حضرت مالک بن دینارؒ کا ایمان افروز واقعہ – گناہوں سے ولایت تک کا لرزا دینے والا سفر
سلامی تاریخ میں کچھ زندگیاں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو یہ یقین دلا دیتی ہیں کہ اللہ کی رحمت ماضی نہیں دیکھتی، حال دیکھتی ہے۔ حضرت مالک بن دینارؒ کی زندگی اسی حقیقت کی زندہ مثال ہے۔ وہ شخصیت جن کی جوانی غفلت میں گزری، مگر جن کی توبہ نے انہیں اولیاء اللہ کی صف میں لا کھڑا کیا۔
حضرت مالک بن دینارؒ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق بصرہ سے تھا، جو اس زمانے میں علم، دولت اور دنیاوی رنگینیوں کا بڑا مرکز تھا۔ مگر مالک بن دینارؒ کی ابتدائی زندگی علم و عبادت سے کوسوں دور تھی۔ وہ شراب نوشی کرتے، لہو و لعب کی محفلوں میں شریک ہوتے اور دنیا کی لذتوں میں گم رہتے تھے۔ نماز، آخرت اور حساب کا تصور ان کے لیے محض ایک بھولا بسرا خیال تھا۔
لیکن اللہ جسے چاہے، جہاں سے چاہے، اٹھا لیتا ہے۔
حضرت مالک بن دینارؒ کی زندگی کا نقطۂ انقلاب ان کی ایک چھوٹی سی بیٹی بنی۔ وہ بچی ان کے دل کا سکون تھی۔ وہ اسے بے حد چاہتے تھے۔ بچی کی معصوم ہنسی ان کے سخت دل کو بھی نرم کر دیتی تھی۔ مگر تقدیر کو کچھ اور منظور تھا۔ وہ بچی کم عمری میں ہی وفات پا گئی۔ اس صدمے نے مالک بن دینارؒ کو توڑ کر رکھ دیا، مگر ابھی دل پوری طرح بیدار نہیں ہوا تھا۔
کچھ عرصے بعد ایک رات، جب وہ نشے کی حالت میں سوئے، انہوں نے ایک ایسا خواب دیکھا جو ان کی زندگی بدل گیا۔
خواب میں انہوں نے دیکھا کہ قیامت قائم ہو چکی ہے۔ لوگ قبروں سے اٹھ رہے ہیں، حساب ہو رہا ہے، اور وہ خود ایک خوفناک اژدھے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ وہ اژدھا ان کی طرف بڑھ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں غضب تھا اور زبان سے آگ نکل رہی تھی۔ وہ چیخ رہے تھے، مدد مانگ رہے تھے، مگر کوئی مدد کو نہ آیا۔
اسی دوران انہوں نے ایک کمزور، نحیف بوڑھے کو دیکھا۔ انہوں نے اس سے فریاد کی:
“مجھے بچا لو!”
بوڑھے نے کہا:
“میں کمزور ہوں، میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔”
آگے بڑھے تو انہوں نے ایک ننھی بچی کو دیکھا، جو نہایت خوبصورت تھی۔ اس کے چہرے سے نور ٹپک رہا تھا۔ وہ بچی آگے بڑھی، اس اژدھے کو پیچھے دھکیل دیا اور مالک بن دینارؒ سے کہا:
“ابا! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ آپ اللہ کی طرف پلٹ آئیں؟”
آنکھ کھل گئی۔
پسینہ بہہ رہا تھا، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، اور آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ یہ کوئی عام خواب نہیں تھا۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک سخت تنبیہ تھی۔ اژدھا ان کے گناہوں کی علامت تھا، اور وہ کمزور بوڑھا ان کے نیک اعمال—جو نہ ہونے کے برابر تھے۔
اسی لمحے انہوں نے سچی توبہ کی۔ شراب کے برتن توڑے، محفلیں چھوڑ دیں، اور اللہ کے سامنے گر کر روئے۔ انہوں نے عہد کیا کہ اب زندگی اللہ کے حکم کے مطابق گزاریں گے۔
یہی وہ لمحہ تھا جب مالک بن دینارؒ کا دل زندہ ہو گیا۔
توبہ کے بعد انہوں نے علم حاصل کیا، قرآن سے تعلق جوڑا اور عبادت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ وہ راتوں کو جاگتے، روتے اور کہتے:
“اے اللہ! اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا تو میں کہاں جاؤں گا؟”
ان کا خوفِ آخرت اتنا شدید تھا کہ اکثر بے ہوش ہو جاتے۔ جب ہوش آتا تو کہتے:
“مجھے جہنم یاد آ گئی تھی۔”
حضرت مالک بن دینارؒ دنیا سے سخت بے رغبت ہو گئے تھے۔ ان کا لباس سادہ، کھانا معمولی اور زندگی نہایت سادہ تھی۔ وہ فرمایا کرتے تھے:
“دنیا ایک سایہ ہے، جو پیچھے بھاگو تو بھاگتا ہے، اور منہ موڑ لو تو خود پیچھے آ جاتا ہے۔”
ان کی نصیحت میں عجیب اثر ہوتا تھا۔ لوگ انہیں دیکھ کر ہی رو پڑتے۔ وہ حکمرانوں کو بھی حق بات کہنے سے نہیں ڈرتے تھے۔ ایک بار کسی امیر نے انہیں قیمتی تحفہ دیا، انہوں نے لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا:
“میں نے اللہ سے سودا کر لیا ہے، اب کسی اور سے کیا لوں؟”
ان کا سب سے بڑا وصف اخلاص تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ انہیں نہ جانیں۔ فرماتے تھے:
“اگر لوگ میرے دل کا حال جان لیں تو مجھے سلام تک نہ کریں۔”
131 ہجری میں یہ عظیم تابعی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بصرہ میں اس دن ہر آنکھ اشکبار تھی۔ وہ شخص جو کبھی گناہوں میں ڈوبا ہوا تھا، آج ولی اللہ کے طور پر یاد کیا جا رہا تھا۔
حضرت مالک بن دینارؒ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ کی رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ چاہے انسان کتنا ہی دور کیوں نہ چلا جائے، اگر ایک لمحے کے لیے بھی دل سے پلٹ آئے، تو اللہ اسے وہ مقام عطا کر دیتا ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔
یہ کہانی آج بھی ہر گناہگار کو امید اور ہر نیک انسان کو عاجزی سکھاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
- حضرت بشر حافیؒ کا ایمان افروز واقعہ – گناہوں سے ولایت تک کا ناقابلِ فراموش سف
- حضرت حسن بصریؒ – وہ آنسو جو تختوں کو ہلا دیتے تھے
- حضرت اویس قرنیؒ – وہ ولی جسے زمین نے نہ پہچانا مگر آسمان نے سلام بھیجا
مستند حوالہ جات (References
1️⃣ حلية الأولياء وطبقات الأصفياء
— امام ابو نعیم اصفہانیؒ
(حضرت مالک بن دینارؒ کی توبہ، زہد اور خوفِ آخرت)
2️⃣ صفوة الصفوة
— امام ابن الجوزیؒ
(اولیاء اور تابعین کے حالات)
3️⃣ سیر أعلام النبلاء
— امام ذہبیؒ
(تابعین کی سیرت)
4️⃣ تذکرة الأولیاء
— امام فرید الدین عطارؒ
(قصص الاولیاء کے اسلوب میں واقعات)
نوٹ: حضرت مالک بن دینارؒ کے حالاتِ زندگی معتبر کتبِ تصوف و سیرت سے ماخوذ ہیں۔ بعض واقعات اصلاحِ نفس کے لیے قصصی انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔
