اسلامی تاریخ میں حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا نام آج زہد، تقویٰ اور خوفِ خدا کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر ان کی زندگی کا آغاز اس راستے سے نہیں ہوا تھا جسے ہم نیکی کہتے ہیں۔ ان کی داستان اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ اللہ جسے چاہے، جہاں سے چاہے، اٹھا کر اپنا بنا لیتا ہے۔
ابتدائی زندگی — ایک بدنام ڈاکو
ابتدائی زندگی میں فضیل بن عیاض ایک بدنام ڈاکو تھے۔ خراسان اور مکہ کے درمیان سفر کرنے والے قافلے ان کے نام سے کانپتے تھے۔ وہ رات کے اندھیرے میں مسافروں کو لوٹتے، مال چھینتے اور پھر پہاڑوں میں چھپ جاتے۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کے دل میں ایک عجیب سی خلش ہمیشہ زندہ رہتی۔ گناہ کرتے تھے، مگر دل پوری طرح مطمئن کبھی نہ ہوا۔
آیت کا دل پر اثر
روایت ہے کہ وہ ایک عورت سے شدید محبت کرتے تھے۔ اسی محبت میں ایک رات وہ اس عورت سے ملنے کے ارادے سے دیوار پر چڑھ رہے تھے۔ جیسے ہی وہ دیوار کے اوپر پہنچے، اچانک کسی گھر سے قرآن کی تلاوت کی آواز آئی جس کا مفہوم تھا کہ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے جھک جائیں؟ یہ آیت گویا تیر بن کر فضیل کے دل میں اتر گئی۔ ان کے قدم رک گئے، جسم کانپنے لگا، آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
وہ دیوار پر ہی بیٹھ گئے اور دل سے ایک چیخ نکلی کہ اے میرے رب! وہ وقت آ گیا۔ اسی لمحے ان کی ساری زندگی آنکھوں کے سامنے گھوم گئی، لوٹے ہوئے قافلے، خوف زدہ چہرے، حرام مال، اور گناہوں کی طویل فہرست۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ پہلی بار انہیں محسوس ہوا کہ اصل چوری مال کی نہیں بلکہ اپنی آخرت کی تھی۔
مسافروں کی آواز اور آخری ضرب
وہ دیوار سے اترے، اور اسی وقت ایک ویران کھنڈر میں جا کر بیٹھ گئے جہاں کچھ مسافر بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ فضیل نے سنا کہ ایک مسافر دوسرے سے کہہ رہا ہے کہ جلدی چل پڑو، کہیں فضیل ڈاکو نہ آ جائے! یہ سن کر ان کے دل پر آخری ضرب لگی۔ انہوں نے اپنے سر کو دیوار سے لگا کر کہا کہ اے اللہ! لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں، اور میں تجھ سے نہیں ڈرتا تھا؟ اسی رات انہوں نے سچی توبہ کی، ایسی توبہ جس کے بعد وہ کبھی پلٹ کر نہ دیکھ سکے۔
توبہ کے بعد کی زندگی
بادشاہت چھوڑنے کے بعد فضیل بن عیاض نے حرام کمائی کو چھوڑ دیا، پہاڑوں کو خیر باد کہا، اور علم کی طرف رخ کیا۔ وہ مکہ مکرمہ پہنچے اور وہاں حدیث، عبادت اور مجاہدہ میں اپنی زندگی لگا دی۔ ان کی عبادت کا عالم یہ تھا کہ قرآن کی ایک آیت پڑھتے تو کئی کئی گھنٹے روتے رہتے۔
خلیفہ ہارون الرشید کو نصیحت
ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید حج کے دوران ان سے ملنے آیا اور کہا کہ اے فضیل! مجھے نصیحت کرو۔ فضیل نے فرمایا کہ اے امیرالمؤمنین! اگر قیامت کے دن اللہ نے تم سے ایک بھی مظلوم کا حساب لے لیا تو تم ہلاک ہو جاؤ گے۔ یہ سن کر ہارون الرشید زار و قطار رونے لگے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی عالم وہ ہے جو بادشاہوں کے سامنے بھی حق بات کہنے سے نہ ڈرے۔
وفات کے وقت کا منظر
حضرت فضیل بن عیاض کی وفات کے وقت لوگوں نے دیکھا کہ ان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ کسی نے پوچھا کہ اس وقت کیسا محسوس ہو رہا ہے؟ کہا کہ میں اس رب کے پاس جا رہا ہوں جس سے میں ہمیشہ ڈرتا رہا، اور جس سے سب سے زیادہ امید بھی رکھی۔ یہ جملہ ان کی ساری زندگی کا خلاصہ تھا، خوف اور امید کا وہ حسین توازن جو ایک مومن کی زندگی کی پہچان ہے۔
نتیجہ
حضرت فضیل بن عیاض کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہدایت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ ایک آیت، ایک لمحہ، ایک آنسو، اور انسان گناہوں کی تاریکی سے نکل کر ولایت کے نور میں داخل ہو جاتا ہے۔ اللہ کی رحمت گناہوں سے بڑی ہے، شرط صرف سچی ندامت اور واپسی کا عزم ہے۔
حوالہ جات (References)
- تذکرۃ الاولیاء — امام فرید الدین عطار
- حلیۃ الاولیاء — امام ابو نعیم اصفہانی
- سیر اعلام النبلاء — امام ذہبی
- صفوۃ الصفوۃ — امام ابن الجوزی