دنیا کی ادبی تاریخ میں کچھ قصے اتنے مشہور ہو جاتے ہیں کہ ان کی اصل اور افسانے کا فرق دھندلا جاتا ہے۔ فردوسی اور سلطان محمود غزنوی کا قصہ بھی انہی میں سے ہے۔ ایک طرف وقت کا طاقتور ترین بادشاہ، دوسری طرف تیس برس شعر کہنے والا ایک بوڑھا شاعر، اور بیچ میں ساٹھ ہزار کی وہ رقم جس کے بارے میں آج تک کہا جاتا ہے کہ وہ دی گئی، مگر وعدے کے مطابق نہیں۔ فارسی ادب کی ہر کلاس میں یہ کہانی سنائی جاتی ہے، اور ہر سنانے والا اسے تھوڑا مختلف انداز میں سناتا ہے۔
اس قسط میں ہم یہ کہانی ترتیب سے سنیں گے، مگر ایک اصول کے ساتھ: جو بات معتبر ذرائع سے ثابت ہے اسے حقیقت کہیں گے، اور جو صدیوں بعد کی روایات میں ملتی ہے اسے روایت۔ آخر میں آپ خود دیکھ لیں گے کہ اس واقعے میں سلطان کا کردار کیا تھا، فردوسی کی ناراضی کی اصل وجوہات کیا ہو سکتی ہیں، اور اس سارے قصے سے ہمیں کیا ملتا ہے۔
فردوسی کون تھے؟
ابوالقاسم منصور بن حسن، جو تاریخ میں فردوسی کے قلمی نام سے مشہور ہوئے، خراسان کے شہر طوس کے ایک گاؤں پاژ میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کا سال یقینی طور پر معلوم نہیں۔ مختلف ماخذ 934ء سے 940ء کے درمیان کا سال بتاتے ہیں، اور وفات کے بارے میں بھی 1019ء، 1020ء اور 1025ء تک کے اقوال ملتے ہیں۔ یہ اختلاف اس زمانے کی تاریخ نویسی کی عام حقیقت ہے: جب تک کوئی شخص بادشاہ نہ ہو، اس کی تاریخِ پیدائش لکھنے کا رواج نہیں تھا۔
وہ ایک پرانے ایرانی زمیندار طبقے (دہقان) سے تعلق رکھتے تھے، جو اتنا خوشحال تھا کہ بنیادی ضرورتوں کے لیے کسی کا محتاج نہ ہو۔ انہوں نے فلسفہ، فلکیات اور شاعری پڑھی، شادی کی، اور ایک بیٹا اور ایک بیٹی ان کی اولاد بتائی جاتی ہے۔ بیٹے کی وفات 37 برس کی عمر میں ہو گئی، جبکہ بیٹی ان کے بعد زندہ رہی۔ ایک قدیم سوانح نگار نظامی عروضی کے مطابق وہ ابتدا میں مالدار تھے، مگر شاہنامہ کی تصنیف میں اپنی دولت اور وقت دونوں خرچ کرتے چلے گئے، یہاں تک کہ زندگی کے آخری برسوں میں تنگ دستی کا شکار ہو گئے۔
وہ دنیا جس میں فردوسی نے آنکھ کھولی
فردوسی کے زمانے سے تقریباً تین سو سال پہلے ایران عربوں کے ہاتھوں اسلام قبول کر چکا تھا۔ ان تین صدیوں میں علم، مذہب اور دربار کی زبان عربی تھی، اور فارسی زبان بہت حد تک روزمرہ بول چال تک محدود ہوتی جا رہی تھی۔ یہ بات مذہب کی نہیں، ثقافت کی تھی۔ ایرانی اسلام کو دل سے قبول کر چکے تھے، مگر اپنی زبان، اپنی قدیم داستانوں اور اپنے بادشاہوں کی یاد کو بھی بچانا چاہتے تھے۔
دسویں صدی میں خراسان اور ماوراء النہر میں حکمران سامانی خاندان نے فارسی زبان کو سرپرستی دی، اور نئی فارسی شاعری نے سر اٹھایا۔ اسی ماحول میں ایک نوجوان شاعر دقیقی نے ایران کی قدیم تاریخ کو منظوم رزمیہ کی صورت میں لکھنے کا ارادہ کیا، مگر وہ قتل کر دیا گیا اور کام ادھورا رہ گیا۔ یہ ادھورا کام فردوسی نے اپنے ہاتھ میں لیا۔ انہوں نے اپنے سامنے اس نثری شاہنامے کو رکھا جو ابومنصور نامی ایک امیر نے مرتب کروایا تھا، جس کی بنیاد ساسانی عہد کی قدیم کتاب “خوتای نامک” پر تھی۔ اس طرح فردوسی کا کام صرف ان کی تخلیق نہیں تھا، بلکہ صدیوں کی جمع شدہ یادداشت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش تھی۔
شاہنامہ کیا ہے؟
