حضرت رابعہ بصریؒ – وہ محبت جو جنت و دوزخ سے ماورا تھی
اسلامی تاریخ میں اگر کسی خاتون کا نام زہد، عشقِ الٰہی اور بے لوث عبادت کی علامت بن کر ابھرا ہے تو وہ حضرت رابعہ بصریؒ ہیں۔ وہ نہ عالمہ تھیں، نہ محدثہ، نہ کسی سلطنت کی ملکہ—لیکن اللہ نے انہیں ایسی معرفت عطا فرمائی کہ بڑے بڑے اولیاء ان کے در پر آ کر بیٹھ گئے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ اللہ تک پہنچنے کے لیے نہ دولت شرط ہے، نہ نسب، بلکہ ایک جلتا ہوا دل اور سچا ارادہ کافی ہوتا ہے۔
حضرت رابعہ بصریؒ بصرہ کے ایک نہایت غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ روایت ہے کہ ان کے والدین اتنے مفلس تھے کہ گھر میں چراغ جلانے کے لیے تیل تک موجود نہ تھا۔ پیدائش کی رات والد سخت پریشان تھے کہ نومولود کے لیے کپڑا کہاں سے آئے گا۔ اسی رات انہوں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جنہوں نے فرمایا:
“غم نہ کرو، یہ بچی اللہ کی مقبول بندی ہے، اس کی برکت سے بہت سے لوگ ہدایت پائیں گے۔”
مگر دنیا کی آزمائشیں ابھی باقی تھیں۔ والدین کے انتقال کے بعد رابعہؒ تنہا رہ گئیں۔ قحط پڑا، شہر میں فاقے عام ہو گئے۔ ایک دن وہ روزی کی تلاش میں نکلی تھیں کہ ڈاکوؤں نے اغوا کر کے غلامی میں بیچ دیا۔ جس گھر میں پہنچیں، وہاں ان سے سخت مشقت لی جاتی۔ دن بھر کام، رات کو بھوک، اور دل میں صرف ایک ہی سہارا—اللہ۔
ایک رات مالک نے دیکھا کہ رابعہؒ سجدے میں ہیں اور دعا کر رہی ہیں:
“اے میرے رب! تو جانتا ہے کہ اگر آزادی میرے اختیار میں ہوتی تو میں ایک لمحہ بھی تیری عبادت سے غافل نہ ہوتی۔ لیکن میں مجبور ہوں، پھر بھی تو میرا مقصد جانتا ہے۔”
مالک پر اس منظر کا ایسا اثر ہوا کہ اس نے فوراً انہیں آزاد کر دیا۔ یوں غلامی ختم ہوئی، مگر رابعہؒ نے دنیا کی غلامی کو بھی اسی دن خیر باد کہہ دیا۔
انہوں نے بصرہ کے ایک ویران گوشے میں عبادت گاہ بنا لی۔ دن کا زیادہ حصہ روزے میں، رات سجدوں میں گزرتی۔ لباس سادہ، خوراک معمولی، مگر دل نور سے بھرا ہوا۔ وہ اللہ سے ایسی باتیں کرتیں جو عام عقل سے ماورا تھیں۔
ایک مرتبہ کسی نے پوچھا:
“اے رابعہ! کیا تم جنت کی خواہش نہیں رکھتیں؟”
انہوں نے جواب دیا:
“میں اس رب کی عبادت کرتی ہوں جو جنت کا بھی رب ہے۔ اگر میں جنت کے لیے عبادت کروں تو یہ تجارت ہے، محبت نہیں۔”
یہ الفاظ سن کر سننے والوں کے دل کانپ اٹھتے۔
ان کا سب سے مشہور واقعہ وہ ہے جب ایک دن لوگ انہیں ہاتھ میں آگ اور پانی کی بالٹی لیے دوڑتے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کسی نے پوچھا:
“یہ کیا کر رہی ہو؟”
فرمایا:
“آگ سے جنت کو جلا دوں گی اور پانی سے دوزخ کو بجھا دوں گی، تاکہ لوگ اللہ کی عبادت نہ لالچ میں کریں نہ خوف میں، بلکہ صرف اس کی محبت میں کریں۔”
یہ وہ مقام تھا جہاں تصوف کی روح مکمل ہو جاتی ہے۔
امام حسن بصریؒ جیسے عظیم عالم بھی ان کی صحبت میں بیٹھتے۔ ایک مرتبہ انہوں نے پوچھا:
“اے رابعہ! تم نے اللہ کو کیسے پایا؟”
انہوں نے فرمایا:
“میں نے خود کو کھو دیا، تب اسے پایا۔”
یہ جملہ گویا معرفت کا سمندر تھا۔
حضرت رابعہ بصریؒ کی زندگی میں شادی کا سوال بھی آیا۔ کئی نیک اور صاحبِ علم افراد نے نکاح کی خواہش ظاہر کی، مگر انہوں نے سب کو ایک ہی جواب دیا:
“میں نے خود کو اللہ کے حوالے کر دیا ہے، اب میرے دل میں کسی اور کے لیے جگہ نہیں۔”
ان کی عبادت میں کوئی دکھاوا نہ تھا۔ ایک مرتبہ کسی نے دیکھا کہ وہ شدید بیمار ہیں مگر نماز نہیں چھوڑ رہیں۔ عرض کیا گیا:
“آپ آرام کر لیں۔”
فرمایا:
“جب بلا اجازت اس دنیا میں آئی ہوں تو کیسے اجازت کے بغیر عبادت چھوڑ دوں؟”
جب ان کی وفات کا وقت آیا تو لوگوں نے سنا کہ وہ مسکرا رہی ہیں۔ کسی نے پوچھا:
“کیا دیکھ رہی ہیں؟”
کہا:
“وہ جن سے برسوں محبت کی، وہی سامنے ہیں۔”
اور یوں وہ خاتون جس کے پاس دنیا میں کچھ نہ تھا، اللہ کے حضور سب کچھ پا گئی۔
حضرت رابعہ بصریؒ ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اللہ کا راستہ نہ مرد کے لیے مخصوص ہے نہ عورت کے لیے—یہ راستہ صرف سچوں کے لیے ہے۔ جو اللہ کو اللہ کے لیے چاہے، وہی اصل کامیاب ہے۔
نوٹ: حضرت رابعہ بصریؒ کے واقعات مختلف معتبر صوفیانہ مصادر میں منقول ہیں۔ بعض روایات تاریخی تسلسل کے اعتبار سے قصصی انداز رکھتی ہیں، تاہم اہلِ علم نے انہیں زہد، اخلاص اور عشقِ الٰہی کی مثال کے طور پر قبول کیا ہے۔
