حضرت فُضیل بن عیاضؒ – گناہوں کے اندھیرے سے ولایت کے نور تک
حضرت فُضیل بن عیاضؒ کا نام آج زہد، تقویٰ اور خوفِ خدا کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر ان کی زندگی کا آغاز اس راستے سے نہیں ہوا تھا جسے ہم نیکی کہتے ہیں۔ ان کی داستان اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ اللہ جسے چاہے، جہاں سے چاہے، اٹھا کر اپنا بنا لیتا ہے۔ گناہوں کی تاریک رات بھی اگر اخلاص کے ایک آنسو سے روشن ہو جائے تو وہی رات ہدایت کی صبح بن جاتی ہے۔
ابتدائی زندگی میں فُضیل بن عیاضؒ ایک بدنام ڈاکو تھے۔ خراسان اور مکہ کے درمیان سفر کرنے والے قافلے ان کے نام سے کانپتے تھے۔ وہ رات کے اندھیرے میں مسافروں کو لوٹتے، مال چھینتے اور پھر پہاڑوں میں چھپ جاتے۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان کے دل میں ایک عجیب سی خلش ہمیشہ زندہ رہتی۔ گناہ کرتے تھے، مگر دل پوری طرح مطمئن کبھی نہ ہوا۔
روایت ہے کہ وہ ایک عورت سے شدید محبت کرنے لگے تھے۔ اسی محبت نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ایک رات وہ اس عورت سے ملنے کے ارادے سے دیوار پر چڑھ رہے تھے۔ چاروں طرف سناٹا تھا، آسمان پر ستارے خاموش گواہ بنے کھڑے تھے۔ جیسے ہی وہ دیوار کے اوپر پہنچے، اچانک کسی گھر سے قرآن کی تلاوت کی آواز آئی:
﴿أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ﴾
“کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے جھک جائیں؟”
یہ آیت گویا تیر بن کر فُضیل کے دل میں اتر گئی۔ ان کے قدم رک گئے۔ جسم کانپنے لگا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ دیوار پر ہی بیٹھ گئے اور دل سے ایک چیخ نکلی:
“اے میرے رب! وہ وقت آ گیا… وہ وقت آ گیا!”
اسی لمحے ان کی ساری زندگی آنکھوں کے سامنے گھوم گئی—لوٹے ہوئے قافلے، خوف زدہ چہرے، حرام مال، اور گناہوں کی طویل فہرست۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ پہلی بار انہیں محسوس ہوا کہ اصل چوری مال کی نہیں، بلکہ اپنی آخرت کی تھی۔
وہ دیوار سے اترے، اور اسی وقت واپس لوٹ گئے۔ اس رات وہ ایک ویران کھنڈر میں جا کر بیٹھ گئے۔ اتفاق سے وہاں کچھ مسافر بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ فُضیل نے سنا کہ ایک مسافر دوسرے سے کہہ رہا ہے:
“جلدی چل پڑو، کہیں فُضیل ڈاکو نہ آ جائے!”
یہ سن کر ان کے دل پر آخری ضرب لگی۔ انہوں نے اپنے سر کو دیوار سے لگا کر کہا:
“اے اللہ! لوگ مجھ سے ڈرتے ہیں، اور میں تجھ سے نہیں ڈرتا تھا؟”
اسی رات انہوں نے سچی توبہ کی—ایسی توبہ جس کے بعد وہ کبھی پلٹ کر نہ دیکھ سکے۔
فُضیل بن عیاضؒ نے حرام کمائی کو چھوڑ دیا، پہاڑوں کو خیر باد کہا، اور علم کی طرف رخ کیا۔ وہ مکہ مکرمہ پہنچے اور وہاں حدیث، عبادت اور مجاہدہ میں اپنی زندگی لگا دی۔ جو شخص کل تک تلوار کے زور پر مال لیتا تھا، آج آنسوؤں کے زور پر اللہ کا قرب مانگتا تھا۔
ان کی عبادت کا عالم یہ تھا کہ قرآن کی ایک آیت پڑھتے تو کئی کئی گھنٹے روتے رہتے۔ فرمایا کرتے تھے:
“اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کا خوف کیا ہوتا ہے، تو وہ نیند کا مزہ بھول جائیں۔”
ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید حج کے دوران ان سے ملنے آیا۔ دنیا کا طاقتور ترین بادشاہ، ایک سابق ڈاکو کے سامنے بیٹھا تھا۔ ہارون الرشید نے کہا:
“اے فُضیل! مجھے نصیحت کرو۔”
فُضیلؒ نے فرمایا:
“اے امیرالمؤمنین! اگر قیامت کے دن اللہ نے تم سے ایک بھی مظلوم کا حساب لے لیا، تو تم ہلاک ہو جاؤ گے۔”
یہ سن کر ہارون الرشید زار و قطار رونے لگے۔
حضرت فُضیل بن عیاضؒ دنیا سے ڈرتے تھے، مگر آخرت سے زیادہ۔ وہ فرماتے تھے:
“سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی گناہ کو چھوٹا سمجھے۔”
ان کی وفات کے وقت لوگوں نے دیکھا کہ ان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ کسی نے پوچھا:
“اس وقت کیسا محسوس ہو رہا ہے؟”
کہا:
“میں اس رب کے پاس جا رہا ہوں جس سے میں ہمیشہ ڈرتا رہا… اور جس سے سب سے زیادہ امید بھی رکھی۔”
حضرت فُضیل بن عیاضؒ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ ہدایت کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ ایک آیت، ایک لمحہ، ایک آنسو—اور انسان گناہوں کی تاریکی سے نکل کر ولایت کے نور میں داخل ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امام ابو حنیفہؒ کا عدل و جرأت: قاضی بننے سے انکار کا تاریخی واقعہ
مراجع و مصادر (References)
- تذکرة الأولیاء – امام فرید الدین عطارؒ
- حلية الأولياء – امام ابو نعیم اصفہانیؒ
- سیر أعلام النبلاء – امام ذہبیؒ
- صفوة الصفوة – امام ابن الجوزیؒ
- طبقات الصوفیہ – امام سلمیؒ