شاہنامہ، یعنی “بادشاہوں کی کتاب”، تقریباً پچاس سے ساٹھ ہزار اشعار پر مشتمل ایک منظوم رزمیہ ہے جس میں ایران کی ہزاروں برس کی روایتی تاریخ بیان ہوتی ہے۔ مؤرخین اور نقاد اسے چار ادوار میں تقسیم کرتے ہیں: پیشدادی، کیانی، اشکانی اور ساسانی۔ پہلے دو ادوار اساطیر اور دیومالا پر مبنی ہیں، تیسرا جزوی طور پر تاریخی ہے، اور چوتھا یعنی ساسانی دور سب سے زیادہ حقیقی تاریخ سے قریب ہے۔
اس کتاب کے سب سے مشہور کردار رستم کی داستان ہے، وہ پہلوان جو ایران کا سب سے بڑا ہیرو ہے۔ اسی داستان کا سب سے دردناک باب “رستم و سہراب” ہے، جس میں رستم اپنے ہی بیٹے سہراب کو انجانے میں میدانِ جنگ میں مار ڈالتا ہے۔ یہ باب صدیوں سے فارسی اور اردو پڑھنے والوں کی آنکھیں نم کرتا آیا ہے۔
شاہنامہ کی زبان کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ اس میں عربی الفاظ بہت کم استعمال ہوئے ہیں، سوائے ان مقامات کے جہاں سکندر کا ذکر ہے اور مآخذ عربی تھے۔ فردوسی نے خود اس کام کی عظمت کو ایک شعر میں یوں بیان کیا:
بسی رنج بردم در این سال سی عجم زنده کردم بدین پارسی
یعنی “میں نے ان تیس برسوں میں بہت مشقت اٹھائی، اور اس فارسی زبان کے ذریعے عجم کو زندہ کر دیا۔” یہ شعر محض فخر نہیں، ایک تاریخی گواہی بھی ہے کہ شاعر نے اپنی عمر کا بڑا حصہ اس ایک کام کو دیا۔ روایت کے مطابق انہوں نے چالیس برس کی عمر کے لگ بھگ اسے شروع کیا، اور اکہتر برس کی عمر میں، تقریباً 1010ء میں، اسے مکمل کیا۔
غزنی کا دربار اور شاعروں کی سرپرستی
یہ وہ وقت تھا جب سلطان محمود غزنوی کا دربار مشرقِ اسلامی کا سب سے بڑا علمی اور ادبی مرکز مانا جاتا تھا۔ غزنی کے دربار میں عنصری ملک الشعراء کے منصب پر فائز تھے اور فرخی، عسجدی اور دوسرے شاعر انعامات کی امید میں قصیدے لکھتے تھے۔ سامانی سلطنت کے زوال کے بعد فارسی شاعری کا مرکز اب غزنی بن چکا تھا۔ ایسے میں فردوسی، جن کی شہرت بڑھ رہی تھی، اپنی کتاب لے کر غزنی پہنچے۔
یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے۔ سلطان محمود کو عام طور پر شاعروں اور اہلِ علم کا قدردان سمجھا جاتا ہے، اور تاریخ کا ایک بڑا حصہ اس رائے کی تائید کرتا ہے۔ اس لیے جب ہم “سلطان نے شاعر کے ساتھ زیادتی کی” والا قصہ سنتے ہیں تو ایک سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے: ایک ایسا حکمران جس نے شاعروں کو نوازا، اس نے ایک عظیم شاعر کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہی اس قسط کا اصل مقصد ہے۔
وعدہ اور ادائیگی: قصے کا مرکزی نکتہ
روایت کے مطابق سلطان نے فردوسی سے وعدہ کیا تھا کہ ہر شعر کے بدلے ایک سونے کا سکہ دیا جائے گا۔ شاہنامہ تقریباً ساٹھ ہزار اشعار پر مشتمل تھا، اس لیے رقم ساٹھ ہزار سونے کے سکے بنتی تھی۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ فردوسی اس رقم سے اپنے وطن طوس کے ٹوٹے ہوئے بند اور نہریں درست کرانا چاہتے تھے۔
