مرکزی مواد پر جائیں
☪ بسم اللہ الرحمن الرحیم

حسد سے بچاؤ: وہ خاموش آگ جو دل کو اندر ہی اندر جلا دیتی ہے

دیباچہ: کیا کسی کی خوشی دیکھ کر آپ کے دل میں چبھن ہوتی ہے؟

ذرا دیانتداری سے سوچیے۔ کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ نے سوشل میڈیا پر کسی دوست کی نئی گاڑی، نیا گھر، یا کوئی بڑی کامیابی دیکھی، اور آپ کے دل میں خوشی کے بجائے ایک عجیب سی بے چینی، ایک ہلکی سی چبھن پیدا ہوئی؟ کیا کبھی کسی رشتہ دار کی ترقی کی خبر سن کر آپ کا دل بجائے خوش ہونے کے بوجھل ہو گیا؟

اگر آپ کا جواب “ہاں” میں ہے، تو گھبرائیے نہیں، یہ ایک نہایت عام انسانی کیفیت ہے۔ مگر اسلام ہمیں خبردار کرتا ہے کہ اگر اس کیفیت کو یونہی چھوڑ دیا جائے، تو یہ ایک ایسی بیماری کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو نہ صرف ہمارے تعلقات بلکہ ہماری نیکیوں کو بھی جلا کر خاکستر کر سکتی ہے۔ اس بیماری کا نام ہے “حسد”۔

آج ہم اسی موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے: حسد کیا ہے، یہ اتنا خطرناک کیوں ہے، اور ہم اپنے دل کو اس خاموش آگ سے کیسے بچا سکتے ہیں۔


حسد کیا ہے؟ ایک واضح تعریف

حسد کا مطلب ہے کسی دوسرے کے پاس موجود نعمت کو دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ وہ نعمت اس سے چھن جائے، خواہ وہ نعمت خود مجھے حاصل ہو یا نہ ہو۔ یہ حسد کی سب سے سخت اور خطرناک قسم ہے۔

اس کے مقابلے میں ایک اور کیفیت ہوتی ہے جسے “غبطہ” کہا جاتا ہے، یعنی کسی کے پاس موجود نعمت کو دیکھ کر یہ خواہش کرنا کہ کاش مجھے بھی ایسی ہی نعمت مل جائے، بغیر اس کے کہ دوسرے سے وہ نعمت چھن جائے۔ یہ کیفیت نہ صرف جائز ہے بلکہ بعض صورتوں میں قابلِ تعریف بھی ہے، کیونکہ اس میں دوسرے کا نقصان نہیں چاہا جاتا بلکہ صرف اپنے لیے بھلائی کی تمنا کی جاتی ہے۔

یہ فرق سمجھنا نہایت ضروری ہے: حسد میں دوسرے کا نقصان مطلوب ہوتا ہے، جبکہ غبطہ میں صرف اپنی بھلائی کی خواہش ہوتی ہے۔


قرآن کریم میں حسد کا ذکر: پہلا گناہ اور پہلا حاسد

قرآن کریم میں حسد کا ذکر کئی مقامات پر ملتا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ روئے زمین پر پہلا گناہ، یعنی ابلیس کا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنا، دراصل حسد ہی کی بنیاد پر ہوا۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے انکار کر دیا، اس تکبر اور حسد کی بنا پر کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے اور آدم مٹی سے، وہ اپنے آپ کو برتر سمجھتا تھا اور آدم علیہ السلام کو ملنے والی عزت و مقام برداشت نہ کر سکا۔

یہی حسد بعد میں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل کے درمیان بھی ظاہر ہوا، جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کی قربانی قبول ہونے پر حسد کی آگ میں جل کر اسے قتل کر ڈالا۔ یہ دنیا کا پہلا قتل، حسد کی بنیاد پر ہوا۔

اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا واقعہ بھی حسد کی ایک نہایت واضح مثال ہے۔ ان کے بھائی، اپنے والد کی محبت اور یوسف علیہ السلام کی خوبصورتی اور خوبیوں پر حسد کرتے ہوئے، انہیں کنویں میں پھینکنے تک پر تیار ہو گئے۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ فلق میں مسلمانوں کو یہ تعلیم بھی دی کہ وہ حسد کرنے والے کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حسد ایک ایسی حقیقی اور خطرناک برائی ہے جس سے بچاؤ کے لیے خصوصی دعا کی تعلیم دی گئی۔


احادیث میں حسد کی خطرناک تشبیہ: آگ اور لکڑی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسد کی سنگینی کو ایک نہایت واضح اور یاد رہ جانے والی تشبیہ کے ذریعے بیان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔”

ذرا اس تشبیہ پر غور کیجیے۔ جس طرح آگ کسی خشک لکڑی کو دیکھتے ہی دیکھتے راکھ میں بدل دیتی ہے، اسی طرح حسد انسان کی برسوں کی نیکیاں، اس کی عبادتیں، اس کے نیک اعمال، سب کچھ خاموشی سے جلا کر ختم کر سکتا ہے۔ یہ کتنی خوفناک بات ہے کہ ایک شخص سالوں نماز، روزہ، صدقہ اور دیگر نیکیاں کرتا رہے، مگر اگر اس کا دل حسد کی آگ میں جلتا رہے، تو یہ تمام نیکیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ حسد اور ایمان ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ الفاظ اس بات کی گواہی ہیں کہ حسد ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے ایمان کی جڑوں کو کمزور کر دیتی ہے۔


