بلعم بن باعوراء کا واقعہ — علم و عبادت کے باوجود گمراہی کی عبرتناک مثال

اسلامی تاریخ میں بلعم بن باعوراء کا قصہ ان واقعات میں سے ہے جنہیں قرآنِ کریم نے خاص طور پر بطورِ عبرت ذکر فرمایا۔ وہ شخص جو علم، عبادت اور دعا کی قوت رکھتا تھا، لیکن دنیا کی محبت اور نفس کی پیروی نے اسے شیطان کا غلام بنا دیا۔ یہ واقعہ اہلِ علم اور ایمان والوں کے لیے ایک آئینہ ہے۔


📖 تفصیلی واقعہ

بلعم بن باعوراء بنی اسرائیل کے جلیل القدر عالم، زاہد اور عابد شخص تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خاص علم، حکمت اور اسمِ اعظم کے ذریعے دعا کی قبولیت کی طاقت عطا فرمائی تھی۔ وہ اپنے زمانے میں اتنے مشہور تھے کہ لوگ دور دور سے ان کے پاس دعا کرانے آتے تھے۔

یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا ہے۔ جب حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کے ساتھ “ارضِ مقدسہ” (ملکِ شام) کے قریب پہنچے تاکہ اللہ کے حکم سے داخل ہوں، تو اس علاقے کے بادشاہ بالق بن صفور کو خطرہ لاحق ہوا کہ موسیٰؑ اس کی سلطنت پر قبضہ نہ کر لیں۔

بالق نے بلعم بن باعوراء کو بلایا اور کہا:

“اے بلعم! تم تو دعا کے مستجاب بندے ہو، اپنی دعا سے موسیٰ اور ان کے لشکر کو ہلاک کر دو۔”

بلعم نے ابتدا میں انکار کیا اور کہا:

“وہ اللہ کے نبی ہیں، ان کے خلاف بددعا کیسے کر سکتا ہوں؟”

لیکن بادشاہ نے رشوت، دولت اور جاہ کی لالچ دی۔ رفتہ رفتہ بلعم کے دل میں دنیا کی محبت گھر کر گئی۔ آخرکار اس نے دنیا کے فائدے کی خاطر نبی کے خلاف بددعا کے لیے راضی ہو گیا۔

جب بلعم پہاڑ پر چڑھ کر بددعا کرنے لگا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان پلٹ دی۔
جس کے خلاف بددعا کرنا چاہتا، اسی کے لیے دعا نکلتی۔
وہ بار بار بددعا کی کوشش کرتا، مگر زبان الٹ جاتی۔
قوم نے پوچھا: “یہ کیا ماجرا ہے؟”
بلعم غصے میں آ کر کہنے لگا:

“اب میں بددعا نہیں کر سکتا، مگر ایک تدبیر بتاتا ہوں جس سے بنی اسرائیل خود ہلاک ہو جائیں گے۔”

اس نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ اپنی قوم کی عورتوں کو زینت کر کے بنی اسرائیل کے لشکر میں بھیجے۔ اگر وہ گناہ میں پڑ جائیں گے، تو اللہ کی رحمت ان سے اٹھ جائے گی۔

بادشاہ نے ایسا ہی کیا۔ کچھ بنی اسرائیلی عورتوں کے فتنے میں مبتلا ہو گئے، گناہ سرزد ہوا، اور اللہ کا غضب نازل ہوا۔ ایک سخت وبا پھیل گئی جس سے ہزاروں لوگ ہلاک ہو گئے۔

حضرت موسیٰؑ نے اللہ سے دعا کی، قوم نے توبہ کی، اور اللہ نے ان پر رحم فرمایا۔
مگر بلعم بن باعوراء اپنے جرم پر اصرار کرتا رہا۔ اس نے اپنے علم اور دعا کی طاقت کو دنیاوی فائدے کے لیے استعمال کیا اور بالآخر اللہ کی لعنت میں گرفتار ہوا۔

قرآن مجید میں اس کا ذکر یوں آیا:

“اور انہیں اس شخص کی خبر سناؤ جسے ہم نے اپنی آیات دی تھیں، مگر وہ ان سے نکل گیا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا، اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔”
(الاعراف: 175)

اور فرمایا:

“اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیات کے ذریعے بلند کر دیتے، مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا۔ اس کی مثال کتے کی طرح ہے — اگر تم اس پر حملہ کرو تو زبان نکالے، اور اگر چھوڑ دو تب بھی زبان نکالے۔”
(الاعراف: 176)

اللہ تعالیٰ نے بلعم کو عبرت کی مثال بنا دیا — کہ علم و عبادت بھی بے فائدہ ہے اگر نیت میں اخلاص نہ ہو۔


💡 سبق

  • علم اگر عمل کے بغیر ہو تو ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔
  • دنیا کی محبت سب سے بڑی گمراہی ہے۔
  • اللہ کے دوست وہ ہیں جو حق کے ساتھ وفادار رہیں، چاہے دنیا ان کے خلاف ہو۔
  • جو بندہ اللہ کے علم اور نعمتوں کی ناقدری کرے، وہ ذلت میں گرتا ہے۔