🌿 حضرت ابراہیم بن ادہمؒ — بادشاہت سے زہد تک کا سفر

حضرت ابراہیم بن ادہمؒ بلخ (موجودہ افغانستان کے علاقے) کے مشہور بادشاہ تھے۔ ان کے محل میں ہر طرح کی آسائش موجود تھی۔ خادموں کی قطار، ساز و سامان، سونا چاندی، لشکر اور تخت — سب کچھ تھا۔ لیکن دل کے اندر ایک انجانی بےچینی ہمیشہ رہتی تھی۔ کبھی کبھی وہ رات کے وقت آسمان کو تکتے اور سوچتے: “یہ دولت آخر کب تک میرے ساتھ رہے گی؟” مگر پھر دربار کی مصروفیات انہیں بھلا دیتیں۔

ایک رات وہ محل کی چھت پر آرام کر رہے تھے۔ اچانک ان کے کانوں میں قدموں کی چاپ سنائی دی۔ انہوں نے آواز دی: “کون ہے؟” جواب آیا: “میں اونٹ تلاش کر رہا ہوں۔” ابراہیمؒ حیران ہوئے، بولے: “ارے بھائی! تم محل کی چھت پر اونٹ تلاش کر رہے ہو؟ یہ کہاں ممکن ہے؟”
اس اجنبی نے جواب دیا: “تو بھی اس دنیا کے محل میں خدا کو تلاش کر رہا ہے، کیا یہ ممکن ہے؟”

یہ جملہ ان کے دل پر تیر کی طرح لگا۔ وہ بے اختیار اٹھ بیٹھے۔ صبح ہوئی تو سب سے پہلے دربار کی رونقوں پر نگاہ ڈالی، پھر سر جھکا کر کہا: “جس دل میں خدا کی تلاش ہے، وہاں تخت و تاج کی جگہ نہیں۔” چنانچہ سب کچھ چھوڑ کر تنہا راہِ حق پر نکل پڑے۔

بلخ سے نکل کر وہ ایک فقیر کی طرح سفر کرنے لگے۔ کبھی بیابانوں میں، کبھی پہاڑوں پر، کبھی خانقاہوں میں قیام کرتے۔ دن رات ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتے۔ جو کچھ مل جاتا، شکر ادا کرتے، نہ ملتا تو صبر۔ ان کے چہرے پر ایک نورانی سکون جھلکنے لگا۔ ابراہیمؒ نے کہا: “میں نے بادشاہی میں سکون تلاش کیا مگر نہ ملا، فقر میں آیا تو خدا کا قرب مل گیا۔”

ایک دن ایک شخص نے ان سے پوچھا: “ابراہیم! تم نے اتنی بڑی بادشاہت چھوڑ کر کیا پایا؟” انہوں نے مسکرا کر کہا: “میں نے دل کی بادشاہت پالی۔ وہاں کوئی وزیر نہیں، کوئی خزانہ نہیں، بس رب کا قرب ہے۔”

ان کے زہد اور تقویٰ کا چرچا دور دور تک پھیل گیا۔ لوگ ان کے پاس نصیحت لینے آتے۔ وہ فرماتے: “جو دنیا کی محبت میں ڈوبا ہو، وہ خدا کی محبت نہیں پا سکتا۔ جو دنیا سے بے نیاز ہو جائے، وہی سچا بادشاہ ہے۔”

حضرت ابراہیم بن ادہمؒ کا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل سکون مال و دولت میں نہیں بلکہ دل کے اطمینان میں ہے۔ جس دل میں اللہ کی محبت جاگزیں ہو جائے، وہ فقیر بھی بادشاہ بن جاتا ہے