Sufyan Suri Waqia

حضرت سفیان ثوریؒ کا ایمان افروز واقعہ – علم، خوفِ خدا اور زہد کی روشن مثال

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی گزری ہیں جن کا علم زمانوں پر بھاری تھا، مگر جن کے دل اللہ کے خوف سے اس طرح کانپتے تھے جیسے وہ کچھ بھی نہیں جانتے۔ حضرت سفیان ثوریؒ انہی عظیم ہستیوں میں سے ایک تھے۔ وہ امام بھی تھے، محدث بھی، فقیہ بھی، مگر سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والے بندے تھے۔

حضرت سفیان ثوریؒ 97 ہجری میں کوفہ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایسے دور میں جوان ہوئے جب علم کی محفلیں آباد تھیں، مگر دنیا کی کشش بھی اپنے عروج پر تھی۔ ان کے والد خود محدث تھے، اسی لیے سفیان ثوریؒ نے کم عمری میں ہی حدیث، فقہ اور قرآن کی تعلیم حاصل کرنا شروع کر دی۔ بہت جلد ان کا شمار بڑے علماء میں ہونے لگا۔ لوگ دور دور سے ان کے پاس علم حاصل کرنے آتے۔

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہزاروں احادیث یاد کی تھیں، مگر علم کے باوجود ان کے دل میں کبھی غرور نہ آیا۔ جب کوئی ان کی تعریف کرتا تو وہ کانپ جاتے۔ فرمایا کرتے تھے:
“مجھے ڈر ہے کہیں یہ تعریفیں مجھے جہنم کے قریب نہ کر دیں۔”

حضرت سفیان ثوریؒ کا سب سے نمایاں وصف خوفِ آخرت تھا۔ وہ اکثر روتے رہتے۔ ان سے پوچھا گیا:
“آپ تو بڑے عالم ہیں، پھر یہ آنسو کیوں؟”

فرمایا:
“مجھے اپنے انجام کا خوف ہے۔ عالم ہونا نجات کی ضمانت نہیں۔”

ان کی عبادت کا عالم یہ تھا کہ راتوں کو جاگ جاگ کر قرآن پڑھتے، سجدوں میں گرتے اور لمبی دعائیں کرتے۔ ان کی داڑھی اکثر آنسوؤں سے تر رہتی۔ لوگ کہتے تھے کہ جب وہ جہنم کا ذکر کرتے تو یوں لگتا جیسے اسے دیکھ رہے ہوں۔

حضرت سفیان ثوریؒ حکمرانوں سے سخت دور رہتے تھے۔ عباسی دور میں انہیں قاضی یا سرکاری عہدہ دینے کی کوشش کی گئی، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا:
“علم اگر حکمرانوں کے دروازے پر چلا جائے تو ذلیل ہو جاتا ہے۔”

ایک مرتبہ خلیفہ نے انہیں بلا بھیجا۔ لوگ سمجھے اب شاید انہیں قبول کرنا پڑے گا، مگر سفیان ثوریؒ چھپتے پھرے۔ انہوں نے شہر چھوڑ دیا، پہاڑوں اور دیہات میں وقت گزارا، مگر ظالم حکمران کے دربار میں جانا قبول نہ کیا۔

وہ فرمایا کرتے تھے:
“دنیا میں سب سے خطرناک چیز یہ ہے کہ عالم حکمران کے قریب ہو جائے۔”

حضرت سفیان ثوریؒ زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔ ان کا لباس سادہ، کھانا معمولی اور زندگی نہایت سادہ تھی۔ اگر کبھی اچھی چیز مل جاتی تو شکر کرتے، مگر دل اس سے نہیں لگاتے۔ فرمایا کرتے تھے:
“جو چیز تمہیں اللہ سے غافل کر دے، وہ تمہارے لیے زہر ہے، چاہے وہ حلال ہی کیوں نہ ہو۔”

ان کے اقوال آج بھی دل کو ہلا دیتے ہیں۔ ایک بار فرمایا:
“دنیا میں سب سے زیادہ فتنہ علم والوں کے لیے ہے، کیونکہ لوگ ان کی طرف دیکھتے ہیں۔”

وہ خود اس فتنہ سے بچنے کے لیے تنہائی کو پسند کرتے تھے۔ شہرت سے بھاگتے تھے۔ اگر کسی محفل میں لوگ ان کی طرف زیادہ متوجہ ہو جاتے تو وہ فوراً وہاں سے اٹھ جاتے۔

حضرت سفیان ثوریؒ کے دل میں امت کا درد بھی تھا۔ وہ صرف عبادت گزار نہیں تھے بلکہ لوگوں کی اصلاح بھی چاہتے تھے۔ مگر ان کا طریقہ نرم، سچا اور خود پر سخت تھا۔ وہ پہلے خود کو نصیحت کرتے، پھر دوسروں کو۔

ایک بار کسی نے پوچھا:
“سب سے بہتر عمل کیا ہے؟”

فرمایا:
“اپنے دل کی اصلاح، کیونکہ اگر دل درست ہو جائے تو عمل خود درست ہو جاتا ہے۔”

ان کے شاگردوں میں بڑے بڑے ائمہ شامل تھے۔ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ سب ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ امام احمدؒ فرمایا کرتے تھے:
“میں نے سفیان ثوریؒ سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔”

حضرت سفیان ثوریؒ کا انتقال 161 ہجری میں ہوا۔ جب ان کی وفات ہوئی تو لوگ کہنے لگے:
“آج علم بھی رو رہا ہے اور تقویٰ بھی۔”

ان کا جنازہ سادہ تھا، مگر اثر بہت گہرا۔ وہ دنیا سے چلے گئے، مگر ان کا خوفِ خدا، اخلاص اور علم قیامت تک کے لیے چھوڑ گئے۔

حضرت سفیان ثوریؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم کا اصل مقصد اللہ کا خوف پیدا کرنا ہے۔ اگر علم انسان کو عاجز نہ کرے، تو وہ علم نہیں، وبال بن جاتا ہے۔

آج کے دور میں، جہاں علم کو شہرت، بحث اور برتری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، حضرت سفیان ثوریؒ خاموشی سے یہ سوال پوچھتے ہیں:
کیا ہمارا علم ہمیں اللہ کے قریب کر رہا ہے، یا لوگوں کے؟

مستند حوالہ جات (References)

1️⃣ سیر أعلام النبلاء
— امام ذہبیؒ
(حضرت سفیان ثوریؒ کی علمی عظمت، زہد اور خوفِ خدا)

2️⃣ حلية الأولياء وطبقات الأصفياء
— امام ابو نعیم اصفہانیؒ
(اولیاء و علماء کے حالات)

3️⃣ الجرح والتعديل
— امام ابن ابی حاتم
(حدیث و محدثین کے حالات)

4️⃣ صفوة الصفوة
— امام ابن الجوزیؒ
(صالحین اور زاہد علماء)

نوٹ: حضرت سفیان ثوریؒ کے حالات معتبر کتبِ حدیث و سیرت سے ماخوذ ہیں۔ بعض واقعات اصلاحِ نفس کے لیے اختصار یا قصصی انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: