حضرت اویس قرنیؒ – وہ ولی جسے زمین نے نہ پہچانا مگر آسمان نے سلام بھیجا

اسلامی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جن کا مقام الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتا، کیونکہ ان کی عظمت شہرت میں نہیں بلکہ گمنامی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ حضرت اویس قرنیؒ انہی میں سے ایک تھے۔ نہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ظاہری آنکھوں سے دیکھا، نہ کبھی مدینہ کی گلیوں میں پہچانے گئے، مگر ان کا نام آسمانوں میں لیا گیا، اور نبی کریم ﷺ نے خود ان کا ذکر اپنے صحابہؓ سے فرمایا۔

حضرت اویس قرنیؒ یمن کے علاقے قرن میں رہتے تھے۔ وہ ایک نہایت غریب چرواہے تھے۔ دنیاوی اعتبار سے ان کے پاس نہ علم کی مجالس تھیں، نہ شاگرد، نہ شہرت۔ مگر ان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت اس طرح بھری ہوئی تھی کہ دنیا کی کوئی محبت اس کے برابر نہ آ سکی۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ان کی بوڑھی اور بیمار والدہ تھیں، جن کی خدمت میں انہوں نے اپنی جوانی، خواہشات اور حتیٰ کہ زیارتِ رسول ﷺ کی آرزو تک قربان کر دی۔

حضرت اویسؒ کی والدہ نابینا تھیں اور چلنے پھرنے سے معذور۔ اویسؒ دن بھر بکریاں چراتے اور رات کو ماں کے قدم دباتے۔ ان کی ماں کے ہونٹوں سے نکلی ہر دعا ان کے لیے دنیا کی سب سے بڑی دولت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ والدین کی رضا میں اللہ کی رضا پوشیدہ ہے، اور اسی یقین نے انہیں صبر کا پہاڑ بنا دیا تھا۔

دل میں ایک خواہش ضرور پلتی تھی—کاش میں مدینہ جا کر رسول اللہ ﷺ کی زیارت کر لوں۔ مگر ماں کی خدمت نے انہیں باندھ رکھا تھا۔ ایک دن ماں نے خود اجازت دی اور کہا:
“بیٹا! مدینہ جا کر نبی ﷺ کی زیارت کر لو، مگر زیادہ دیر نہ رکنا، مجھے تمہاری ضرورت ہے۔”

یہ سن کر اویسؒ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ پیدل مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ سفر طویل تھا، مگر شوق اس سے کہیں بڑا۔ مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت گھر پر موجود نہیں ہیں۔ اویسؒ ٹھٹھک گئے۔ دل چاہا کہ انتظار کریں، مگر ماں کی نصیحت یاد آ گئی۔ چند لمحے درِ نبوی ﷺ کے سامنے کھڑے رہے، آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، پھر واپس لوٹ گئے—بغیر دیدار کے، مگر مکمل وفاداری کے ساتھ۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں زمین نے انہیں نہیں پہچانا، مگر آسمان نے انہیں منتخب کر لیا۔

کچھ عرصے بعد رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا:
“یمن کی طرف سے تمہارے پاس ایک شخص آئے گا جس کا نام اویس ہے، وہ قرن کا رہنے والا ہے۔ اس کی ماں تھی، جس کی اس نے بے مثال خدمت کی۔ اگر تم اس سے ملو تو اس سے کہنا کہ وہ تمہارے لیے استغفار کرے۔”

یہ سن کر صحابہؓ حیران رہ گئے۔ ایک ایسا شخص جس نے رسول ﷺ کو دیکھا بھی نہیں، اس کا مقام یہ کہ صحابہؓ اس سے دعا کی درخواست کریں؟

حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ خاص طور پر اویسؒ کی تلاش میں رہنے لگے۔ ہر سال حج کے موقع پر یمن سے آنے والے قافلوں میں پوچھتے:
“کیا تم میں کوئی اویس ہے؟”

کئی سال بعد ایک حج کے موقع پر وہ ملے۔ سادہ لباس، جھکی نظریں، خاموش مزاج۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا:
“کیا تم اویس قرنی ہو؟”

انہوں نے سر جھکا کر کہا:
“جی، میں اویس ہوں، مگر میں کچھ بھی نہیں ہوں۔”

حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کی بات انہیں سنائی اور درخواست کی:
“ہمارے لیے دعا کرو۔”

اویسؒ لرز گئے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ کہا:
“میں تو خود گناہگار ہوں، میں آپ جیسے لوگوں کے لیے دعا کیسے کر سکتا ہوں؟”

مگر حضرت عمرؓ کے اصرار پر انہوں نے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی۔ وہ لمحہ ایسا تھا کہ زمین پر کھڑے لوگ تھے، مگر رحمت آسمان سے برس رہی تھی۔

حضرت اویس قرنیؒ کو شہرت سے سخت نفرت تھی۔ انہوں نے حضرت عمرؓ سے کہا:
“میری ایک شرط ہے—میرا نام کسی پر ظاہر نہ کرنا۔”

وہ چاہتے تھے کہ اللہ انہیں جانے، لوگ نہیں۔

ان کی زندگی کا ہر لمحہ اخلاص کا آئینہ تھا۔ وہ فرماتے تھے:
“اللہ سے تعلق رکھنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ لوگ تمہیں جانیں، ضروری یہ ہے کہ اللہ تمہیں پہچان لے۔”

روایات کے مطابق حضرت اویس قرنیؒ جنگِ صفین میں شہید ہوئے۔ ان کا جنازہ گمنام رہا، مگر ان کا مقام قیامت تک روشن رہا۔ آج بھی ان کا ذکر کیا جائے تو دل میں ایک عجیب سی خاموش عظمت محسوس ہوتی ہے۔

حضرت اویس قرنیؒ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ولایت کا راستہ شہرت سے نہیں گزرتا، بلکہ خدمت، اطاعت اور اخلاص سے ہو کر جاتا ہے۔ کبھی کبھی اللہ کے سب سے قریبی بندے وہ ہوتے ہیں جنہیں دنیا جانتی ہی نہیں۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ نے ان کے نام کو زمین پر کم، مگر آسمان پر ہمیشہ کے لیے بلند کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:حضرت فُضیل بن عیاضؒ – گناہوں کے اندھیرے سے ولایت کے نور تک

References (مستند حوالہ جات)

  1. مسلم شریف، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل اویس القرنی
  2. الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب – ابن عبد البر
  3. اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ – ابن الاثیر
  4. سیر اعلام النبلاء – امام ذہبی
  5. حلیۃ الاولیاء – امام ابو نعیم اصفہانی

✦ یہ واقعہ صحیح مسلم کی روایت کی بنیاد پر مستند مانا جاتا ہے۔