حضرت عمرؓ کا واقعہ جس میں وہ رات کو ایک غریب عورت اور اس کے بچوں کی مدد کرتے ہیں

حضرت عمرؓ کا ایمان افروز واقعہ — رات کی گشت اور بھوکے بچوں کی کہانی

تمہید — ایک حکمران کی رات

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ تھا…
مدینہ کی گلیاں پرسکون تھیں، آسمان پر ستارے جگمگا رہے تھے، اور لوگ اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے۔

لیکن ایک شخص تھا جو سو نہیں رہا تھا…

وہ تھا مسلمانوں کا امیر—جو اپنی رعایا کے حال سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا۔

حضرت عمرؓ کی عادت تھی کہ رات کے وقت خود گشت کرتے تاکہ دیکھ سکیں کہ کہیں کوئی ضرورت مند تو نہیں۔


خاموش رات… اور ایک دردناک آواز

اس رات بھی وہ اسی طرح نکلے…
چلتے چلتے شہر سے باہر ایک خیمے کے قریب پہنچے۔

اچانک…
بچوں کے رونے کی آواز آئی…

وہ رونا عام نہیں تھا—وہ بھوک، بے بسی اور تکلیف کا رونا تھا۔

حضرت عمرؓ کا دل بے چین ہو گیا…


خیمے کے اندر کا منظر

وہ قریب گئے اور اجازت لے کر اندر جھانکا۔

ایک بوڑھی عورت بیٹھی تھی…
چولہے پر ہانڈی رکھی تھی…
اور بچے بے چین ہو کر رو رہے تھے۔

حضرت عمرؓ نے نرمی سے پوچھا:
“بچوں کو کیا ہوا ہے؟”

عورت نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا:
“یہ بھوکے ہیں…”


سچائی جو دل ہلا دے

حضرت عمرؓ نے پوچھا:
“تو اس ہانڈی میں کیا پکا رہی ہو؟”

عورت نے کہا:
“اس میں کچھ نہیں… صرف پانی ہے…”

وہ بچوں کو بہلا رہی تھی… تاکہ وہ یہ سمجھیں کہ کھانا پک رہا ہے… اور روتے روتے سو جائیں…

پھر اس نے ایک جملہ کہا جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا:

“قیامت کے دن اللہ عمر سے پوچھے گا کہ اس نے میرے بچوں کی خبر کیوں نہ لی…”

یہ سن کر حضرت عمرؓ کا جسم کانپ اٹھا…


ایک حکمران کا درد

یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا…
یہ ایک ماں کی فریاد تھی…
ایک مظلوم کی آواز تھی…

حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے…

انہوں نے فوراً فیصلہ کیا کہ اس کا حل ابھی ہوگا—اسی وقت!


بیت المال کی طرف دوڑ

وہ فوراً مدینہ واپس گئے…
بیت المال پہنچے… اور خود آٹا، گھی، کھجور اور دیگر سامان نکالا۔

ان کے ساتھ موجود ساتھی نے کہا:
“یہ بوجھ میں اٹھا لیتا ہوں”

حضرت عمرؓ نے جواب دیا:
“کیا قیامت کے دن بھی تم میرا بوجھ اٹھاؤ گے؟”

یہ جملہ ان کی ذمہ داری کے احساس کو ظاہر کرتا ہے…


خود کھانا پکانا — عاجزی کی مثال

وہ سامان لے کر واپس آئے…

چولہا جلایا…
کھانا تیار کیا…
اور خود ہانڈی ہلانے لگے…

دھواں ان کی داڑھی سے گزر رہا تھا…

مگر وہ رکے نہیں…

یہ منظر ایک حکمران کا نہیں…
ایک خادم کا تھا…


بچوں کی ہنسی — سب سے بڑی کامیابی

جب کھانا تیار ہوا تو انہوں نے خود بچوں کو کھلایا…

آہستہ آہستہ رونا بند ہوا…
چہرے کھلنے لگے…
اور پھر وہی بچے ہنسنے لگے…

حضرت عمرؓ خاموشی سے انہیں دیکھتے رہے…

جب تک وہ مطمئن نہ ہو گئے کہ بچے خوش ہیں، وہ وہاں سے نہیں ہٹے…


خاموش واپسی

جب سب کچھ ٹھیک ہو گیا…
تو حضرت عمرؓ خاموشی سے وہاں سے چلے گئے…

نہ کوئی اعلان…
نہ کوئی شہرت…

صرف اللہ کی رضا…


حاصلِ سبق — دل میں اتر جانے والی باتیں

  • حکمران کا اصل کام خدمت ہے، حکومت نہیں
  • چھوٹے اعمال بھی اللہ کے نزدیک بہت بڑے ہوتے ہیں
  • دوسروں کے درد کو محسوس کرنا ایمان ہے
  • عاجزی انسان کو بلند کرتی ہے
  • اللہ کے لیے کیا گیا کام کبھی ضائع نہیں ہوتا

حوالہ جات : (References)

  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
  • ابو نعیم اصفہانی، حلیۃ الاولیاء
  • ابن الجوزی، صفۃ الصفوۃ
  • ابو یوسف، کتاب الخراج

مزید پڑھیں :