Sachi Dua

سچی دعا قبول ہونے کا حیرت انگیز واقعہ

انسان جب ہر دروازے سے مایوس ہو جاتا ہے تو ایک در باقی رہتا ہے — اللہ کا در۔ وہ در جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ یہ واقعہ ایک ایسے شخص کا ہے جس نے سچی دعا کی اور اللہ نے اس کی زندگی بدل دی۔

یہ واقعہ بغداد کے ایک نوجوان تاجر کا ہے۔ کاروبار اچھا تھا، گھر بار آباد تھا، مگر اچانک حالات بدل گئے۔ تجارت میں خسارہ ہوا، قرض بڑھ گیا، دوست ساتھ چھوڑ گئے۔ جو کل تک تعریف کرتے تھے، آج طنز کرنے لگے۔

وہ نوجوان ہر طرف بھاگا۔ رشتہ داروں سے مدد مانگی، ساہوکاروں سے مہلت لی، مگر حالات بہتر نہ ہوئے۔ گھر میں فاقے کی نوبت آ گئی۔ ایک رات وہ شدید پریشانی میں شہر کی گلیوں میں نکل گیا۔

چلتے چلتے وہ ایک مسجد کے پاس پہنچا۔ اندر سے قرآن کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی:

“أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ…”
(بھلا کون ہے جو بے قرار کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے؟)

یہ آیت سن کر اس کے قدم رک گئے۔ اس نے سوچا:
“میں نے سب کو پکارا، مگر کیا میں نے سچے دل سے اللہ کو پکارا ہے؟”

وہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ پہلی بار اس نے اپنی بے بسی کو تسلیم کیا۔ اس نے کہا:

“یا اللہ! میں نے تجھے چھوڑ کر لوگوں پر بھروسہ کیا۔ آج سب نے چھوڑ دیا۔ اب میں تیرے در پر آیا ہوں۔ اگر تو نے بھی رد کر دیا تو میرا کوئی سہارا نہیں۔”

وہ دیر تک روتا رہا۔ سجدہ کیا۔ اور سچی دعا کی — ایسی دعا جس میں تکلف نہ تھا، صرف دل کی پکار تھی۔

روایت ہے کہ اسی مسجد میں ایک بزرگ عبادت میں مشغول تھے، جنہیں لوگ حضرت جنید بغدادیؒ کے نام سے جانتے تھے۔ انہوں نے اس نوجوان کو روتے دیکھا۔ نماز کے بعد اسے بلایا اور پوچھا:

“بیٹے، کیوں رو رہے ہو؟”

نوجوان نے اپنی پوری داستان سنا دی۔ حضرت جنیدؒ نے فرمایا:

“اللہ کے سامنے جھک جاؤ، مگر ساتھ اسباب بھی اختیار کرو۔ صبح بازار جاؤ، مگر دل اللہ سے جوڑے رکھو۔”

نوجوان نے عرض کیا:
“حضرت! کیا میری دعا قبول ہوگی؟”

آپ نے فرمایا:
“جو سچی دعا کرتا ہے، وہ خالی نہیں لوٹتا۔ یا تو وہی چیز ملتی ہے، یا اس سے بہتر، یا کوئی مصیبت ٹل جاتی ہے۔”

یہ الفاظ اس کے لیے امید بن گئے۔

اگلے دن وہ بازار گیا۔ اس کے پاس بیچنے کو زیادہ سامان نہ تھا، مگر دل مطمئن تھا۔ اچانک ایک مسافر آیا جسے بڑی مقدار میں سامان چاہیے تھا۔ اس نے قیمت پوچھی۔ نوجوان نے سچائی سے جواب دیا اور اپنا حال بھی بتا دیا۔

مسافر اس کی دیانت سے متاثر ہوا اور اس سے سارا سامان خرید لیا — وہ بھی اچھی قیمت پر۔ جاتے ہوئے اس نے کہا:

“مجھے سچے لوگ کم ملتے ہیں، اس لیے میں تم سے خرید رہا ہوں۔”

یہ پہلا دروازہ تھا جو کھلا۔

چند ہی ہفتوں میں حالات بدلنے لگے۔ کاروبار میں برکت ہوئی۔ قرض اترنے لگا۔ گھر میں سکون لوٹ آیا۔

ایک دن وہ دوبارہ اسی مسجد گیا اور سجدے میں گر کر رونے لگا۔ اس نے کہا:

“یا اللہ! میں نے تنگی میں تجھے پکارا، تو نے وسعت دی۔ اب مجھے غفلت میں نہ ڈالنا۔”

وہ حضرت جنید بغدادیؒ کے پاس گیا اور شکریہ ادا کیا۔ آپ نے فرمایا:

“میرا نہیں، اللہ کا شکر ادا کرو۔ یاد رکھو، اصل قبولیت دل کی ہوتی ہے، الفاظ کی نہیں۔”

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دعا صرف مشکل میں یاد کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ سے تعلق کا نام ہے۔ جب دل ٹوٹ کر جھکتا ہے تو آسمان کے دروازے کھلتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں وعدہ فرمایا ہے:

“وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ”
(اور تمہارے رب نے کہا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔)

یہ وعدہ ہر زمانے کے لیے ہے۔ شرط صرف ایک ہے — اخلاص۔

کبھی دعا فوراً قبول ہوتی ہے، کبھی تاخیر سے، کبھی مختلف شکل میں۔ مگر کوئی سچی دعا ضائع نہیں جاتی۔

اگر آج آپ بھی کسی پریشانی میں ہیں، قرض میں ہیں، بیماری میں ہیں، یا دل کے بوجھ میں ہیں —
تو سب سے پہلے اللہ کے سامنے جھک جائیں۔ سجدہ کریں۔ دل کھول کر بات کریں۔ آنسو بہائیں۔ اور یقین رکھیں کہ وہ سن رہا ہے۔

کیونکہ سچی دعا کبھی خالی نہیں لوٹتی۔

مستند حوالہ جات (References)

Qur’an – سورۃ النمل 27:62

Qur’an – سورۃ غافر 40:60

Hilyat al-Awliya

یہ بھی پڑھیں:

سچی توبہ کا واقعہ – گناہگار کی ایمان افروز کہانی

حضرت اویس قرنیؒ – وہ ولی جسے زمین نے نہ پہچانا مگر آسمان نے سلام بھیجا