وہ دو صورتیں جن میں “حسد” جائز قرار دیا گیا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسد صرف دو معاملات میں جائز ہے (یہاں دراصل مراد غبطہ ہے، یعنی رشک): ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا اور وہ اسے حق کے راستے میں خرچ کرتا ہے، تو کوئی شخص یہ خواہش کرے کہ کاش مجھے بھی ایسا ہی مال ملے تاکہ میں بھی اسی طرح خرچ کروں۔ دوسرا، وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت عطا کی اور وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا اور دوسروں کو سکھاتا ہے، تو کوئی شخص یہ خواہش کرے کہ کاش مجھے بھی ایسا ہی علم حاصل ہو۔

یہ دونوں مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کسی کی نیکی یا بھلائی دیکھ کر خود بھی ویسا ہی اچھا کام کرنے کی تمنا کرنا، بالکل جائز اور قابلِ تعریف جذبہ ہے، بشرطیکہ اس میں دوسرے سے وہ نعمت چھیننے کی خواہش شامل نہ ہو۔


حسد کے نفسیاتی اور سماجی نقصانات

حسد صرف ایک مذہبی گناہ نہیں بلکہ اس کے ذہنی اور سماجی نقصانات بھی نہایت گہرے ہیں۔

سب سے پہلا شکار خود حاسد ہے: یہ ایک نہایت اہم نکتہ ہے جسے اکثر لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جب کوئی شخص حسد کرتا ہے، تو اس کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا نقصان خود اسی کو ہوتا ہے۔ حسد کرنے والا شخص ہمیشہ بے چین، غیر مطمئن اور دکھی رہتا ہے، جبکہ جس شخص سے حسد کیا جا رہا ہو، ممکن ہے اسے اس کا علم تک نہ ہو اور وہ اپنی زندگی میں خوش و خرم رہے۔

ذہنی سکون کی تباہی: حسد کرنے والا شخص ہر وقت دوسروں کی کامیابیوں پر نظر رکھتا ہے، ان کا موازنہ اپنی زندگی سے کرتا رہتا ہے، اور اس مسلسل موازنے کی وجہ سے اس کا ذہن کبھی سکون حاصل نہیں کر پاتا۔

تعلقات کی تباہی: حسد رشتوں میں دراڑیں ڈالتا ہے۔ خاندانوں میں، دوستوں میں، اور کام کی جگہوں پر، حسد کی وجہ سے کتنے ہی خوبصورت رشتے ٹوٹ چکے ہیں۔

نیکیوں کا ضیاع: جیسا کہ اوپر بیان ہوا، حسد انسان کی نیکیوں کو جلا کر ختم کر سکتا ہے، جو کہ سب سے بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔


حسد کیوں پیدا ہوتا ہے؟ اس کی جڑ تک پہنچنا

حسد سے بچاؤ کے لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ کیفیت آخر پیدا کیوں ہوتی ہے۔ اس کی چند بنیادی وجوہات یہ ہیں:

تقدیر پر عدم اطمینان: حسد کی جڑ میں کہیں نہ کہیں یہ عدم اطمینان چھپا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں کو یہ نعمت کیوں دی اور مجھے کیوں نہیں۔ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی تقسیم اور حکمت پر عدم اطمینان کی ایک شکل ہے۔

مسلسل موازنہ: آج کے دور میں سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ہم ہر وقت دوسروں کی نمائشی زندگی دیکھتے رہتے ہیں اور لاشعوری طور پر اپنی زندگی کا موازنہ ان کی جھلکیوں سے کرتے رہتے ہیں۔

خود اعتمادی کی کمی: جو لوگ اپنی ذات، اپنی صلاحیتوں اور اپنی زندگی سے غیر مطمئن ہوتے ہیں، وہ اکثر دوسروں کی کامیابیوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔

دنیاوی نعمتوں کو حد سے زیادہ اہمیت دینا: جب انسان کی نظر صرف دنیاوی چیزوں، مال، عہدے اور شہرت پر مرکوز ہو جائے، اور آخرت کی حقیقی کامیابی نظروں سے اوجھل ہو جائے، تو حسد جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔


حسد سے بچاؤ کے عملی طریقے

اب سوال یہ ہے کہ ہم اس خطرناک بیماری سے اپنے دل کو کیسے محفوظ رکھیں؟ ذیل میں چند عملی تجاویز پیش کی جا رہی ہیں:

1. اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر یقین رکھیں: یہ سب سے بنیادی علاج ہے۔ ہمیں یہ یقین دل میں راسخ کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اس کی حکمت کے مطابق نعمتیں عطا کی ہیں، اور یہ تقسیم کبھی ظلم پر مبنی نہیں ہو سکتی۔

