اللہ پر توکل کا سچا واقعہ — جب ناممکن ممکن ہوا
زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب انسان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا۔ حساب کتاب ختم ہو جاتا ہے، وسائل ختم ہو جاتے ہیں، مگر ایک چیز باقی رہتی ہے — اللہ پر توکل۔
یہ واقعہ ایک غریب مگر باایمان آدمی کا ہے جو دمشق کے مضافات میں رہتا تھا۔ وہ مزدوری کرتا، دن بھر محنت کرتا اور شام کو گھر آ کر بچوں کے ساتھ سادہ کھانا کھاتا۔ زندگی مشکل تھی مگر دل مطمئن تھا۔
ایک دن اچانک اس کی طبیعت خراب ہو گئی۔ کئی دن وہ کام پر نہ جا سکا۔ گھر میں موجود تھوڑا سا راشن ختم ہو گیا۔ بیوی نے آہستہ سے کہا:
“گھر میں کچھ نہیں بچا…”
اس نے خاموشی سے سر جھکا لیا، مگر چہرے پر گھبراہٹ نہ تھی۔ اس نے کہا:
“اللہ رزق دینے والا ہے۔”
اگلے دن وہ کمزوری کے باوجود کام کی تلاش میں نکلا، مگر کہیں کام نہ ملا۔ سورج ڈھلنے لگا۔ وہ ایک مسجد کے صحن میں بیٹھ گیا۔ دل میں خیال آیا:
“کیا میں واقعی اللہ پر توکل کرتا ہوں یا صرف کہتا ہوں؟”
اس نے وضو کیا، دو رکعت نماز پڑھی اور سجدے میں گر گیا۔ اس نے کہا:
“یا اللہ! میں نے کوشش کی، مگر اب معاملہ تیرے سپرد ہے۔ میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں۔”
یہ الفاظ سادہ تھے مگر دل سے نکلے تھے۔
اسی وقت مسجد میں ایک بوڑھا شخص آیا۔ اس نے اس آدمی کو بیٹھا دیکھا اور پوچھا:
“بیٹا، تم پریشان لگتے ہو۔”
اس نے اپنا حال بتا دیا۔ بوڑھے نے مسکرا کر کہا:
“میں کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھا جو ایماندار ہو۔ میرے پاس کچھ سامان ہے جو مجھے بازار پہنچانا ہے۔ کیا تم مدد کرو گے؟”
وہ فوراً تیار ہو گیا۔
یہ ایک چھوٹا سا کام تھا، مگر اس کے بدلے اسے اتنے پیسے ملے کہ وہ کئی دن کا راشن لے سکا۔ وہ گھر واپس آیا تو بیوی حیران رہ گئی۔
اس نے کہا:
“یہ اللہ کا رزق ہے، جب میں نے چھوڑ دیا تو اس نے سنبھال لیا۔”
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔
کچھ دن بعد وہی بوڑھا شخص دوبارہ آیا اور اس سے مستقل کام کی پیشکش کی۔ معلوم ہوا کہ وہ ایک تاجر ہے اور اسے دیانت دار آدمی چاہیے تھا۔
آہستہ آہستہ اس آدمی کے حالات بدلنے لگے۔ گھر میں سکون آ گیا۔ قرض اترنے لگے۔ زندگی آسان ہونے لگی۔
ایک دن اس نے بوڑھے سے پوچھا:
“آپ نے مجھے کیوں منتخب کیا؟”
بوڑھے نے جواب دیا:
“میں نے تمہیں مسجد میں دیکھا۔ تمہارے چہرے پر شکایت نہیں تھی۔ ایسے لوگ کم ملتے ہیں جو مشکل میں بھی اللہ پر بھروسہ کریں۔”
یہ جملہ اس کے دل میں اتر گیا۔
اس نے سمجھ لیا کہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھنا نہیں بلکہ کوشش کے بعد دل کو اللہ کے حوالے کرنا ہے۔
وہ اکثر اپنے بچوں کو کہتا:
“رزق محنت سے آتا ہے، مگر برکت توکل سے آتی ہے۔”
وقت گزرتا گیا۔ وہ شخص خود دوسروں کی مدد کرنے لگا۔ جب کوئی پریشان ہوتا تو وہ یہی کہتا:
“دروازے بند ہوں تو سمجھ لو اللہ تمہیں اپنے در کی طرف بلا رہا ہے۔”
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ”
(جو اللہ پر توکل کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے)
یہ آیت اس کی زندگی کی حقیقت بن گئی۔
ایک رات وہ اسی مسجد میں بیٹھا تھا جہاں اس کی زندگی بدلی تھی۔ اس نے سجدہ کیا اور کہا:
“یا اللہ! اس دن میرے پاس کچھ نہیں تھا مگر تو تھا۔ آج میرے پاس سب کچھ ہے، مگر مجھے تجھ سے دور نہ کرنا۔”
یہی توکل ہے — تنگی میں بھی اللہ، وسعت میں بھی اللہ۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ توکل کوئی جذباتی جملہ نہیں بلکہ دل کی حالت ہے۔ جب انسان وسائل سے زیادہ اللہ پر یقین کرے تو حالات بدلتے ہیں۔
توکل کا مطلب یہ نہیں کہ کوشش چھوڑ دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ نتیجہ اللہ کے سپرد کر دیا جائے۔
اور جب نتیجہ اللہ کے سپرد ہو جائے تو خوف ختم ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
سچی دعا قبول ہونے کا حیرت انگیز واقعہ
سچی توبہ کا واقعہ – گناہگار کی ایمان افروز کہانی
حوالہ جات (References):
قرآن (65:3)، ترمذی (حدیث توکل)، احیاء العلوم (باب التوکل)
