مرکزی مواد پر جائیں
☪ بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت حسن بصری: وہ تابعی جن کے آنسو تختوں کو ہلا دیتے تھے

اسلامی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کے الفاظ تلوار سے زیادہ کاٹ دار اور جن کے آنسو خطبوں سے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ انہی میں سے ایک تھے۔ وہ تابعی تھے، مگر ان کی گفتگو میں صحابۂ کرام کی خوشبو اور انبیاء کی نصیحت کی جھلک نظر آتی تھی۔ ان کی زندگی وعظ نہیں تھی، خود ایک زندہ وعظ تھی۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

حضرت حسن بصری 21 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش کا ماحول غیر معمولی تھا۔ ان کی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یعنی ام المؤمنین کے گھر کام کیا کرتی تھیں، اور اسی گھر میں حسن بصری نے آنکھ کھولی۔ یوں بچپن ہی میں انہیں صحابۂ کرام کی صحبت نصیب ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے دعا کی تھی کہ اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور لوگوں میں محبوب بنا دے۔ یہ دعا ان کی پوری زندگی پر نقش ہو گئی۔

بصرہ میں آمد اور علمی خدمات

جب وہ جوان ہوئے تو بصرہ منتقل ہو گئے۔ بصرہ اس وقت دولت، فتوحات اور دنیاوی چمک دمک کا مرکز تھا۔ مگر اسی شہر میں حسن بصری ایک جلتا ہوا چراغ بن کر کھڑے ہو گئے۔ وہ لوگوں کو یاد دلاتے تھے کہ دنیا عارضی ہے، اور اصل سفر آخرت کا ہے۔ ان کی مجالس کا حال عجیب ہوتا تھا، لوگ ہنستے ہوئے آتے اور روتے ہوئے واپس جاتے۔ وہ قرآن کی آیات پڑھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے آیت ابھی نازل ہوئی ہو۔

حجاج بن یوسف کے دربار کا واقعہ

حضرت حسن بصری حکمرانوں کے سامنے بھی حق بات کہنے سے نہیں ڈرتے تھے۔ جب حجاج بن یوسف جیسے ظالم کا دور تھا، لوگ اس کا نام لینے سے کانپتے تھے، مگر حسن بصری نے اس کے ظلم پر کھل کر تنقید کی۔ ایک بار حجاج نے انہیں طلب کیا۔ لوگ سمجھے اب ان کی زندگی ختم ہے۔ جب وہ دربار میں داخل ہوئے تو حجاج کا لہجہ سخت تھا، مگر حسن بصری کے چہرے پر سکون تھا۔ روایت ہے کہ وہ دل ہی دل میں دعا کرتے جا رہے تھے۔ جیسے ہی حجاج نے بات شروع کی، اس کے لہجے میں نرمی آ گئی۔ ملاقات کے بعد حجاج نے کہا کہ یہ کوئی عام آدمی نہیں، یہ تو علماء میں بادشاہ ہے۔ یہ اللہ کے خوف کا رعب تھا، جو ظالم کے دل پر بھی غالب آ گیا۔

آپ کے مشہور اقوال

حضرت حسن بصری دنیا سے سخت بے رغبتی رکھتے تھے۔ فرماتے تھے کہ دنیا ایک پل ہے، اس پر گھر نہ بناؤ، بس پار ہو جاؤ۔ وہ لوگوں کو عمل کی دعوت دیتے، محض علم کی نہیں۔ کہتے تھے کہ علم اگر عمل نہ لائے تو وبال بن جاتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ لوگ منافق ہونے سے کیوں نہیں ڈرتے؟ فرمایا کہ اگر منافقت کا خوف دل سے نکل جائے تو انسان ہنسنے لگتا ہے۔ وہ خود اکثر روتے رہتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھے ڈر ہے کہیں اللہ مجھے دیکھ کر یہ نہ فرما دے کہ جا، میں نے تجھے نہیں بخشا۔ یہ خوف مایوسی نہیں تھا، بلکہ اللہ کی عظمت کا ادراک تھا۔

وصال کا دن

110 ہجری میں یہ عظیم تابعی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بصرہ میں اس دن عجیب خاموشی تھی۔ لوگ یوں رو رہے تھے جیسے کوئی باپ بچھڑ گیا ہو۔ ان کے جنازے میں اتنا ہجوم تھا کہ عصر کی نماز باجماعت نہ ہو سکی۔

ان کی تعلیمات سے ملنے والے اسباق

  • اصل اصلاح زبان کی تیزی میں نہیں، دل کی سچائی میں ہوتی ہے۔
  • جو شخص خود اللہ سے ڈر جائے، دنیا اس سے ڈرنے لگتی ہے۔
  • علم بغیر عمل کے وبال ہے۔
  • دنیا ایک پل ہے، اس پر گھر مت بناؤ۔

نتیجہ

حضرت حسن بصری ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ دین کی بات کرنے اور دین بن کر جینے میں فرق ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو آپ کی تعلیمات کی روشنی میں سنواریں، اپنے علم کو عمل میں ڈھالیں اور خوفِ خدا کو اپنے دل میں زندہ رکھیں۔

حوالہ جات (References)

  • حلیۃ الاولیاء — امام ابو نعیم اصفہانی
  • صفوۃ الصفوۃ — امام ابن الجوزی
  • طبقات التابعین — ابن سعد
  • سیر اعلام النبلاء — امام ذہبی

Abu Umar
Abu Umar
Islamic Urdu Hub کے مصنف۔ اسلامی علم و تعلیم کو آسان اردو زبان میں پیش کرنا ہمارا مقصد ہے۔
تمام مضامین 53 مضامین