2. دوسروں کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ اصول حسد کے خاتمے کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔

3. دوسروں کی کامیابی پر دعا دیں: جب بھی کسی کی کامیابی دیکھ کر دل میں کوئی چبھن محسوس ہو، فوراً اس کے لیے دل سے دعا کریں: “اے اللہ، اس میں مزید برکت عطا فرما۔” یہ عمل دل کو حسد سے پاک کرنے میں زبردست مددگار ثابت ہوتا ہے۔

4. اپنی نعمتوں کا شکر ادا کریں: جب ہم اپنی زندگی کی نعمتوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، بجائے اس کے کہ دوسروں کے پاس کیا ہے، تو حسد کی جگہ شکر گزاری جنم لیتی ہے۔

5. سوشل میڈیا کا استعمال محدود کریں: اگر آپ محسوس کریں کہ سوشل میڈیا دیکھ کر آپ کے دل میں منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں، تو اس کا استعمال کم کر دینا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہے۔

6. اپنی کوششوں پر توجہ دیں، دوسروں کے نتائج پر نہیں: اپنی توانائی اپنی زندگی بہتر بنانے میں لگائیں، بجائے اس کے کہ دوسروں کی زندگی پر نظر رکھی جائے۔


اگر کوئی آپ سے حسد کرے تو کیا کریں؟

یہ بھی ایک نہایت اہم پہلو ہے۔ ممکن ہے آپ خود حسد نہ کریں، مگر کوئی دوسرا شخص آپ سے حسد کرے۔ ایسی صورت میں اسلام نے کچھ حفاظتی تدابیر بتائی ہیں:

اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کریں: سورہ فلق کی تلاوت، جس میں خاص طور پر حسد کرنے والے کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے، ایک زبردست حفاظتی ذریعہ ہے۔

اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرتے رہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی نعمتوں پر “ماشاءاللہ” کہنا، نظرِ بد اور حسد سے حفاظت کا ایک ذریعہ ہے۔

نمائش سے گریز کریں: بعض اوقات اپنی کامیابیوں اور نعمتوں کو ضرورت سے زیادہ ظاہر کرنا، دوسروں میں حسد پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ حکمت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی نعمتوں میں اعتدال اور عاجزی اختیار کریں۔

صبر اور توکل: اگر کسی کے حسد کا اثر کسی نقصان کی صورت میں سامنے آئے، تو صبر اور اللہ تعالیٰ پر توکل ہی بہترین راستہ ہے۔


📤 اس تحریر کو آگے پھیلائیے

اگر یہ مضمون آپ کے دل کو کچھ سکون دے گیا ہو، تو اسے اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ ضرور شیئر کریں — شاید کسی اور کے دل کو بھی اسی سکون کی ضرورت ہو۔

🔗 یہ بھی پڑھیں


عام سوالات (FAQs)

سوال: حسد اور غبطہ میں کیا فرق ہے؟ جواب: حسد میں دوسرے سے نعمت چھن جانے کی خواہش کی جاتی ہے، جبکہ غبطہ میں صرف اپنے لیے ویسی ہی نعمت کی تمنا کی جاتی ہے، بغیر دوسرے کا نقصان چاہے۔

سوال: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسد کو کس چیز سے تشبیہ دی؟ جواب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسد نیکیوں کو اسی طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔

سوال: کیا حسد کی کوئی جائز صورت بھی ہے؟ جواب: صرف دو صورتوں میں رشک (غبطہ) جائز ہے: کسی کے مال کو نیکی میں خرچ ہوتا دیکھ کر ویسی ہی خواہش، اور کسی کے علم کو دیکھ کر ویسے ہی علم کی خواہش۔

سوال: اگر کوئی مجھ سے حسد کرے تو میں کیا کروں؟ جواب: سورہ فلق کی تلاوت کریں، اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرتے رہیں، اور صبر و توکل اختیار کریں۔


خلاصہ کلام

حسد ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو دل کے اندر ہی اندر انسان کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور اس کی برسوں کی نیکیوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسلام نے ہمیں اس بیماری سے بچنے کے لیے واضح تعلیمات دی ہیں: دوسروں کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر یقین رکھیں، اور اپنی نعمتوں پر شکر ادا کرتے رہیں۔ آئیے آج ہی اپنے دل کا جائزہ لیں اور اگر کہیں حسد کی کوئی چنگاری موجود ہو، تو اسے شکر گزاری اور دعا کے پانی سے بجھا دیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے دلوں کو حسد جیسی بیماریوں سے پاک فرمائے، آمین۔


یہ مضمون قرآن و حدیث کی معروف تعلیمات پر مبنی ہے۔ مزید تفصیلی مطالعے کے لیے معتبر کتب سے رجوع کریں۔

Abu Umar
Abu Umar
Islamic Urdu Hub کے مصنف۔ اسلامی علم و تعلیم کو آسان اردو زبان میں پیش کرنا ہمارا مقصد ہے۔
تمام مضامین 59 مضامین