مگر جب ادائیگی کا وقت آیا تو، قصے کے مطابق، ساٹھ ہزار سونے کے سکوں کی جگہ ساٹھ ہزار چاندی کے درہم بھیجے گئے۔ اس دور میں سونے اور چاندی کے سکوں کی قدر میں بہت فرق تھا، اور چاندی کی یہ رقم وعدے کی رقم کے مقابلے میں کئی گنا کم تھی۔ کچھ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ فردوسی اس وقت حمام میں تھے اور انہوں نے وہ رقم وہیں اپنے آس پاس کے لوگوں میں بانٹ دی، جو اس بات کا اظہار تھا کہ یہ رقم ان کے لیے معاوضہ نہیں بلکہ توہین ہے۔ ان تفصیلات کی صحت پر مؤرخین یقین سے کچھ نہیں کہتے، مگر قصے کی روح، یعنی وعدے سے کم ادائیگی اور شاعر کا احساسِ توہین، تمام روایات میں مشترک ہے۔
ناراضی کی اصل وجوہات کیا تھیں؟
اگر معاملہ صرف رقم کا ہوتا تو شاید یہ قصہ ایک عام درباری شکایت بن کر ختم ہو جاتا۔ مؤرخین اور ماہرینِ ادب نے اس تنازعے کی کئی ممکنہ وجوہات پیش کی ہیں، جنہیں ہم یہاں بغیر کسی جانبداری کے رکھ رہے ہیں۔
مذہبی اختلاف: کئی ماخذ بتاتے ہیں کہ فردوسی شیعہ عقیدہ رکھتے تھے اور اہلِ بیت کی شان میں اشعار کہے تھے، جبکہ سلطان محمود سخت گیر سنی تھے۔ اس دور کے مذہبی ماحول میں یہ اختلاف دربار میں ناپسندیدگی کا سبب بن سکتا تھا۔
درباری سیاست: ایک بیان کے مطابق فردوسی نے ایک ایسے وزیر کی تعریف کی تھی جو سلطان کا مخالف سمجھا جاتا تھا۔ دربار میں سرپرستی اور حمایت کا نظام ایسا ہوتا تھا کہ کسی شخص کے کسی حریف کے قریب سمجھے جانے کی قیمت اکثر وہ شخص خود ادا کرتا تھا۔ غزنوی دربار کی وزارتی سیاست پر ہم اس سیریز کی آخری اقساط میں تفصیل سے بات کریں گے۔
ثقافتی اور قومی اختلاف: شاہنامہ ایران کی قدیم عظمت کا قصیدہ ہے، اور اس میں عربوں اور ترکوں کے بارے میں سخت لہجہ بھی ملتا ہے۔ سلطان محمود خود ترک نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لیے بعض محققین کا خیال ہے کہ کتاب کا مجموعی مزاج بھی سلطان کی ناگواری کا سبب بن سکتا تھا۔
سلطان کی ترجیحات: ایک رائے یہ بھی ہے کہ سلطان کو قدیم ایرانی اساطیر سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی اور ان کے نزدیک اسلامی سلطنت کی شان کا اظہار مدحیہ قصیدوں سے ہوتا تھا، نہ کہ ایسی طویل رزمیہ نظم سے جو ایک پرانی غیر اسلامی سلطنت کی عظمت بیان کرتی ہو۔
یہ بات واضح رہے کہ ان وجوہات میں سے کوئی بھی قطعی طور پر ثابت شدہ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سب عوامل مل کر کام کر رہے ہوں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اصل وجہ ایسی ہو جو ہم تک پہنچی ہی نہیں۔
ہجو اور فرار
قصے کے اگلے مرحلے میں فردوسی نے، روایت کے مطابق، سلطان کی ہجو لکھی اور غزنی چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔ اس ہجو کے بارے میں قدیم ماخذ نظامی عروضی کا بیان ہے کہ ایک خیرخواہ نے فردوسی کو ایک ہزار درہم دے کر وہ نظم خرید لی اور اسے ضائع کر دیا، اور صرف چھ شعر باقی رہ گئے۔ بعد کے بعض نسخوں میں شاہنامہ کے دیباچے میں کچھ اشعار شامل ہیں جنہیں اسی ہجو کا حصہ بتایا جاتا ہے۔ مگر محققین ان اشعار کی اصلیت پر شبہ ظاہر کرتے ہیں، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہجو کا اصل متن ہمارے پاس موجود ہے۔
فرار کے بعد فردوسی دس برس کے قریب بے سروسامانی میں مختلف علاقوں میں پھرتے رہے۔ ایک بیان کے مطابق انہیں طبرستان (بحیرۂ کیسپین کے جنوب میں) پناہ ملی، اور وہاں کے ایک حکمران کے لیے انہوں نے “یوسف و زلیخا” نامی منظوم داستان لکھی۔ مگر یہاں بھی احتیاط ضروری ہے: بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تصنیف فردوسی کی نہیں، اور صرف شاہنامہ ہی وہ کام ہے جسے بلا اختلاف ان کا مانا جاتا ہے۔
