تعالیٰ سے اخلاص کی دعا مانگیں: نیک نیتی اور اخلاص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عطیہ ہے، اس لیے ہمیں بار بار اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمارے دلوں کو ریاکاری سے پاک رکھے۔


اس حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق

1. عمل سے پہلے نیت کی اہمیت

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی بھی عمل کی حقیقی قدر و قیمت اس کے ظاہری حجم یا شکل و صورت سے نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود نیت سے طے ہوتی ہے۔

2. چھوٹے اعمال بھی بڑے اجر کا باعث بن سکتے ہیں

جس طرح نیت بدلنے سے بڑا عمل بے کار ہو سکتا ہے، اسی طرح خالص نیت کے ساتھ کیا گیا ایک چھوٹا سا عمل بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر رکھ سکتا ہے۔

3. روزمرہ زندگی کو عبادت میں بدلنے کا موقع

یہ حدیث ہمیں یہ زبردست خوشخبری دیتی ہے کہ ہماری پوری زندگی، اگر درست نیت کے ساتھ گزاری جائے، تو عبادت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

4. اخلاص کی مسلسل نگرانی ضروری ہے

نیت ایک ایسی چیز ہے جس کی مسلسل نگرانی اور تجدید کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ شیطان اکثر نیک اعمال میں ریاکاری اور دکھاوے کی ملاوٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


📤 اس تحریر کو آگے پھیلائیے

اگر یہ حدیث آپ کے دل کو چھو گئی ہو، تو اسے اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ ضرور شیئر کریں — یہ وہ حدیث ہے جسے ہر مسلمان کو یاد رکھنا چاہیے۔

🔗 یہ بھی پڑھیں


عام سوالات (FAQs)

سوال: یہ حدیث کس کتاب میں موجود ہے؟ جواب: یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے، اور اسے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔

سوال: اس حدیث کو “علمِ دین کا تہائی حصہ” کیوں کہا جاتا ہے؟ جواب: کیونکہ انسان کا عمل دل کی نیت، زبان کے اقرار، اور اعضاء کے عمل سے مل کر بنتا ہے، اور یہ حدیث ان میں سب سے بنیادی جزو، یعنی نیت کا احاطہ کرتی ہے۔

سوال: یہ حدیث کس واقعے کے پسِ منظر میں بیان ہوئی؟ جواب: یہ حدیث اس شخص کے واقعے کے پسِ منظر میں بیان ہوئی جس نے ایک عورت سے شادی کی خواہش میں ہجرت کی، جسے “مہاجر ام قیس” کا لقب دیا گیا۔

سوال: کیا نیت بدلنے سے عمل کا اجر بھی بدل جاتا ہے؟ جواب: جی ہاں، ایک ہی عمل مختلف نیتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہاں بالکل مختلف اجر یا نتیجہ رکھ سکتا ہے۔


خلاصہ کلام

“اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” یہ حدیث اسلام کی بنیادی اور جامع ترین تعلیمات میں سے ایک ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری زندگی کا ہر عمل، خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا یا بڑا کیوں نہ ہو، اپنی حقیقی قدر و قیمت نیت سے حاصل کرتا ہے۔ آئیے آج ہی سے یہ عزم کریں کہ ہم اپنے ہر عمل سے پہلے اپنی نیت کا جائزہ لیں گے، اور اپنی روزمرہ زندگی کے عام کاموں کو بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو خالص نیت اور اخلاص کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


یہ مضمون صحیح بخاری و صحیح مسلم کی معروف روایات پر مبنی ہے۔ مزید تفصیلی مطالعے کے لیے شروحاتِ حدیث سے رجوع کریں۔

Abu Umar
Abu Umar
Islamic Urdu Hub کے مصنف۔ اسلامی علم و تعلیم کو آسان اردو زبان میں پیش کرنا ہمارا مقصد ہے۔
تمام مضامین 60 مضامین