مرکزی مواد پر جائیں
☪ بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت بشر حافی: ایک لمحے کی ندامت سے ولایت کے مقام تک پہنچنے کا سفر

اسلامی تاریخ میں ایسی بہت سی شخصیات گزری ہیں جن کی زندگی کے واقعات انسان کی پوری سوچ بدل دیتے ہیں۔ حضرت بشر حافی رحمہ اللہ انہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کی زندگی گناہ سے توبہ، غفلت سے بیداری اور دنیا سے بے نیازی کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر کم ملتی ہے۔

جوانی کی عیش و عشرت

حضرت بشر حافی کا شمار بغداد کے رہنے والوں میں ہوتا ہے۔ جوانی کے زمانے میں وہ نہایت مالدار، خوش حال اور عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے انسان تھے۔ محفلیں، موسیقی، دوستوں کی چہل پہل اور دنیا کی رنگینیاں، یہ سب ان کی زندگی کا معمول تھا۔ اللہ کی یاد، آخرت کی فکر اور عبادت ان کے دل سے کوسوں دور تھی۔ لوگ انہیں ایک لاپرواہ اور آزاد خیال نوجوان کے طور پر جانتے تھے۔

وہ رات جس نے زندگی کا رخ بدل دیا

کہا جاتا ہے کہ حضرت بشر ایک محفلِ طرب میں مشغول تھے۔ گانے بج رہے تھے، قہقہے بلند تھے اور دل غفلت میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسی دوران کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک بزرگ تشریف لائے۔ انہوں نے گھر کے اندر سے آنے والی آوازیں سنیں اور ایک سوال پوچھا کہ یہ گھر آزاد آدمی کا ہے یا غلام کا؟ کسی نے جواب دیا کہ آزاد آدمی کا ہے۔ یہ سن کر بزرگ نے فرمایا کہ ہاں، اگر غلام ہوتا تو اپنے آقا کے حکم کے خلاف اس طرح نہ رہتا، اور چلے گئے۔

یہ الفاظ گویا تیر بن کر بشر کے دل میں پیوست ہو گئے۔ محفل کا شور اچانک ان کے کانوں میں بے معنی لگنے لگا۔ دل میں ایک سوال اٹھا کہ اگر میں واقعی آزاد ہوں تو پھر اللہ کی نافرمانی کیوں کر رہا ہوں؟

بسم اللہ کا کاغذ اور خواب

اسی کشمکش میں وہ محفل چھوڑ کر باہر نکلے۔ زمین پر نظر پڑی تو ایک کاغذ کا ٹکڑا دکھائی دیا، جس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا تھا اور وہ مٹی سے اَٹا ہوا تھا۔ حضرت بشر نے اسے اٹھایا، صاف کیا، خوشبو لگائی اور ادب سے اونچی جگہ رکھ دیا۔ اسی رات انہوں نے خواب دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ اے بشر! تو نے ہمارے نام کو زمین سے اٹھایا، ہم تیرا نام آسمانوں میں بلند کر دیں گے۔ یہ خواب ان کی زندگی کا نقطۂ انقلاب بن گیا۔

ننگے پاؤں چلنے کا عہد

اگلی صبح وہ ایک بدلے ہوئے انسان تھے۔ انہوں نے سچی توبہ کی اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی دن انہوں نے جوتے اتار دیے اور پھر پوری زندگی ننگے پاؤں ہی چلتے رہے۔ جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ میں نے اللہ سے ننگے پاؤں صلح کی تھی، اب جوتے پہننے میں حیا محسوس کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے انہیں ‘حافی’ یعنی ننگے پاؤں چلنے والے کے لقب سے یاد رکھا۔

زہد، تقویٰ اور شہرت سے نفرت

حضرت بشر حافی نے علم دین حاصل کیا، عبادت میں مشغول ہو گئے اور زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ بن گئے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ جس دن تمہیں لوگوں کی تعریف اچھی لگنے لگے، سمجھ لو تمہارا نقصان شروع ہو گیا ہے۔ ان کا خوفِ خدا اس درجے کا تھا کہ اکثر روتے رہتے۔ امام احمد بن حنبل جیسے عظیم محدث ان کا بے حد احترام کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بشر حافی جیسے لوگ امت کے لیے امان ہوتے ہیں۔

اس واقعے سے ملنے والے اسباق

  • اللہ کی طرف پلٹنے کے لیے کسی خاص وقت یا مقام کی ضرورت نہیں۔
  • ایک سچی ندامت انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں تک پہنچا سکتی ہے۔
  • شہرت اور دکھاوے سے بچنا ولایت کی نشانی ہے۔
  • خوفِ خدا انسان کے اعمال کو مسلسل سنوارتا رہتا ہے۔

نتیجہ

حضرت بشر حافی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کی طرف پلٹنے کے لیے کسی خاص وقت، خاص مقام یا خاص حال کی ضرورت نہیں۔ ایک لمحہ، ایک بات اور ایک سچی ندامت انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں تک پہنچا سکتی ہے۔ وہ آج بھی ہمیں خاموشی سے یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر دل جاگ جائے تو راستہ اللہ تک پہنچ ہی جاتا ہے۔

حوالہ جات (References)

  • حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء — امام ابو نعیم اصفہانی
  • صفوۃ الصفوۃ — امام ابن الجوزی
  • سیر اعلام النبلاء — امام ذہبی
  • تذکرۃ الاولیاء — امام فرید الدین عطار

Abu Umar
Abu Umar
Islamic Urdu Hub کے مصنف۔ اسلامی علم و تعلیم کو آسان اردو زبان میں پیش کرنا ہمارا مقصد ہے۔
تمام مضامین 53 مضامین