کیا سلطان نے بعد میں تلافی کی؟ وہ مشہور منظر
اس قصے کا سب سے مشہور اور سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والا حصہ اس کا اختتام ہے۔ روایت کے مطابق سلطان کو بعد میں اپنے سلوک پر ندامت ہوئی اور انہوں نے ساٹھ ہزار سونے کے سکوں پر مشتمل صلہ طوس روانہ کیا۔ مگر جس لمحے وہ قافلہ شہر کے ایک دروازے سے داخل ہو رہا تھا، اسی لمحے دوسرے دروازے سے فردوسی کا جنازہ باہر نکل رہا تھا۔ شاعر دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کی بیٹی نے یہ رقم قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
ایک اور روایت، جو اسی سلسلے میں ملتی ہے، یہ ہے کہ طوس کے ایک مقامی عالم نے فردوسی کو شہر کے قبرستان میں دفن کرنے سے منع کر دیا تھا، اس لیے انہیں اپنے ہی باغ میں دفن کیا گیا۔ یہ دونوں باتیں روایات کا حصہ ہیں، اور ان کی تصدیق کسی ایسے معاصر مؤرخ سے نہیں ہوتی جو موقع پر موجود رہا ہو۔ اس لیے انہیں تاریخی حقیقت کے بجائے ایک ایسی یادگار کہانی سمجھنا چاہیے جو اپنی ادبی خوبصورتی کی وجہ سے صدیوں سے زندہ ہے۔
کیا ثابت ہے اور کیا روایت؟
| بات | حیثیت |
|---|---|
| فردوسی نے تقریباً تیس برس میں شاہنامہ لکھا | معتبر طور پر تسلیم شدہ |
| شاہنامہ تقریباً 50 سے 60 ہزار اشعار پر مشتمل ہے | معتبر طور پر تسلیم شدہ |
| شاہنامہ تقریباً 1010ء میں مکمل ہوا اور سلطان کو پیش کیا گیا | عام طور پر تسلیم شدہ |
| فی شعر ایک سونے کے سکے کا وعدہ ہوا | روایت، قدیم قصوں میں ملتی ہے |
| ساٹھ ہزار چاندی کے درہم دیے گئے | روایت، تفصیلات میں اختلاف ہے |
| فردوسی نے ہجو لکھی | روایت، اصل متن محفوظ نہیں |
| جنازے اور قافلے کا ایک ہی وقت میں پہنچنا | روایت، بعد کے ماخذ میں ملتی ہے |
| “یوسف و زلیخا” فردوسی کی تصنیف ہے | محققین کے نزدیک مشکوک |
سلطان کا نقطۂ نظر
اب تک ہم نے قصے کو فردوسی کی طرف سے سنا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ دوسری طرف بھی دیکھا جائے۔ قدیم ماخذ میں چند ایسے اشارے ملتے ہیں جن سے یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ممکن ہے ادائیگی کا معاملہ سلطان کے بجائے ان کے کسی کارندے، خزانچی یا وزیر کے ہاتھوں خراب ہوا ہو، اور سلطان کو پوری صورتحال کا اندازہ بھی نہ ہو۔ دربار کی سیاست میں ایسا ہونا کوئی عجوبہ نہیں تھا، اور خود روایات میں سلطان کی بعد کی ندامت کا ذکر اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ شاید وہ اس معاملے سے پوری طرح باخبر نہیں تھے یا ان پر کسی اور نے اثر ڈالا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ سلطان نے خود جان بوجھ کر ایسا کیا ہو، کیونکہ ان کی نظر میں ایک شیعہ شاعر کی ایسی کتاب جو غیر اسلامی ایرانی بادشاہوں کی عظمت بیان کرتی ہے، سونے کے سکوں کی مستحق نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اور یہی بات اس قصے کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے: ہر پڑھنے والا اپنی سمجھ کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، اور تاریخ خاموش رہتی ہے۔
