حضرت بشر حافیؒ کا ایمان افروز واقعہ – گناہوں سے ولایت تک کا ناقابلِ فراموش سفر
اسلامی تاریخ میں بعض نام ایسے ہیں جو سننے میں سادہ لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے ایسی داستانیں پوشیدہ ہوتی ہیں جو انسان کی پوری سوچ بدل دیتی ہیں۔ حضرت بشر حافیؒ انہی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کی زندگی گناہ سے توبہ، غفلت سے بیداری اور دنیا سے بے نیازی کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر کم ملتی ہے۔
حضرت بشر حافیؒ کا شمار بغداد کے رہنے والوں میں ہوتا ہے۔ جوانی کے زمانے میں وہ نہایت مالدار، خوش حال اور عیش و عشرت میں ڈوبے ہوئے انسان تھے۔ محفلیں، موسیقی، دوستوں کی چہل پہل اور دنیا کی رنگینیاں—یہ سب ان کی زندگی کا معمول تھا۔ اللہ کی یاد، آخرت کی فکر اور عبادت ان کے دل سے کوسوں دور تھی۔ لوگ انہیں ایک لاپرواہ اور آزاد خیال نوجوان کے طور پر جانتے تھے۔
ایک دن کا واقعہ ان کی پوری زندگی کا رخ بدل دینے والا ثابت ہوا۔
کہا جاتا ہے کہ حضرت بشرؒ ایک محفلِ طرب میں مشغول تھے۔ گانے بج رہے تھے، قہقہے بلند تھے اور دل غفلت میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسی دوران کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک بزرگ تشریف لائے۔ انہوں نے گھر کے اندر سے آنے والی آوازیں سنیں اور ایک سوال پوچھا:
“یہ گھر آزاد آدمی کا ہے یا غلام کا؟”
کسی نے جواب دیا:
“آزاد آدمی کا ہے۔”
یہ سن کر بزرگ نے فرمایا:
“ہاں، اگر غلام ہوتا تو اپنے آقا کے حکم کے خلاف اس طرح نہ رہتا۔”
یہ کہہ کر وہ بزرگ چلے گئے۔
یہ الفاظ گویا تیر بن کر بشرؒ کے دل میں پیوست ہو گئے۔ محفل کا شور اچانک ان کے کانوں میں بے معنی لگنے لگا۔ دل میں ایک سوال اٹھا:
“اگر میں واقعی آزاد ہوں تو پھر اللہ کی نافرمانی کیوں کر رہا ہوں؟ اور اگر غلام ہوں تو اس طرح زندگی گزارنے کی جرأت کیسے کر سکتا ہوں؟”
اسی کشمکش میں وہ محفل چھوڑ کر باہر نکلے۔ زمین پر نظر پڑی تو ایک کاغذ کا ٹکڑا دکھائی دیا، جس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا تھا۔ وہ کاغذ زمین پر پڑا، مٹی سے اَٹا ہوا تھا۔ حضرت بشرؒ نے اسے اٹھایا، صاف کیا، خوشبو لگائی اور ادب سے اونچی جگہ رکھ دیا۔
اسی رات انہوں نے خواب دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے:
“اے بشر! تو نے ہمارے نام کو زمین سے اٹھایا، ہم تیرا نام آسمانوں میں بلند کر دیں گے۔”
یہ خواب ان کی زندگی کا نقطۂ انقلاب بن گیا۔
اگلی صبح وہ ایک بدلے ہوئے انسان تھے۔ نہ وہ محفلیں رہیں، نہ وہ دوست، نہ وہ عیش۔ انہوں نے سچی توبہ کی اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی دن انہوں نے جوتے اتار دیے اور پھر پوری زندگی ننگے پاؤں ہی چلتے رہے۔ جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:
“میں نے اللہ سے ننگے پاؤں صلح کی تھی، اب جوتے پہننے میں حیا محسوس کرتا ہوں۔”
یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے انہیں “حافی” (ننگے پاؤں چلنے والا) کے لقب سے یاد رکھا۔
حضرت بشر حافیؒ نے علمِ دین حاصل کیا، عبادت میں مشغول ہو گئے اور زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ بن گئے۔ ان کی مجالس میں بیٹھنے والا شخص دنیا کی محبت اپنے دل میں کم ہوتی محسوس کرتا۔ وہ کم بولتے، مگر جب بولتے تو دل کو ہلا دیتے۔
وہ فرمایا کرتے تھے:
“جس دن تمہیں لوگوں کی تعریف اچھی لگنے لگے، سمجھ لو تمہارا نقصان شروع ہو گیا ہے۔”
ان کا خوفِ خدا اس درجے کا تھا کہ اکثر روتے رہتے۔ کسی نے پوچھا:
“آپ تو بڑے ولی ہیں، پھر یہ آنسو کیوں؟”
فرمایا:
“مجھے ڈر ہے کہیں اللہ مجھے میرے حال پر چھوڑ نہ دے۔”
حضرت بشر حافیؒ شہرت سے سخت نفرت کرتے تھے۔ چاہتے تھے کہ لوگ انہیں نہ جانیں۔ ایک بار کسی نے ان کی تعریف کی تو سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:
“اگر لوگ مجھے جان لیں کہ میں حقیقت میں کیا ہوں تو کوئی میرے پاس نہ بیٹھے۔”
امام احمد بن حنبلؒ جیسے عظیم محدث ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے:
“بشر حافیؒ جیسے لوگ امت کے لیے امان ہوتے ہیں۔”
ان کی زندگی سادگی کا نمونہ تھی۔ نہ عمدہ لباس، نہ اچھا کھانا۔ جو مل جاتا، شکر کے ساتھ قبول کرتے۔ دنیا ان کے قدموں میں تھی، مگر انہوں نے دنیا کو دل میں جگہ نہ دی۔
227 ہجری میں یہ اللہ کا ولی اس دنیا سے رخصت ہوا۔ بغداد میں اس دن عجیب کیفیت تھی۔ لوگ رو رہے تھے، جیسے کوئی روحانی سایہ سر سے اٹھ گیا ہو۔ ان کا جنازہ اس بات کی گواہی تھا کہ جس نے اللہ سے سچی توبہ کی، اللہ نے اسے لوگوں کے دلوں میں عزت عطا کر دی۔
حضرت بشر حافیؒ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ کی طرف پلٹنے کے لیے کسی خاص وقت، خاص مقام یا خاص حال کی ضرورت نہیں۔ ایک لمحہ، ایک بات اور ایک سچی ندامت انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں تک پہنچا سکتی ہے۔
وہ آج بھی ہمیں خاموشی سے یہ پیغام دیتے ہیں:
اگر دل جاگ جائے تو پاؤں ننگے ہوں یا جوتے والے—راستہ اللہ تک پہنچ ہی جاتا ہے۔
مستند حوالہ جات (References)
1️⃣ حلية الأولياء وطبقات الأصفياء
— امام ابو نعیم اصفہانیؒ
(حضرت بشر حافیؒ کا تفصیلی ذکر، توبہ اور زہد)
2️⃣ صفوة الصفوة
— امام ابن الجوزیؒ
(اولیاء اللہ کے حالاتِ زندگی)
3️⃣ سیر أعلام النبلاء
— امام ذہبیؒ
(علماء و اولیاء کی مستند سیرت)
4️⃣ تذکرة الأولیاء
— امام فرید الدین عطارؒ
(قصص الاولیاء کے انداز میں واقعات)
نوٹ: حضرت بشر حافیؒ کے واقعات مختلف معتبر کتبِ تصوف و سیرت میں منقول ہیں۔ بعض روایات قصصی انداز میں بیان کی گئی ہیں، جن کا مقصد اصلاحِ نفس اور اخلاص کی ترغیب ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حضرت حسن بصریؒ – وہ آنسو جو تختوں کو ہلا دیتے تھے
حضرت اویس قرنیؒ – وہ ولی جسے زمین نے نہ پہچانا مگر آسمان نے سلام بھیجا
