Maa ki Dua

ماں کی دعا سے بدلنے والی زندگی — ایمان افروز واقعہ

زندگی میں کچھ دعائیں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کے ساتھ سایہ بن کر چلتی ہیں۔ ان میں سب سے طاقتور دعا ماں کی دعا ہوتی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے نوجوان کا ہے جس کی زندگی ماں کی دعا سے بدل گئی۔

یہ نوجوان کوفہ کے ایک عام گھر میں پیدا ہوا۔ بچپن میں وہ نرم دل تھا، مگر جوانی میں بری صحبت کا شکار ہو گیا۔ نماز چھوٹنے لگی، گھر سے دوری بڑھنے لگی، اور ماں کی نصیحتیں اسے بوجھ لگنے لگیں۔

ماں خاموش رہتی، مگر ہر رات دعا کرتی۔

وہ اکثر سجدے میں کہتی:
“یا اللہ! میرے بیٹے کو ہدایت دے، اسے اپنے راستے پر لے آ۔”

نوجوان کو ماں کی فکر محسوس ہوتی، مگر دل سخت ہو چکا تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ زندگی ابھی لمبی ہے، توبہ بعد میں کر لوں گا۔

وقت گزرتا گیا۔ ایک دن وہ دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اچانک ایک دوست کی موت کی خبر آئی۔ یہ خبر اس کے دل کو ہلا گئی۔ پہلی بار اس نے موت کو قریب محسوس کیا۔

وہ رات گھر آیا تو ماں کو نماز میں روتے دیکھا۔ ماں دعا کر رہی تھی:

“یا اللہ! میرے حصے کی خوشی بھی لے لے، مگر میرے بیٹے کو ہدایت دے دے۔”

یہ جملہ اس کے دل میں تیر کی طرح لگا۔

وہ پہلی بار خاموشی سے بیٹھ گیا۔ اسے احساس ہوا کہ ایک شخص ہے جو اسے کبھی نہیں چھوڑتا — اس کی ماں۔

اگلی رات اسے نیند نہ آئی۔ دل بے چین تھا۔ صبح وہ مسجد گیا — شاید برسوں بعد۔ نماز میں کھڑا ہوا تو آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

اس نے دل میں کہا:
“یا اللہ! اگر تو مجھے بدل دے تو میری ماں کی دعا قبول ہو جائے گی۔”

یہ لمحہ اس کی زندگی کا turning point تھا۔

وہ آہستہ آہستہ بدلنے لگا۔ بری صحبت چھوڑ دی۔ نماز شروع کر دی۔ ماں کے ساتھ وقت گزارنے لگا۔ ماں حیران تھی مگر شکر گزار۔

ایک دن ماں نے پوچھا:
“بیٹا، کیا ہوا؟”

اس نے جواب دیا:
“آپ کی دعا لگ گئی۔”

ماں رو پڑی۔

اسلامی تاریخ میں ماں کی دعا کی طاقت کی سب سے بڑی مثال امام بخاریؒ کی زندگی میں ملتی ہے۔ بچپن میں آپ کی بینائی چلی گئی تھی، اور آپ کی والدہ نے مسلسل دعا کی۔ روایت ہے کہ اللہ نے خواب کے ذریعے بشارت دی اور آپ کی بینائی واپس آ گئی۔

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ماں کی دعا تقدیر بدل سکتی ہے۔

نوجوان کی زندگی میں بھی یہی ہوا۔ چند سال بعد وہ خود دوسروں کو نصیحت کرنے لگا۔ لوگ کہتے تھے:

“تم بہت بدل گئے ہو۔”

وہ مسکرا کر کہتا:
“میں نہیں بدلا، میری ماں کی دعا نے بدل دیا۔”

قرآن ہمیں والدین کی عظمت یاد دلاتا ہے:

“اور ان کے لیے عاجزی کے ساتھ رحمت کا بازو جھکائے رکھو اور دعا کرو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔”

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ والدین کا مقام صرف احترام نہیں بلکہ دعا کا بھی ہے۔

وقت گزرتا گیا۔ ماں بوڑھی ہو گئی۔ ایک دن نوجوان ماں کے پاس بیٹھا تھا۔ ماں نے کہا:

“مجھے اب سکون ہے، کیونکہ میں نے تمہیں اللہ کے قریب دیکھا۔”

یہ سن کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

اس نے سوچا کہ دنیا کی سب سے بڑی کامیابی ماں کی دعا کا قبول ہونا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کبھی بھی کسی کی ہدایت سے مایوس نہ ہوں — خاص طور پر اپنی اولاد کی۔ ماں کی دعا وقت لیتی ہے، مگر ضائع نہیں ہوتی۔

اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو ان کی دعا حاصل کریں۔ اگر نہیں ہیں تو ان کے لیے دعا کریں۔ کیونکہ والدین کی دعا زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

حوالہ جات (References)

  • Qur’an — سورۃ الاسراء 17:24
  • Tarikh Baghdad — امام بخاریؒ کی والدہ کا واقعہ
  • Siyar A’lam al-Nubala

یہ بھی پڑھیں:

سچی دعا قبول ہونے کا حیرت انگیز واقعہ