شاہنامہ کی لازوال میراث
سلطان کے فیصلے کی وجوہات جو بھی ہوں، ایک بات ہر شبہ سے بالاتر ہے: شاہنامہ زندہ رہا اور آج بھی دنیا کی عظیم ترین رزمیہ نظموں میں شمار ہوتا ہے۔ جس طرح دانتے نے اطالوی کو، چاسر نے انگریزی کو اور یورپ کی دوسری زبانوں کے عظیم شعراء نے اپنی اپنی زبانوں کو اعتبار بخشا، اسی طرح فردوسی نے فارسی کو ایک مستحکم اور باوقار ادبی زبان بنا دیا۔ فارسی آنے والی صدیوں میں مشرقِ اسلامی کے بیشتر درباروں کی زبان بنی۔
برصغیر کے قاری کے لیے یہ بات خاص طور پر اہم ہے۔ فارسی یہاں صدیوں تک سرکاری، علمی اور ادبی زبان رہی، اور اردو کی لغت، محاورے اور شاعری پر اس کا گہرا اثر ہے۔ جس فارسی کو غزنوی فاتحین اپنے ساتھ لائے اور جسے دہلی کے درباروں نے اپنایا، اسے ایک مستحکم صورت دینے میں فردوسی کا بڑا حصہ تھا۔ اس لحاظ سے اس سیریز کی دوسری قسط ایک دلچسپ تضاد پر ختم ہوتی ہے: جس شاعر کو غزنی کے سلطان نے مایوس لوٹایا، اسی کی زبان آگے چل کر غزنوی اور بعد کی مسلم سلطنتوں کی شناخت بن گئی۔
اس قصے سے ہمیں کیا ملتا ہے؟
- وعدے کی اہمیت: چاہے تفصیلات میں اختلاف ہو، قصے کی بنیادی نصیحت یہ ہے کہ کسی کی محنت کا صلہ دینے میں وعدے کی پاسداری سب سے بڑا اخلاقی تقاضا ہے۔
- طاقت اور علم کا رشتہ: بادشاہ کا خزانہ ختم ہو گیا، مگر شاعر کا کلام ہزار برس بعد بھی پڑھا جا رہا ہے۔ علم اور فن کی عمر اقتدار کی عمر سے زیادہ ہوتی ہے۔
- روایت اور تاریخ میں فرق: جو قصہ ہزار برس پرانا ہو، اس میں سچ اور افسانہ مل جاتے ہیں۔ اس لیے ہر مشہور بات کو مان لینے کے بجائے اس کا ماخذ دیکھنا چاہیے۔
اگلی قسط میں ہم سلطان محمود کی سب سے مشہور مہمات کی طرف چلیں گے، اور دیکھیں گے کہ ان کی سترہ مہمات میں سے کون سی تاریخی طور پر سب سے زیادہ مستند ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
فردوسی کون تھے؟ فردوسی فارسی کے عظیم شاعر تھے جنہوں نے تقریباً تیس برس کی محنت سے “شاہنامہ” لکھا۔ وہ طوس کے رہنے والے تھے اور ان کا اصل نام ابوالقاسم منصور بن حسن تھا۔
شاہنامہ کتنے اشعار پر مشتمل ہے؟ مختلف ماخذ کے مطابق پچاس ہزار سے ساٹھ ہزار کے درمیان اشعار۔ تعداد کا فرق مختلف قلمی نسخوں کی وجہ سے ہے۔
کیا سلطان محمود نے فردوسی کو واقعی سونے کے بجائے چاندی دی؟ یہ ایک مشہور روایت ہے، مگر معاصر ماخذ سے اس کی مکمل تصدیق نہیں ہوتی۔ تفصیلات مختلف روایات میں مختلف ملتی ہیں، البتہ وعدے سے کم ادائیگی کی بات تقریباً سب میں مشترک ہے۔
فردوسی کی ہجو کا متن کہاں ہے؟ قدیم ماخذ کے مطابق ایک خیرخواہ نے اسے خرید کر ضائع کر دیا اور صرف چند اشعار بچے۔ بعض نسخوں میں جو اشعار ہجو کے نام سے ملتے ہیں، محققین ان کی صحت پر شک کرتے ہیں۔
کیا یہ واقعہ سلطان محمود کی شخصیت پر دھبہ ہے؟ یہ سوال تاریخ دانوں میں آج بھی زیرِ بحث ہے۔ کچھ اسے سلطان کی کوتاہی سمجھتے ہیں اور کچھ درباری سازش یا غلط فہمی۔ قطعی فیصلے کے لیے ہمارے پاس کافی شواہد نہیں۔
مزید مطالعہ
- ایڈورڈ براؤن، A Literary History of the Persians
- نظامی عروضی سمرقندی، چہار مقالہ (فردوسی کے ابتدائی سوانح نگاروں میں سے)
- جارج اور ایڈمنڈ وارنر، شاہنامہ کا انگریزی ترجمہ
- انسائیکلوپیڈیا آف ورلڈ بائیوگرافی، مضمون “Firdausi”
