امام ابو حنیفہؒ کا عدل و جرأت: قاضی بننے سے انکار کا تاریخی واقعہ
امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابتؒ کی زندگی علم، تقویٰ، معاملہ فہمی اور غیر معمولی بصیرت سے بھرپور تھی۔ اگر کوئی ایک ایسا واقعہ تلاش کیا جائے جو ان کے علمی مقام، خدا خوفی اور اصولی کردار کو ایک ساتھ ظاہر کرے، تو قاضی بننے سے انکار اور اس کے نتیجے میں ہونے والی آزمائش کا واقعہ سب سے نمایاں ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک تاریخی حکایت نہیں، بلکہ عدل و حق کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی ایک عملی مثال بھی ہے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ عباسی دور میں جب منصور بادشاہ بنا، اس نے سلطنت میں عدل و انصاف کے سخت تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے قابل ترین فقیہ تلاش کرنا چاہا۔ اس زمانے میں فقہ، حدیث، قیاس اور اجتہاد میں امام ابو حنیفہ کا نام سب سے زیادہ نمایاں تھا۔ امت کے ہر طبقے میں آپ کی علمیت، دیانت اور بصیرت کی شہرت عام تھی۔ منصور نے سوچا کہ اگر ایسا بڑا عالم خلیفہ کا قاضی بن جائے تو سلطنت کی قانونی حیثیت مزید مضبوط ہو جائے گی۔
چنانچہ اس نے امام ابو حنیفہ کو دربار میں طلب کیا اور کہا:
“اے ابو حنیفہ! میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ریاستی قاضیِ اعلیٰ بن جائیں۔”
امام ابو حنیفہؒ نے وہ جملہ کہا جو رہتی دنیا تک ان کی دیانت کا نشان بن گیا:
“اے امیر! میں اس عہدے کے قابل نہیں ہوں۔”
منصور حیران ہوا، بولا:
“تم جھوٹ بولتے ہو! تم سے بڑا کون ہوگا اس کام کے لیے؟”
امام نے پوری جرات سے جواب دیا:
“اگر میں جھوٹا ہوں تو جھوٹے کو قاضی بنانا جائز نہیں، اور اگر سچا ہوں تو میں واقعی اس منصب کے قابل نہیں۔”
بادشاہ تلملا گیا مگر امام کے استدلال کا جواب نہ دے سکا۔ منصور جانتا تھا کہ امام ابو حنیفہ حق کے سامنے کسی بادشاہ کا بھی لحاظ نہیں کرتے۔ قاضی بننے کے نتیجے میں حکومت کی غلطیوں کو جائز قرار دینا پڑ سکتا تھا، اور امام اس کے لیے تیار نہ تھے۔ وہ دل سے جانتے تھے کہ اگر وہ منصب قبول کر لیں، تو ان کا علم، تقویٰ اور فقہی بصیرت بادشاہوں کے ہاتھ میں ایک مہر بن کر رہ جائے گی۔
منصور نے انکار سن کر غصے میں کہا:
“اگر تم نے یہ منصب قبول نہ کیا تو میں تمہیں قید کر دوں گا!”
امام نے نہایت سکون سے جواب دیا:
“آپ مجھے جہاں چاہیں قید کر دیں، مگر میں اپنے دین کے خلاف فیصلہ نہ دوں گا۔”
نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ نے امام کو قید کروا دیا۔ قید خانے میں بھی آپ نے قرآن کی تلاوت جاری رکھی۔ شاگرد ملنے کے لیے آتے تو امام کہتے:
“جو علم اللہ نے دیا ہے اسے پھیلاؤ، حق چھپانے والوں میں شامل نہ ہو جانا۔”
قید کے دوران ایک دن منصور نے دوبارہ قید خانے میں پیغام بھیجا کہ اگر وہ قاضی کا منصب قبول کر لیں تو فوراً رہا کر دیے جائیں گے۔ مگر امام نے پھر وہی جواب دیا:
“میرا دین میرے لیے دنیا سے زیادہ قیمتی ہے، اور میں اس کے معاملے میں کسی رعایت کے لیے تیار نہیں۔”
یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا مقام صرف علمی نہ تھا بلکہ عملی بھی تھا۔ وہ جانتے تھے کہ علم کی اصل عزت اس وقت تک رہتی ہے جب تک صاحبِ علم طاقت کے سامنے جھک نہ جائے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے دنیا بھر کی پرکشش مراعات کو ٹھکرا کر جیل کی سختی قبول کی، لیکن دین کے اصولوں میں ذرّہ برابر کمزوری نہ دکھائی۔
قید کی سختیوں نے انہیں جسمانی طور پر کمزور ضرور کر دیا، مگر ان کا عزم پہاڑ کی طرح مضبوط رہا۔ کچھ روایات کے مطابق مسلسل ظلم و ستم کی وجہ سے ان کی شہادت واقع ہوئی۔ جب ان کا جنازہ نکلا، تو بغداد کی تاریخ میں سب سے بڑا جنازہ شمار ہوا—ہزاروں لوگ ان کے علم اور کردار کے اعتراف میں امڈ آئے۔
امام ابو حنیفہؒ کی یہ داستان آج بھی بتاتی ہے کہ علم کا اصل مقام منصب یا حکومتی طاقت سے نہیں بڑھتا، بلکہ اصول، حق اور ثابت قدمی سے بلند ہوتا ہے۔ اور یہی وہ راستہ ہے جو ہر طالب علم اور داعی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حضرت بایزید بسطامیؒ کا واقعہ — جب بندہ خود کو بھول جائے تو خدا اسے یاد رکھتا ہے
