حضرت حسن بصریؒ – وہ آنسو جو تختوں کو ہلا دیتے تھے
اسلامی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کے الفاظ تلوار سے زیادہ کاٹ دار اور جن کے آنسو خطبوں سے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ حضرت حسن بصریؒ انہی میں سے ایک تھے۔ وہ تابعی تھے، مگر ان کی گفتگو میں صحابہؓ کی خوشبو اور انبیاء کی نصیحت کی جھلک نظر آتی تھی۔ ان کی زندگی وعظ نہیں تھی، خود ایک زندہ وعظ تھی۔
حضرت حسن بصریؒ 21 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش کا ماحول غیر معمولی تھا۔ ان کی والدہ امِ سلمہؓ (ام المؤمنین) کے گھر کام کیا کرتی تھیں، اور اسی گھر میں حسن بصریؒ نے آنکھ کھولی۔ یوں بچپن ہی میں انہیں صحابہؓ کی صحبت نصیب ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے ان کے لیے دعا کی تھی:
“اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور لوگوں میں محبوب بنا دے۔”
یہ دعا ان کی پوری زندگی پر نقش ہو گئی۔
جب وہ جوان ہوئے تو بصرہ منتقل ہو گئے۔ بصرہ اس وقت دولت، فتوحات اور دنیاوی چمک دمک کا مرکز تھا۔ مگر اسی شہر میں حسن بصریؒ ایک جلتا ہوا چراغ بن کر کھڑے ہو گئے۔ وہ لوگوں کو یاد دلاتے تھے کہ دنیا عارضی ہے، اور اصل سفر آخرت کا ہے۔
ان کی مجالس کا حال عجیب ہوتا تھا۔ لوگ ہنستے ہوئے آتے اور روتے ہوئے واپس جاتے۔ وہ قرآن کی آیات پڑھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے آیت ابھی نازل ہوئی ہو۔ ان کی آواز میں نرمی تھی مگر باتوں میں بجلی۔
ایک دن کسی نے پوچھا:
“اے ابو سعید! لوگ منافق ہونے سے کیوں نہیں ڈرتے؟”
حضرت حسن بصریؒ نے فرمایا:
“اگر منافقت کا خوف دل سے نکل جائے تو انسان ہنسنے لگتا ہے۔”
وہ خود اکثر روتے رہتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا:
“آپ اتنا کیوں روتے ہیں؟”
فرمایا:
“مجھے ڈر ہے کہیں اللہ مجھے دیکھ کر یہ نہ فرما دے کہ جا، میں نے تجھے نہیں بخشا۔”
یہ خوف مایوسی نہیں تھا، بلکہ اللہ کی عظمت کا ادراک تھا۔
حضرت حسن بصریؒ حکمرانوں کے سامنے بھی حق بات کہنے سے نہیں ڈرتے تھے۔ جب حجاج بن یوسف جیسے ظالم کا دور تھا، لوگ اس کا نام لینے سے کانپتے تھے، مگر حسن بصریؒ نے اس کے ظلم پر کھل کر تنقید کی۔ ایک بار حجاج نے انہیں طلب کیا۔ لوگ سمجھے اب ان کی زندگی ختم ہے۔
جب وہ دربار میں داخل ہوئے تو حجاج کا لہجہ سخت تھا، مگر حسن بصریؒ کے چہرے پر سکون۔ روایت ہے کہ حسن بصریؒ دل ہی دل میں دعا کرتے جا رہے تھے۔ جیسے ہی حجاج نے بات شروع کی، اس کے لہجے میں نرمی آ گئی۔ ملاقات کے بعد حجاج نے کہا:
“یہ کوئی عام آدمی نہیں، یہ تو علماء میں بادشاہ ہے۔”
یہ اللہ کے خوف کا رعب تھا، جو ظالم کے دل پر بھی غالب آ گیا۔
حضرت حسن بصریؒ دنیا سے سخت بے رغبتی رکھتے تھے۔ فرماتے تھے:
“دنیا ایک پل ہے، اس پر گھر نہ بناؤ، بس پار ہو جاؤ۔”
وہ لوگوں کو عمل کی دعوت دیتے، محض علم کی نہیں۔ کہتے تھے:
“علم اگر عمل نہ لائے تو وبال بن جاتا ہے۔”
ایک بار کسی نے ان سے کہا:
“لوگ آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔”
فرمایا:
“اللہ کا شکر ہے کہ وہ مجھے مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ میں کیا ہوں۔”
ان کی سب سے بڑی پہچان اخلاص تھی۔ وہ شہرت سے گھبراتے تھے۔ چاہتے تھے کہ اگر کوئی انہیں یاد بھی کرے تو اللہ کی یاد کے ساتھ کرے۔
110 ہجری میں یہ عظیم تابعی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بصرہ میں اس دن عجیب خاموشی تھی۔ لوگ یوں رو رہے تھے جیسے کوئی باپ بچھڑ گیا ہو۔ ان کے جنازے میں اتنا ہجوم تھا کہ عصر کی نماز باجماعت نہ ہو سکی۔
حضرت حسن بصریؒ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ اصل اصلاح زبان کی تیزی میں نہیں، دل کی سچائی میں ہوتی ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جو شخص خود اللہ سے ڈر جائے، دنیا اس سے ڈرنے لگتی ہے۔
ان کی زندگی آج بھی یہ سوال پوچھتی ہے:
ہم دین کی بات کرتے ہیں یا دین بن کر جیتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں:حضرت اویس قرنیؒ – وہ ولی جسے زمین نے نہ پہچانا مگر آسمان نے سلام بھیجا
References (مستند حوالہ جات)
- حلية الأولياء – امام ابو نعیم اصفہانی
- صفوة الصفوة – امام ابن الجوزی
- طبقات التابعین – ابن سعد
- سیر أعلام النبلاء – امام ذہبی
