حضرت بایزید بسطامیؒ کا واقعہ — جب بندہ خود کو بھول جائے تو خدا اسے یاد رکھتا ہے

تعارف

حضرت بایزید بسطامیؒ، جنہیں سلطان العارفین کہا جاتا ہے، صوفیاء کرام میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں۔ ان کی زندگی زہد، معرفت اور فنا فی اللہ کا کامل نمونہ تھی۔ ان کا ایک واقعہ ایسا ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں سب سے بڑی قربانی نفس کی قربانی ہے۔

تفصیلی واقعہ

ایک دن حضرت بایزید بسطامیؒ اپنے مریدوں کے ساتھ ایک ویران مقام سے گزر رہے تھے۔ اچانک انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو تنہا ایک درخت کے نیچے بیٹھا اللہ کا ذکر کر رہا تھا۔ بایزیدؒ قریب گئے اور سلام کیا۔ اس شخص نے سر اٹھایا اور بولا:

“اے بایزید! تمہارا ذکر زمین و آسمان میں مشہور ہے، مگر کیا تم نے خود کو پہچانا ہے؟”

یہ سوال بایزیدؒ کے دل پر بجلی بن کر گرا۔ آپؒ خاموش ہو گئے۔ مریدوں نے حیران ہو کر پوچھا:

“حضرت! آپ جیسے عارف سے ایسا سوال؟”
آپؒ نے جواب دیا:
“یہ شخص سچا ہے۔ میں نے اپنے رب کو پہچانا، مگر اپنے نفس کو نہیں۔”

اس واقعے کے بعد حضرت بایزیدؒ نے خود پر ریاضت، مجاہدہ اور خلوت کو لازم کر لیا۔ چالیس دن کا چلہ کیا۔ چالیس دن کے بعد جب باہر نکلے تو آنکھوں میں عجب نور، چہرے پر عجب جلال تھا۔ ایک مرید نے پوچھا:

“حضرت! آپ کو کیا ملا؟”
آپؒ نے فرمایا:
“مجھے خود کی حقیقت معلوم ہوئی — میں کچھ نہیں، سب کچھ وہ (اللہ) ہے۔”

ایک دن آپؒ بازار سے گزر رہے تھے۔ ایک شخص نے گستاخی سے کہا:

“اے بایزید! تم تو بڑے ولی بنتے ہو، مگر تمہارا چہرہ عام انسان جیسا ہے!”
حضرت نے تبسم فرمایا اور کہا:
“اگر تُو میری حقیقت دیکھ لے، تو خود کو نہ دیکھ سکے۔ میں تو آئینہ ہوں، جو دیکھتا ہے وہ اپنی حقیقت دیکھتا ہے۔”

اسی رات بایزیدؒ نے خواب میں سنا کہ ایک فرشتہ کہہ رہا ہے:

“بایزید! رب تعالیٰ تمہیں مقامِ قرب عطا کرنا چاہتا ہے، مگر اس کی شرط ہے کہ تم اپنے ‘میں’ کو فنا کر دو۔”
آپؒ نے عرض کیا:
“یا اللہ! ‘میں’ باقی ہی کہاں ہے؟ سب تو تیرا ہی ہے۔”

اگلے دن بایزیدؒ ایک گہرے وجد میں مسجد گئے۔ سجدے میں گرے اور کہا:

“اے اللہ! میرا وجود تیرے لیے رکاوٹ بن گیا ہے۔ مجھے مٹا دے تاکہ صرف تو باقی رہے!”
یہ کہتے ہی آپؒ پر بے خودی طاری ہو گئی۔ مریدوں نے دیکھا کہ ان کے چہرے سے نور پھوٹ رہا ہے۔

جب ہوش آیا تو فرمایا:

“میں نے دیکھا کہ میرا وجود ختم ہو گیا، اور ہر چیز میں اللہ کا جلوہ ظاہر ہو گیا۔ میں نے سنا کہ فرشتے کہہ رہے ہیں:
‘فنا بایزید، بقا اللہ!’ یعنی بایزید فنا ہو گیا، اور صرف اللہ باقی ہے۔”

یہ وہ لمحہ تھا جب آپؒ نے فرمایا:

“سبحانی! ما اعظم شانی!” (پاک ہے میرا رب، جس نے مجھے اپنے نور کا مظہر بنا دیا۔)
یہ الفاظ عوام نے غلط سمجھے، مگر اہلِ دل جانتے ہیں کہ یہ “میں” کا دعویٰ نہیں تھا بلکہ عبد میں رب کے ظہور کی کیفیت تھی۔

حضرت بایزیدؒ فرمایا کرتے تھے:

“جب تک بندہ ‘میں’ کہتا ہے، وہ اللہ سے دور ہے۔ جب وہ کہتا ہے ‘تو ہی تو’، تو اللہ اس کے قریب آ جاتا ہے۔”

ایک دن ایک مرید نے پوچھا:

“حضرت! آپ کی سب سے بڑی کرامت کیا ہے؟”
آپؒ نے فرمایا:
“میری سب سے بڑی کرامت یہ ہے کہ میں اپنے نفس پر غالب آ گیا۔”

سبق

حضرت بایزیدؒ کا یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ

  • اصل معرفت یہ ہے کہ بندہ خود کو بھول جائے۔
  • نفس کی فنا ہی اللہ کی قربت کا دروازہ ہے۔
  • جو بندہ اپنی ‘میں’ کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ اسے اپنا بناتا ہے۔