سفیان ثوریؒ کی حق گوئی اور زہد کا حیرت انگیز واقعہ
حضرت سفیان ثوریؒ دوسرے صدی ہجری کے عظیم محدث اور زاہد تھے۔ ان کی ذات تقویٰ، خوفِ خدا، علم و عمل اور دنیا سے بے رغبتی کا ایک عظیم نمونہ تھی۔ ان کے بے شمار واقعات ایسے ہیں جو انسان کے دل میں آخرت کی یاد تازہ کر دیتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک واقعہ نہایت سبق آموز ہے، جو اُن کے اخلاص اور اللہ کے خوف کو آشکار کرتا ہے۔ یہ واقعہ اُس دور کی ایک قاضی عدالت سے متعلق ہے، جس میں سفیان ثوریؒ نے اپنی دیانت، تقویٰ اور ایمانی غیرت کو اس طرح محفوظ رکھا کہ آج تک اہلِ ایمان کے لیے چراغِ راہ ہے۔
ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے سفیان ثوریؒ کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا کر ان کو عباسی حکمران کے دربار میں طلب کروا دیا۔ اس زمانے میں عباسی خلفاء اکثر اہلِ علم کو اپنی رائے اور سیاسی فیصلوں کے مطابق فتویٰ دینے کے لیے مجبور کرتے تھے۔ بہت سے علماء نے اس دباؤ کو برداشت کیا، مگر سفیان ثوریؒ اپنی طبیعت کے اعتبار سے کبھی حکمرانوں کی چاپلوسی اور بے جا تعریف کے قائل نہیں تھے۔ اسی دیانت داری کی وجہ سے وہ اکثر درباروں اور حکومتی مناصب سے دور رہتے۔
جب دربارِ خلافت میں ان پر الزامات لگائے گئے تو وزیر نے حکم دیا کہ سفیان ثوریؒ کو فوراً عدالت میں پیش کیا جائے۔ چنانچہ خلیفہ کے سپاہی ان کی تلاش میں نکلے۔ جب سفیانؒ کو خبر ہوئی کہ اُن کی گرفتاری کے احکامات جاری ہو چکے ہیں تو ان کے شاگردوں کو شدید پریشانی لاحق ہوئی۔ مگر سفیان ثوریؒ بڑے اطمینان سے بیٹھے تھے۔ انہوں نے فرمایا: “جس رب نے مجھے علم دیا ہے، وہی میرا محافظ بھی ہے۔ حکمران میرا رزق بند نہیں کر سکتے، اور نہ وہ میری موت کو ٹال سکتے ہیں۔”
سپاہی جب اُن تک پہنچے تو انہوں نے سفیان ثوریؒ کو حکم دیا کہ فوراً دربار میں چلیں۔ سفیانؒ اپنی جگہ سے اٹھے، مگر اس دوران انہوں نے ایک غلام کو بلایا اور آہستہ آواز میں کہا: “میری ماں سے جا کر کہہ دینا کہ سفیان آج کسی آزمائش میں جا رہا ہے۔ اس کے لیے دعا کرنا۔” یہ بات سن کر حاضرین کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
جب سفیان ثوریؒ دربار میں پہنچے تو خلیفہ کا وزیر مغرورانہ انداز میں بولا:
“اے سفیان! تم ہمارے احکامات نہیں مانتے، ہماری مجلسوں میں نہیں آتے، اور ہمارے فیصلوں کی توثیق سے انکار کرتے ہو۔ کیا تم اپنے آپ کو ہم سے زیادہ دانا سمجھتے ہو؟”
سفیان ثوریؒ نے نہایت سکون سے جواب دیا:
“میں علم کا خادم ہوں، حکمران کا ملازم نہیں۔ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شریعت کے مطابق فتویٰ دیتا ہوں۔ اگر آپ کے حکم میں شریعت کے خلاف کچھ نہ ہو تو میں آپ کے حکم کی تعمیل کر سکتا ہوں۔ لیکن اگر حکم خدا کی نافرمانی کا باعث ہو، تو میرے لیے اس کو ماننا جائز نہیں۔”
وزیر نے غصے سے کہا:
“اگر ہم تمہیں قاضی بنا دیں، تو کیا تم ہمارا حکم مانو گے؟”
سفیانؒ نے جواب دیا:
“قاضی بننا میرے لیے دنیا اور آخرت کی بربادی کا دروازہ ہے۔ میں کیوں ایسا بوجھ اٹھاؤں جو قیامت کے دن میرے گلے کا پھندا بن جائے؟”
یہ سن کر وزیر شدید ناراض ہوا۔ اس نے حکم دیا کہ سفیان ثوریؒ کو قید کر دیا جائے۔ لیکن خلیفہ، جو کچھ نرم دل تھا، بولا:
“اس شخص میں خوفِ خدا ہے۔ اس کی باتوں میں حکمت ہے۔ اسے چھوڑ دو۔”
سفیان ثوریؒ کو رہا کر دیا گیا۔ مگر وہ اس نرمی کے باوجود حکمرانوں سے بچتے رہے۔ انہوں نے بغداد چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور کہا:
“جب حکمران علماء کو خریدنے لگیں تو شہر چھوڑ دینا بہتر ہے، کیونکہ ایسے ماحول میں علم محفوظ نہیں رہتا۔”
اس واقعے کے بعد سفیانؒ ایک شہر سے دوسرے شہر ہجرت کرنے لگے۔ لوگ ان سے پوچھتے:
“حضرت! کیا آپ حکومت سے ڈر کر شہر چھوڑتے ہیں؟”
وہ جواب دیتے:
“میں حکومت سے نہیں ڈرتا، بلکہ اپنے نفس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا کی چمک دمک مجھے دھوکہ نہ دے دے۔ اللہ کے تقویٰ پر قائم رہنے کے لیے کبھی کبھار ہجرت کرنا لازم ہو جاتا ہے۔”
ان کی یہ بات آج بھی کتنے ہی علماء، داعیانِ حق اور سچائی کے طلبگاروں کے لیے درسِ ہدایت ہے۔ سفیان ثوریؒ نے دنیا کی عزت، منصب اور شہرت کو کبھی اپنی دین داری پر غالب نہ آنے دیا۔ انہوں نے نہ صرف حکمرانوں کے دباؤ کو ٹھکرایا، بلکہ اپنے شاگردوں کو بھی یہی وصیت کرتے رہتے:
“عالم کی عزت اس کے علم اور کردار میں ہے، منصب اور قاضی کے عہدے میں نہیں۔”
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے بندے دنیا سے نہیں، بلکہ اپنے ایمان کے کمزور ہونے سے ڈرتے ہیں۔ سفیان ثوریؒ کی زندگی حق پر قائم رہنے، نفس کو قابو میں رکھنے اور شریعت سے ذرہ برابر بھی نہ ہٹنے کی روشن مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امام ابو حنیفہؒ کا عدل و جرأت: قاضی بننے سے انکار کا تاریخی واقعہ
