اسلامی تاریخ میں بلعم بن باعوراء کا قصہ ان واقعات میں سے ہے جنہیں قرآن کریم نے خاص طور پر بطور عبرت ذکر فرمایا۔ وہ شخص جو علم، عبادت اور دعا کی قوت رکھتا تھا، لیکن دنیا کی محبت اور نفس کی پیروی نے اسے شیطان کا غلام بنا دیا۔ یہ واقعہ اہلِ علم اور ایمان والوں کے لیے ایک آئینہ ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم بذاتِ خود نجات کی ضمانت نہیں۔
بلعم بن باعوراء کون تھے؟
بلعم بن باعوراء بنی اسرائیل کے جلیل القدر عالم، زاہد اور عابد شخص تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خاص علم، حکمت اور اسمِ اعظم کے ذریعے دعا کی قبولیت کی طاقت عطا فرمائی تھی۔ وہ اپنے زمانے میں اتنے مشہور تھے کہ لوگ دور دور سے ان کے پاس دعا کرانے آتے تھے۔ یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا ہے۔
بادشاہ کا خوف اور بلعم کو رشوت کی پیشکش
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ‘ارضِ مقدسہ’ کے قریب پہنچے تاکہ اللہ کے حکم سے داخل ہوں، تو اس علاقے کے بادشاہ بالق بن صفور کو خطرہ لاحق ہوا کہ موسیٰ اس کی سلطنت پر قبضہ نہ کر لیں۔ بالق نے بلعم بن باعوراء کو بلایا اور کہا کہ اے بلعم! تم تو دعا کے مستجاب بندے ہو، اپنی دعا سے موسیٰ اور ان کے لشکر کو ہلاک کر دو۔
بلعم نے ابتدا میں انکار کیا اور کہا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں، ان کے خلاف بددعا کیسے کر سکتا ہوں؟ لیکن بادشاہ نے رشوت، دولت اور جاہ کی لالچ دی۔ رفتہ رفتہ بلعم کے دل میں دنیا کی محبت گھر کر گئی۔ آخرکار اس نے دنیا کے فائدے کی خاطر نبی کے خلاف بددعا کے لیے رضامند ہو گیا۔
زبان کا پلٹ جانا اور خطرناک تدبیر
جب بلعم پہاڑ پر چڑھ کر بددعا کرنے لگا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان پلٹ دی۔ جس کے خلاف بددعا کرنا چاہتا، اسی کے لیے دعا نکلتی۔ وہ بار بار بددعا کی کوشش کرتا، مگر زبان الٹ جاتی۔ غصے میں آ کر اس نے بادشاہ کو ایک خطرناک مشورہ دیا کہ اپنی قوم کی عورتوں کو زینت کر کے بنی اسرائیل کے لشکر میں بھیجے، تاکہ وہ گناہ میں پڑ جائیں اور اللہ کی رحمت ان سے اٹھ جائے۔
بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔ کچھ بنی اسرائیلی فتنے میں مبتلا ہو گئے، گناہ سرزد ہوا، اور اللہ کا غضب نازل ہوا۔ ایک سخت وبا پھیل گئی جس سے ہزاروں لوگ ہلاک ہو گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی، قوم نے توبہ کی، اور اللہ نے ان پر رحم فرمایا۔ مگر بلعم بن باعوراء اپنے جرم پر اصرار کرتا رہا اور بالآخر اللہ کی لعنت میں گرفتار ہوا۔
قرآن مجید میں بلعم کا ذکر
“اور انہیں اس شخص کی خبر سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات دی تھیں، مگر وہ ان سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا، اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔” (سورۃ الاعراف، آیت 175)
اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہتے تو اسے ان آیات کے ذریعے بلند کر دیتے، مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا (سورۃ الاعراف، آیت 176)۔ اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے بلعم کو ایک ایسی مخلوق سے تشبیہ دی جو ہر حال میں اپنی خواہش کے پیچھے بھاگتی ہے، چاہے اسے روکا جائے یا چھوڑ دیا جائے۔
اس واقعے سے ملنے والے اسباق
- علم اگر عمل کے بغیر ہو تو ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔
- دنیا کی محبت سب سے بڑی گمراہی کا دروازہ بن سکتی ہے۔
- اللہ کے دوست وہ ہیں جو حق کے ساتھ وفادار رہیں، چاہے دنیا ان کے خلاف ہو۔
- جو بندہ اللہ کے علم اور نعمتوں کی ناقدری کرے، وہ ذلت میں گرتا ہے۔
آج کے دور میں اس واقعے کی اہمیت
یہ واقعہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے سبق آموز ہے جو دینی علم رکھنے کے باوجود دنیاوی مفادات کی خاطر اپنے اصولوں سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔ علم اور عبادت بذاتِ خود کافی نہیں اگر دل میں اخلاص اور خوفِ خدا موجود نہ ہو۔ ہمیں اپنے علم کو ہمیشہ نیت کی پاکیزگی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے، تاکہ ہم بلعم جیسے انجام سے محفوظ رہ سکیں۔
نتیجہ
بلعم بن باعوراء کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ علم و عبادت بھی بے فائدہ ہے اگر نیت میں اخلاص نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نیتوں کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں اور کسی بھی دنیاوی لالچ کو اپنے ایمان اور اصولوں پر غالب نہ آنے دیں۔
حوالہ جات (References)
- قرآن مجید — سورۃ الاعراف، آیات 175-176
- تفاسیرِ قرآن — قصصِ انبیاء